کشمیر میں مظالم، سعودی عرب اور اسرائیل بھی شامل۔۔۔؟

Spread the love

چار دہائیاں پہلے چوری چھپے سینما میں ’دس لاکھ سال قبل مسیح‘ ٹائٹل والی فلمیں دیکھا کرتے تھے، پھر رومانوی فلمیں دیکھنے لگے، ان کی جگہ فکشن فلموں نے لے لی اور پھر انڈر ورلڈ کی فلموں نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ان تمام فلموں میں کہیں تھوڑی اور کہیں بہت زیادہ مار دھاڑ ہوتی لیکن انڈر ورلڈکی فلموں نے باقی ساری فلموں کو پیچھے چھوڑ دیا، ان فلموں میں انسان کی حیثیت، اوقات بس ٹارگٹ کے حصول تک اہم ہوتی ہے۔۔۔

انڈر ورلڈ کی فلموں اور کیپٹل ازم میں کوئی خاص فرق نہیں ایک سادہ اور دوسرا پر تشدد ایجنڈا ہے۔ اس مین جہاں ضرورت پرتی ہے مذہب کا استعمال کیا جاتا ہے جہاں نسانی اور بنیادی حقوق سے کام چلے وہاں اس کا فلسفہ یاد کرایا جاتا ہے۔

کیپٹل ازم کے ساتھ ساتھ مذہبی رنگ اور مخاصمت کبھی ختم نہیں ہوئی، اس میں دین اسلام واحد مذہب ہے جو کیپٹل ازم کی سپورٹ نہیں کرتا اور نہ ہی سرمایہ بنانے یا جمع کرنے سے روکتا البتہ اس کا طریقِ کار مختلف ہے یعنی ہمسایہ بھوکا ہونے کی صورت میں نہ عید جائز ہے اور نہ ہی حج مناسب ہے۔ ان شرائط میںسرمایہ دارانہ نظام یا کیپٹل ازم کی نفی ہوتی ہے۔ کیپٹل ازم کا اصول ہے کہ بس اپنا سرمایہ بناؤ بھلے دوسرے فاقوں مر جائیں۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ کیپٹل از پر یقین رکھنے والے اسلام کے مخالف ہیں، انہی لوگوں نے سوشل ازم کی بھی مخالفت کی اور مذہب کی آڑ لی۔ اگر غور کیا جائے تو کیپٹل ازم کی قدیم شکل ساہوکاری اور سودی نظام ہے جس کی اسلام شدید مخالفت کرتا ہے۔

یہ مذہبی اور سماجی گفتگو کسی مولوی کی تقریر تو ہوسکتی ہے لیکن ایک رپورٹر کی ڈائری شائد تسلیم نہ کی جائے لیکن اس سے انکار بھی ممکن نہیں کیونکہ ڈائری میں رپورٹر واقعات کے ساتھ مشاہدات بھی لکھ سکتا ہے۔

ان دنوں پوری دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی مودی سرکار کی ہٹ دھرمی اور نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر واویلا کررہی ہے جس میں خود ہندوستان کے دردِ دل رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں لیکن انتہا پسند خونیں مودی سرکار کسی کو خاطر میں نہیں لارہی جس کا نتیجہ دن بدن بھیانک چہرہ دکھا رہا رہا۔
مودی چونکہ انتہا پسند اور اسلام دشمن ذہنیت رکھتا ہے جس کا عملی اظہار انہوں نے گجرات کے فسادات میں بھی کیا تھا، کچھ ملکوں نے مودی پر اپنی زمین پر قدم باطل قراردے رکھا تھا لیکن انہی ملکوں نے بعد میں سرخ قالین بچھا کر مودی کاستقبال بھی کیا۔ یہ غیر مسلم ملک تھے، اب تو کلمہ طیبہ پڑھنے، خانہ کعبہ اور روضہ رسولﷺ کے خادمین ہونے کے دعویداروں نے اسی مودی کو گلے لگا کر باور کروایا ہے کہ کلمہ گو کشمیریوں پر ظلم کرنے والا مسلمانوں کا دشمن انہیں کتنا عزیز ہے۔

یہ حکمران وہی ہیں جن کے بڑوں نے تاریخ مسخ کرنے کے لئے ملک کا نام ہے اپنی نسل کے سے منسوب کرکے سعودی عرب رکھ دیا ہے ورنہ کوئی بتائے کہ تاریخ میں سعودی عرب کے نام کا کوئی ملک یا ریاست کہیں وجود رکھتی تھی؟ آلِ سعود کون ہے؟ تاریخ اس کو یہودیوں سے ملاتی ہے جو قبلہ اول پر قابض ہیں اور بھارت کے بہت بڑے سپورٹر ہیں، اسرائیل نے کچھ عرصہ قبل پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ اس کا پائلٹ اس کے حوالے کیا جائے جس کو بمبار طیارے میں کشمیر سے ملحقہ پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی کرنے پر پکڑا گیا تھا حالانکہ اسی جرم میں پکڑے جانے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو پاکستان نے پورے سفارتی اداب کے ساتھ آزاد کرکے بھارت کے حوالے کیا تھا۔ یہ بھارت کی بڑی شکست تھی۔

اس کی کامیابی یہ تھی کہ پاکستان نے حملہ آور کو اس کے حوالے کردیا تھا لیکن (اگر اسرائیلی مطالبہ درست ہے تو) اسرائیلی پائلٹ نہیں چھوڑا جس پر پاکستان کی دُکھتی رگ مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی ایما پر بھارت نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی چارٹر کی نفی کرتے ہوئے سخت ترین چڑھائی کردی۔

کشمیر کو عمومی طور پر زمین کے ٹکڑے کا تنازع سمجھا جاتا ہے جو بڑی حدتک درست ہے لیکن کیا یہ بھی درست نہیں کہ ہندوؤں کی بڑی تعداد کشمیر میں ہی مسلمان ہوئی جنہیں انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے اس ’غداری‘ کی سخت ترین سزا دی جارہی ہے اور ان کی نسل کُشی کی جارہی ہے جبکہ کشمیر پر فوج کشی سے لیکر قیدو بند کی صعوبتیں نئی نہیں لیکن جو کچھ اب ہورہا ہے ماضی میں ایسا نہیں ہوا۔

ان حالات میں نہتے کشمیریوں کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے پاکستان پر بھارت کے خلاف جہاد لازم ہوگیا ہے کیونکہ پاکستان ہی قریب ترین اسلامی ملک ہے جس پر مسلمانوں کی چیخ و پکار سن کر ان کی مدد لازم ہے لیکن جہاد کے حالات اور وسائل بہر حال ہمسائے نے ضرور دیکھنے ہیں۔

