156

بینک میں سود پر جمع رقم پر تنظیم المدارس کے علما تقسیم، مفتی منیب الرحمن کو ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

Spread the love

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا،خطاب کر رہے ہیں ان کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے سابق رکن اور جے یو پی کے سینئر نائب صدر پیر سید محفوظ مشہدی، مدارس ایکشن کمیٹی کے کنوینر پیر سید واجد گیلانی، ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، مفتی مشتاق احمد نوری، صاحبزادہ حسین رضا، علامہ راحت عطاری، مفتی ظفر جبار ساتھ بیٹھے ہیں

دو سو مدارس کے نمائندوں نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا

جعلی الیکشن روکنے کے لئے عدالت جائیں گے۔ مدارس کی اکثریت مفتی منیب الرحمن کے خلاف ہے۔پریس کانفرنس

لاہور(نامہ نگار)تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان میں تقسیم واضع ہو گئی۔ تنظیم المدارس کے موجودہ صدر مفتی منیب الرحمن کے خلاف بغاوت کرکے’’ مدارس اہل سنت ایکشن کمیٹی‘‘ بنانے والے علما اور دو سو مدارس کے نمائندوں نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا اور 14 ستمبر کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں پہلا مدارس کنونشن طلب کر لیا۔ مطالبات پورے نہ ہونے تک تنظیم المدارس کا الیکشن کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ تنظیم المدارس کو قبضہ گروپ سے آزاد کروایا جائے گا۔ جعلی الیکشن روکنے کے لئے عدالت جائیں گے۔ مدارس کی اکثریت مفتی منیب الرحمن کے خلاف اور ہمارے ساتھ ہے۔

اس بات کا اعلان سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا، پنجاب اسمبلی کے سابق رکن اور جے یو پی کے سینئر نائب صدر پیر سید محفوظ مشہدی، مدارس ایکشن کمیٹی کے کنوینر پیر سید واجد گیلانی، ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، مفتی مشتاق احمد نوری، صاحبزادہ حسین رضا، علامہ راحت عطاری، مفتی ظفر جبار چشتی نے سینکڑوں علماء کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اہل سنت راہنماؤں نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم المدارس کے موجودہ عہدیداران کو تنظیم کے معاملات سے الگ کر کے عبوری انتظامیہ قائم کی جائے جو تین ماہ کے اندر شفاف الیکشن کروائے۔ غیر جانبدار افراد پر مشتمل انتخابی کمیٹی قائم کی جائے۔ طالبات کے مدارس کی خواتین ناظمات کو ووٹ کا حق دیا جائے۔ موجودہ عہدیداران سے تنظیم المدارس کے دفاتر خالی کروائے جائیں۔ تنظیم المدارس کے بینک میں جمع کروائے گئے 25 کروڑ واپس لئے جائیں کیونکہ رقم فکس کر کے بینک سے منافع لینا سود کے زمرے میں آتا ہے۔

تنظیم المدارس کے مرکزی الیکشن کے لئے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں الگ الگ پولنگ اسٹیشن قائم کئے جائیں۔ ووٹرز لسٹ کی چھان بین کے لئے کمیٹی بنائی جائے۔ پریس کانفرنس میں صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ تنظیم المدارس میں چند افراد کی من مانی نہیں چلنے دیں گے۔ 2008 کے بعد تنظیم المدارس کی مرکزی شوری کا اجلاس تک نہیں بلایا گیا جبکہ مجلس عاملہ کے فیصلوں کی مرکزی شوری سے توثیق کرانا ضروری ہے اس لئے تنظیم کے تمام امور و عہدے غیر آئینی ہیں۔

پیر سید محفوظ مشہدی نے کہا کہ مفتی منیب الرحمن نے پچھلے دو الیکشنوں کے موقع پر آئندہ صدر کا امیدوار نہ بننے کا اعلان کیا تھا اب انھیں اپنا وعدہ پورا کرنا چاہئے۔ تنظیم المدارس پر مخصوص ٹولہ مسلط ہے۔ تنظیم المدارس کی موجودہ قیادت نااہل ہے۔ ہمیں مدارس کی اکثریت، جیّد علماء اور اہل سنت کی سیاسی قیادت کی حمایت حاصل ہے۔ ہم تنظیم المدارس کو مفاد پرست ٹولے سے آزاد کروانے کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں