خوابِ پرستان اور کنٹرولڈ میڈیا

Spread the love

انٹرنیٹ تک رسائی سے قبل جدید اطلاعاتی نظام اور تعلیم و ترقی کی رفتار ہمارے ہاں برصغیر پاک و ہند میں مسلمان کہلوانے والے بادشاہوں کی حکمرانی کے دوران ترقی جیسی رہی۔ تعلیم بھی مدارس و مکاتب میں تعلیم دی گئی جس میں فارسی کا کلیدی کرداررہا اور جنہوں نے ہجرت کی، بہتر علوم حاصل ہی نہیں کئے بلکہ دنیا آج بھی ان سے استفادہ کرتی ہے، دوسری بڑی جماعت صوفیا ئے کرام کی رہی جنہوں نے بد ترین سماجی تقسیم کے دوران انسانیت اور اتحاد کا عملی درس دیکر معاشرے کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔

تقسیمِ ہند کے بعد بھی پاکستان میں ترقی کا عمل سیاسی اور سماجی جملہ وجوہ کی بنا پر سست رہا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتاب تک رسائی آسان کے بجائے مشکل بنائی جاتی رہی لیکن مطالعے پرمعاشی کمزروری کے’’ایٹمی دھماکے‘‘ تابکاری اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

پاکستان میں اندرونی و بیرونی عامل اور مذہبی انتہا و شدت پسندی جیسے مشکل ترین حالات صحافی برادری نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور اس ملک کے عوام کو سنہ انیس سو پچاس میں پی ایف یو جے کا دستور دیکر باور کرایا کہ ملک میں آئین بن سکتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے، پی ایف یو جے کے دستور میں اظہارِ رائے کی آزادی، بنیادی انسانی حقوق، شہری آزادیوں کو نصب العین قراردیا گیا اور ساتھ صحافیوں کے لئے ضابطہ اخلاق بھی دیا گیا جس میں عامل صحافی کے لئے پیشہ وارانہ دیانتداری لازم قراردی گئی، سیاسی،مذہبی، فرقہ ورانہ لسانی اور گروہی دھڑے بندی کی نفی کرتے ہوئے ان کا حصہ بننا ممنوع قراردیا گیا۔

صحافی ذہنی پسماندگی کا شکار ہوئے بغیر تعصب سے بالاجب تک کتاب اور جدوجہد سے جڑے رہے، متحد رہے ملک میں آزادی اظہارِ رائے کی راہیں مسدود کرنے والوں کی مزاحمت بھی جاری رہی لیکن جیسے جیسے وہ منتشر ہوتے گئے، مطالعے سے زیادہ غیر منطقی محض جواب الجواب کی بحث میں پڑے، منطق اور حقائق کے ساتھ بامقصد گفتگو کرنے والوں کی تعداد کم ہوئی توصحافتی زوال کے ساتھ پاتال میں چلے گئے۔

اس زوال کے دیگر اسباب بھی ہیں لیکن مطالعے اوریکطرفہ، متعصب مطالعے کے ساتھ ساتھ مطالعے سے دوری نے بھی صحافیوں کے اتحاد اور جدوجہد کو نقصان پہنچایا البتہ کچھ لوگ صاحبِ ثروت ضرور ہوگئے جو حقیقی صحافت کرنے والوں کے لئے اپنے اخلاص پر برقرار رہنے کے لئے بھی ایک سبق تھا مگر یہ سبق حاصل کرکے ان لوگوں کا سماجی بائیکاٹ نہیں کیا گیا (یہی حالت معلم کی بھی رہی) بلکہ یہ صاحب ثروت اپنا ٹولہ بڑھاتے گئے، پھر یہ جتھا اور اب تو لشکر بن چکا ہے جسے صحافتی اقدار اور وقار کے احترام کے بجائے ان دونوں سے شدید نفرت اور دولت سے محبت ہے، یہی ان کا پرچار اور عہدِ رفتہ پر قائم رہنے والوں کی حوصلہ شکنی کا ماحول پیدا کرنے کی کوششیں ان کا ’’جہاد‘‘ ہے۔

