285

لاہور میں ایک پیر صاحب کو شراب فروشی کا لائسنس جاری کر دیا گیا

Spread the love

لاہور (کرائم رپورٹر) لاہور کے مشہور کیفے، کیفے ایلنٹو (Aylanto) میں سر عام شراب نوشی بے نقاب ہو گئی جس کے بعد لاہور کےعلاقہ گلبرگ میں واقعہ مشہور کیفے (Aylanto) کو سیل کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے۔ جس میں کیفے (Aylanto) میں موجود شراب کی بوتلوں کو واضح دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر کیفے کی وائرل ہونے والی ویڈیو آپ بھی ملاحظہ کیجئے خیال رہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شراب کی سر عام فروخت اور سر عام شراب نوشی ممنوع ہے جبکہ صرف کچھ فائیو اسٹار ہوٹلز کو شراب کی فروخت کے لائسنس دیے گئے ہیں جبکہ غیر قانونی طور پر شراب فروخت کرنے والے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ رواں برس مارچ میں 22 سال کے بعد لاہور میں شراب کی فروخت کا لائسنس ملا تھا۔ لائسنس محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے جنوری میں ہوٹل کو جاری کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق لاہور میں کسی بھی ہوٹل کو 22 سال بعد شراب فروخت کرنے کا لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ آخری مرتبہ ایسا لائسنس 1997ء میں ایک ہوٹل کو جاری کیا گیا تھا۔ اس لائسنس کے اجرا کے بعد لاہور میں شراب فروخت کرنے والے ہوٹلوں کی تعداد پانچ ہو گئی۔ اس نئے ہوٹل سے بھی صرف غیر مسلموں کو پرمٹ پر شراب فروخت کی جائے گی۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے ذرائع کے مطابق متعدد ہوٹلز اور کلبز نے شراب کی فروخت کا لائسنس جاری کرنے کی درخواستیں دی تھیں لیکن کسی حکومت نے منظوری نہیں دی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ جس ہوٹل کو لائسنس دیا گیا، وہ پیر بگھے شاہ کی ملکیت ہے۔ صوبائی حکومت سے منظوری لینے کے بعد ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اکرم اشرف گوندل نے لائسنس کے اجرا کے احکامات جاری کئے۔ پیر بگھے شاہ کی کمپنی کے ملک کے متعدد ائیرپورٹس پر پارکنگ اسٹینڈ سے لے کر دکانوں کے ٹھیکے بھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں