گذشتہ 19روز میں بھارت کے 700 فوجی مر چکے ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل

Spread the love
Image result for ‫بھارتی فوجی لاشیں‬‎

بھارت کے مختلف ہندئوئوں کے گھروں میں ماتم شروع ہوگیا ،انکشاف

اسلام آباد(نامہ نگار ) اقوام متحدہ کی نمائندہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ 19روز میں بھارت کے 700 فوجی مر چکے ہیں، بھارت بڑے پیمانے پر انسانی قتل عام کرسکتا ہے ،مقبوضہ وادی میں 19روز کرفیو کے باعث انسانی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی جبکہ اشیاء خوردونوش سمیت میڈیکل کی سہولت کو بھی کشمیری ترس گئے

جمعہ کے روز بھی مقبوضہ وادی میں مساجدوں اور عبادت گاہوں کے باہر تالے بھارتی فوج کی تعیناتی مزید سخت کردی ،انٹرنیٹ ،ٹیلیفونک نظام گزشتہ 19روز سے منقطع ہے ،بھارت مقبوضہ وادی میں نسل کشی کیلئے مزید ہندو انتہا پسند آر ایس ایس کے غنڈوں کو وادی میں بھیج رہا ہے جو کہ تشویشناک صورت اختیا رکرسکتا ہے ۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا یورپین دورے کے دوران میڈیا کی توجہ ہٹانے کیلئے وادی میں نسل کشی کیلئے 50ہزار سے زائد آر ایس ایس کے غنڈوں نے آپریشن شروع کردیا ، اقوام متحدہ کی جانب سے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارت کو فوری کرفیو ہٹانے کا کہا گیا تھا مگر اس کے باوجود کرفیو تاحال لگا رکھا ہے

لوگوں کے گھروں سے چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہورہی ہیں ،بھارتی فوجیوں کا ظلم عروج پر ہے، گزشتہ روز ہندو انتہاء پسند آر ایس ایس کے 170سے زائد درندو ں نے مقبوضہ کشمیر کی معصوم لڑکیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی جس پر کشمیریوں نے 170 تمام فوجیوں کو ہلاک کردیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا انکشاف کیا کہ بھارتی حکومت نے اپنے ہی آر ایس ایس کے غنڈوں کو فوجی ماننے سے انکار کردیا جس کے بعد بھارت کے مختلف ہندئو ں کے گھروں میں ماتم شروع ہوگیا، مودی کے خلاف شدید احتجاج اور مظاہرے کئے گئے۔

جبکہ بھارتی حکومت عالمی میڈیا اور اقوام متحدوں کو 170 فوجیوں کی لاشیں دکھانے اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنے سے کیوں خاموش ہیں؟ دراصل بھارتی فوجیوں کی وردیوں میں ملوث آر ایس ایس کے غنڈوں کا پردہ فاش ہورہا ہے۔ اقوام متحدہ فوری طور پر بھارت پر پابندی عائد کرے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف ظاہر کیا کہ بھارت بڑے پیمانے پر جلد ہی انسانی قتل عام کرسکتا ہے جس کے لئے بھارتی حکومت نے اپنے غنڈوں کی مدد سے چار زونز میں فورس تیار کررکھی ہے جس میں زیادہ تر آر ایس ایس کے غنڈے ملوث ہونگے۔

Leave a Reply