جہاد کے حوالے سے کراچی سے لاہور تک سفر کے دوران ایک بزرگ کی گفتگو یاد آگئی جو افغان جہاد، جنرل ضیا اور ذولفقار علی بھٹو کے بارے میں تھی۔ وہ بزرگ (بقول ان کے) جنرل ضیا کے ہم عصر افسر تھے، طویل مارشل لا کے باعث جن فوجی افسروں کو اگلی ترقیاں نصیب نہیں ہوئیں تھیں وہ ان میں شامل تھے جبکہ اس سے پہلے دونوں جنگوں میں خدمات انجام دے چکے تھے، ٹرین کے سفر کے دوران افغان جہاد کو پاکستان کی غلطی قرار دے رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ ان کی دانست میں پاکستان کو ایک سازش کے تحت اس میں جھونکا گیا تھا، ان کے مطابق پاک فوج ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی بھی نہیں دینا چاہتی تھی کیونکہ ذولفقار علی بھٹو نے جنگی قیدی چھرانے کے ساتھ ساتھ کشمیر پالیسی جاری رکھی تھی اور فوج اس پالیسی کی حامی تھی مگر سعودی عرب کے آشیر باد سے جنرل ضیا نے اپنے راستے کا کانٹا صاف کروایا، جس کی پلاننگ بھی جنرل ضیا نے خود کی تھی اور شاہ فیصل کی ایک ویڈیو بھی بنائی جو شاہ خالد کی خدمت میں یہ کہہ کر پیش کی یہ ویڈیو ذوالفقار علی بھٹو نے مناسب وقت پر بلیک میل کرنے کے لئے بنوائی تھی جبکہ اس سے پہلے بھٹو اسلامی سربراہی کانفرنس کرواچکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھٹو اور شاہ فیصل کے تعلقات کا عالمی چرچا تھا اور وہ بھٹو کی پھانسی سے چار سال پہلے قتل بھی کیے جاچکے تھے، اس مبینہ ویڈیو کی بنیاد پر بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے کے لئے اس سعودی عرب سے اجاز ت حکم کے انداز میں مل گئی جہاں سے بھٹو کو پھانسی نہ دینے کی سفارشوں کی اطلاعات تھیں۔ اور پھر دیگر وجوہ کے ساتھ ساتھ اس مبینہ ویڈیو کو بھی بھٹو خاندان کی سعودی عرب مخالفت کا باعث سمجھا جاتا ہے جس میں افغان جہادی گروپوں کی مدد سے بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کی کوششیں اور عورت کی حکمرانی ناجائز قرار دینے کے تحریک بھی شامل ہے۔

اس بزرگ کے مطابق پاک فوج میں جو لوگ بھٹو کو صرف جنگی قیدی چھڑانے اور کشمیر پالیسی کی وجہ سے پھانسی دینے کے مخالف تھے انہیں چن چن کر فارغ کردیا گیا۔

اس سعودی عرب سے کلمہ گو پاکستانیوں کو نکال کر بھارتی افرادی قوت کو روزگار کے مواقع بڑھائے گئے۔ وہ سعودی عرب اگر آج کشمیریوں جہاں سنی اور شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے، جو اس کے ہم مسلک نہیں ان کی اسے پروا نہیں، کے قاتل کو پھول پیش کرتا ہے تو اچنبھے کی بات نہیں ہونا چاہئے۔

بزرگ مسافر کی کہانی میں کتنی صداقت ہے، میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن وہ جس تسلسل کے ساتھ کہانی سنا رہے تھے یوں لگ رہا تھا کہ میں اندر ورلڈ کی فلم بلا ٹکٹ اعلیٰ درجے کی سیٹ پر کسی خلل کے بغیر دیکھ رہا ہوں اور اسی کے مناظرمیں کشمیریوں کا گرتا ہوا خون، بچوں، خواتین کی چیخ و پکار، مسجدیں بند کرنا سب کا سب انڈر ورلڈ کی فلمی کہانی اور لارنس آف عریبیہ کا نیا سین دکھائی دیتا ہے جس میں اسرائیل اور بھارت رِنگ کے کلیدی کھلاڑی ہیں اور پاکستان کے عوام اس فلم میں جذباتی بے بس آنسو بہاتے، نعرہ لگاتے فلم بین ہیں جو سینما ہال میں بھی کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں اور کمزور دل فلم بین گھر آنے تک فلم کے انسانیت سوز مناظر پر صرف افسردہ ہی نہیں آنسو بہا رہے ہوتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو رو رو کر کہانی سناتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ رونے والوں کو ہم دیوار (سینما) کے ساتھ لگے ہی چھوڑ آئے ہیں، اس وقت کشمیریوں کی حالت بھی ایسی ہے کہ اقوامِ عالم بھی تماشائی بنی دکھائی دیتی ہے جو ولن کے سامنے پَر مارنے سے کترارہی ہے اور باقی لوگ بھی ولن کی بدمعاشی اور بڑھکوں کے دوران خاموشی سے صرف اپنی اپنی دکانوں پر توجہ مرکوز ہوئے اپنے سامان اور گاہکوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

Leave a Reply