طاقتوروں، وڈیروں کے قدموں تلے کچلا ہوا انصاف

Spread the love

ایثار رانا پاکستانی صحافت کا ایک معتبر نام ظریفانہ مزاج قلم کی کاٹ تیز اور ہلکا پھلکا طنز بھی ان کے قلم کے کمان سے تیر کی طرح نکلتا ہےان کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جن کے لفظوں کی بازگشت صبح شام ایوانون میں سنائی دیتی ہے مگر وہ خود کبھی ان ایونوں میں دکھائی نہیں دیتے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچ بولنا اور پورا سچ بولنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔(مدیر)

صاحب مضمون: ایثار رانا


صلاح الدین نے اے ٹی ایم توڑی اور مارا گیا ۔ اگر حلف توڑتا، قومی خزانے کے تالے توڑتا، یا کم از کم آئین توڑتا تو آج اے سی شے سی لگا کے موج میلا کررہاہوتا۔ قوم اسکے غم میں بلکتی میڈیا اسکے ماتھے کی شکن سے ہلکان ہوتا۔ اسکی بیماری سے جمہوریت کو جان کے لالے پڑ جاتے۔ صلاح الدین یقیناً پاگل تھا ورنہ وہ پکڑا نہ جاتا۔ نیب سے لے کر ایجنسیوں تک مبنی جے آئی ٹیز اسکے دامن پہ ایک چھینٹ اور خنجر پہ ایک داغ تک تلاش نہ کرپاتیں۔ پاگل تھا تو اسکا ادھڑا جسم اسکے بوڑھے باپ کے لرزیدہ ہاتھوں سے سنبھالا نہیں جارہا تھا۔

خیر اس کم نصیب کو جوان لاشے اٹھانے کی عادت ہے۔ وہ پہلے ہی دو جوان بیٹے کشمیر میں گنوا بیٹھا ہے۔ کشمیر میں ایک ‘کاز کے لیے جانیں دینے والے شہید کہلاتے ہیں۔ اب پتہ نہیں اسے شہدا کا باپ قرار دیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ حبس بڑھ رہا ہے سانس لینا دشوار ہوتا جا رہاہے۔ حیرت ہے کوئی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا چلنے پہ تیار نہیں۔ ہر طرف خاموشی ہے اندھے بہرے گونگوں کے معاشرے جیسی خاموشی۔ مہذب معاشرہ ہوتا تو ماڈل ٹائون اور ساہیوال جیسا سانحہ ہوتا اور مجرم بچ سکتے تھے؟ ہم نے ملوث افسروں کو ترقیاں دیں انہیں صاف بچا لیا۔ وہ منہ کھولتے تو بہت سے ‘ایلیٹ کلاسئے مارے جاتے۔ جب بے انصافی اس حد تک بڑھ جائے توپھر صلاح الدین تو مرینگے ہی۔

ویسے بھی ان جیسوں نے جی کے بھی کیا کرلینا ہے۔ اب بھی اذیت سے مرے بعد میں بھی اذیت سے مرتے۔ دولت کے انبار پہ بیٹھ کے ائر کنڈیشنڈ کانفرنس ہالوں میں غریبوں کی باتیں کرنا انصاف کا بول بالا کرنا اور ریاست مدینہ کا خواب دیکھنا بہت دلفریب، لیکن ٹارچر سیلوں میں دہائیاں دیتے مرجانا بہت ہولناک ہوتا ہے۔ وزیراعلی بزدار ویسے تو ایک سال میں کوئی بڑی اننگز نہیں کھیل سکے میں انہیں وسیم اکرم نہیں منصور اختر قرار دیتا ہوں۔ خیر دعا تو میری یہ بھی ہے کہ وہ جاوید میانداد بنیں جس نے عمران خان کو عمران بنایا۔ لیکن اس کے لیے ایک لمبی ریاضت طویل مشقت اور نیک نیتی چاہئے۔ لیکن انکے گرد جو ٹیم ہے وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ شارجہ کا چھکا لگائیں۔

آخر میں صلاح الدین کی والدہ سے میری التجا ہے ماں جی آپ کا دل دکھی نہیں ……….. دل ہوگا تو دکھے گا۔ دل تو تین بیٹوں کے جانے سے آنسووں میں پگھل گیا ہوگا، لیکن پھر دل صاحب اولاد سے انصاف طلب تو ہوگا۔ لیکن میں بتا دوں آپکو ایسی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ یہ ایک بے برکت معاشرہ ہے جہاں انصاف طاقتوروں وڈیروں کے قدموں تلے کچلا جا چکا ہے۔ میرا سر ندامت سے جھکا ہے آپ ماں ہیں ہم سب کی ماں۔ اللہ ’’ماڑوں‘‘ کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ ہمیں معاف کردیں اور اللہ سے اس قوم کے بچ جانے والے صلاح الدینوں کی زندگیوں کی خیر مانگ لیں۔ آپکا صلاح الدین چلا گیا اللہ باقیوں کو قانون کے نام پہ زندگیوں سے کھیلنے والے وحشیوں سے محفوظ رکھے۔

آخری بات اس ملک کے کرتا دھرتا وقت ملے تو اس لمحہ کو ضرور سوچیں جس میں صلاح الدین منہ چڑا رہا ہے۔ صلاح الدین اس نظام کو منہ چڑا کے گیا ہے۔ جس میں یہ طاقتور طبقہ غریبوں کے حقوق سلب کرتا ہے ان کے بچوں کو بھوکا مارتا ہے۔ اپنے بچوں کا مستقبل سونے ہیرے سے مزین کرتا ہے ملک ملک دولت کے انبار جمع کرتا ہے۔ زمینیون فیکٹریوں پہ قبضے کرتا ہے۔ ٹی ٹیوں لانچوں سے پیسے اکھٹے کرتا ہے۔ اور پھر جیلوں کی کوٹھڑیوں ہسپتالوں کے گنگ کمروں میں دوائیاں کھاتے مرجاتے ہیں۔ لاٹھیاں تھامے سلو۔موشن میں چلتے چلتے مرجاتے ہیں

Leave a Reply