دیانتداری سے بات کی جائے تو اس وقت اُس معاشرے مین کنٹرولڈ صحافت ہے جہاں اظہارِ رائے کی سب سے زیادہ جدوجہد کی گئی، قیدو بند اور کوڑوں کی صعوبتیں جھلی گئیں، فاقے کاٹے گئے۔ کنٹرولڈ میڈیا جرنلزم نہیں فاشزم ہے اور کیپٹلزم کا خاصا ہے۔

سوال یہ ہی کہ کنٹرولڈ صحافت کے لئے جدوجہد کی گئی تھی؟ ہرگز نہیں، پھرکنٹرولڈ میڈیا کیسے بن گیا اور کس نے بنایا ………..؟ یہاں جمہوری مذہبی اور ریاستی و صحافتی نمائندے اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں بنیادی بات صحافیوں کا عہد رفتہ پر قائم نہ رہنا ہے، معاشی مجبوریوں کا ’’پل صراط‘‘ استقلال کی مضبوط رسی کے ذریعے عبور کیا جاسکتا ہے مگر یہ راستہ چھوڑ دیا گیا، اس کی وجہ بھی صحافی اور دانشور خود ہیں جنہوں ماضی نظر انداز کردیا اور نئے آنے والوں کو جدوجہد کے درخشاں باب سے تاریکی میں رکھا۔

کنٹرولڈ میڈیا پہلے صرف ریاستی اداروں (جمہوری و غیر جمہوری) کی ضرورت تھا، اب میڈیا مالکان خود اس پھندے میں پھنس چکے ہیں۔ یہ پھندا کسی کے گلے کا ہار ہے تو کچھ اسے پھانسی کا پھندا بھی قراردیتے ہیں جن کی تعداد بہت کم ہے۔ اظہارِ رائے جن کی ضرورت ہے انہی قوتوں نے اظہارِ رائے کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو کمزور کیا۔

اب اگر اخبارات کے صفحات اور سکرین پر صحت مند معاشرے کی تشکیل، سماجی و معاشی ناہمواریوں پر غیر جانبدارانہ اور دیانتدارانہ مواد نہیں ملتا تو اس کی بڑی وجہ میڈیا مالکان خود ہیں جو اینٹی سوسائیٹی میڈیا پالیسی چلا رہے ہیں، انہیں صرف اپنے معاشی مفادات عزیز ہیں، کنٹرولڈ میڈیا کی ایک سب سے بڑی وجہ صحافیوں کی تقسیم ہے، اس تقسیم میں کنٹرولڈ میڈیا پالیسی چلانے والوں نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔ملٹی نیشنل کمپنیاں سماج کو جس ڈگر پر مرضی چلائیں، کسی بھی ائیٹم کا معیار بھلے کتنا ہی ناقص کیوں نہ ہو، جو مرضی ریٹ مقرر کریں، اُن پر سوال اٹھانے والا میڈیا تو ان کی تشہیر کرتا ہے، وہ ان کا حصہ ہے، اگر کسی کا حصہ نہیں ہے تو معاشرے کا حصہ نہیں۔۔
آج کنٹرولڈ میڈیا پر مختلف فورمز پر بات کی جاتی ہے لیکن کارکنوں کے جملہ قانونی اور معاشی حقوق پر بات نہیں کی جاتی۔ سیاسی جماعتیں کہاں کھڑی ہیں؟ خود حکومت اور ریاستی ادارے کہاں کھڑے ہیں؟ سب کے بیانیے بلیک میلنگ اور منافقت کی چغلی کھاتے ہیں، کارکنوں کی جب بھی بات ہوتی ہے تو فاشسٹ و کیپٹلسٹ اکٹھے ہوجاتے ہیں، کوئی متحد نہیں ہوتا تو میڈیا کارکن ہی متحد نہیں ہوتے، جو تحریکی سے زیادہ تفریحی ہو گئے ہیں۔

یہ تفریح انہیں اس وقت اوندھے منہ گراتی ہے جب کیپٹلسٹ فائر ہوتا ہے۔ یہ فائرنگ آئے روز ہوتی ہے جس کی زد میں آکر مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے، جب یہ فائرنگ ہوتی ہے تو تفریح طبع تکلیف کی حالت میں جیسے اللہ، ماں اور باپ کو یاد کرتے، پکارتے ہیں ویسے ہی انہیں تحریکی ساتھی یاد آتے ہیں اوران سے رجوع کرتے ہیں۔

کنٹرولڈ میڈیا چلانے اور چاہنے والے کتنے عناصر ہیں جو خود بھی بلیک میلنگ کا شکار ہیں؟ کن کن مقامی عالمی اور ان دیکھی قوتوں کے سامنے سرنگوں ہیں؟ ابھی یہ سوال چھوڑتے ہیں۔ یہ سوال تو احتساب کی جانب لے جائے گا، کمزور سماجی غداری، غلامی کی نشاندہی کردے گا جبکہ ہم تو بہت بڑے طاقتور ہونے کے دعویدار ہیں، شملہ سے پاؤں پر گرجائے گا۔

میڈیا کارکن اپنے قانونی حقوق کی بجائے میڈیا مالکان کی مجبوریاں بیان کرنے والے سے آگاہ ہوں،صحافی مطالعے سے دور نہ ہو، قارئین، سامعین اور ناظرین تعصب سے بالا ہو کردیانتداری سے لکھے اور بولے جانے والے مواد کا موازنہ کریں تو وجہ ہی نہیں کہ تصویر کا اصل رُخ پوشیدہ رہے۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جبکہ تیز ترین اطلاعات کا جدید ترین مواصلاتی دور ہے پھر ہم مسلمان کہلوانے والے بادشاہوں کے (انسانی ترقی سے دُور) دور میں کیوں رہنا چاہتے اور الف لیلہ کی کہانیاں پڑھتے، سنتے ہوئے پرستان کا خواب دیکھتے ہیں؟ کہانیاں سنانے، خواب دکھانے والے تو آپ کا وقت لے چکے؟ آپ کب ان کہانیوں کے سحر سے نکلیں گے؟ اس سے کہیں بہتر اور حقیقی سحر علم اور شعورو و ادراک کا ہے جس میں کنٹرولڈ میڈیا یا ایسا تصور رکھنے والے اثر انداز نہیں ہوسکتے، نہ ہی کنٹرولد میڈیا کی حمایت کرنے والے۔

کنٹرولڈ میڈیا کی تعریف اور خواہش الگ الگ ہیں، ضابطہ اخلاق کے تحت چلنے والا میڈیا بھی کنٹرولڈ میڈیا ہے اور ڈنڈے کے بل پر ضرورت پوری کرنے والا بھی کنٹرولد میڈیا ہے، معاشرے کی اصل شکل دکھانے والا میڈیا ہی اصل میڈیا ہے جبکہ اپنی حیثیت میں وہ بھی کچھ سماجی، تہذیبی پابندیوں میں کنٹرولڈ ہوتا ہے، مادر پدر آزاد نہیں ہوسکتا۔

سنہ انیس سو پچاس میں بنائے جانے والے پی ایف یو جے کے آئین، اس میں قراردیے جانے والے نصب العین، طے پانے والے ضابطہ اخلاق اور عشروں کی جدوجہد سامنے رکھی جائے تو کارکنوں کامعاشی قتلِ عام اور میڈیا مخصوص خواہشات کے تابع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے جو معاشرتی بہتری اور قوم ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔

Leave a Reply