118

وزارت تجارت نےایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی رپورٹس کو من گھڑت قرار دیدیا

Spread the love

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر )وزارت تجارت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ذیلی

تنظیم ایشیا پیسفک گروپ کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کے

حوالے سے بھارتی میڈیا کی رپورٹس کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دے دیا۔

خیال رہے کہ بھارت کے مختلف خبررساں اداروں میں نشر اور شائع ہونے والی

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے تاہم ان

خبروں کے ذرائع کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔اے پی جی نے حال ہی میں

آسٹریلین دارالحکومت کینبرا میں مالیاتی اور انشورنس کے شعبے میں نظام کی

بہتری کے سلسلے میں پاکستان کی کارکردگی کا 5 سالہ جائزہ مکمل کیا۔جس کے

بعد اے پی جی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ تنظیم کے سالانہ

اجلاس اور سالانی تکنیکی معاون فورم رواں ہفتے 18 سے 23 اگست تک منعقد

ہوا ۔بیان میں اے پی جی نے پاکستان، چین، تائی پے، ہانک کانگ، فلپائن اور

سولومون آئی لینڈ کے لیے 6 باہمی جائزاتی رپورٹس منظور کیں تاہم اس بیان میں

کہیں بھی یہ درج نہیں تھا کہ پاکستان یا کسی بھی اور ملک کو بلیک لسٹ میں

شامل کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ رپورٹس کا 2 روز تک تجزیہ اور ان پر

بحث کی گئی جنہیں اکتوبر میں شائع کرنے سے قبل ایک دفعہ پھر نظرِ ثانی کے

مرحلے سے گزارا جائے گا۔اجلاس میں اے پی جی یا ایف اے ٹی ایف اراکین کے

لیے متعدد فالو اپ رپورٹس بھی منظور کی گئیں اس کے ساتھ عالمی سطح پر

ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں آئندہ آنے والے سالوں میں تشخیص کے طریقہ

کار پر تبدیلی پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی۔علاوہ ازیں اے پی جی اراکین

نیدہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق خدشات کے سدِ باب کے لیے عالمی

حکمت عملی میں سی ایف ٹی آپریشنل پلان بھی منظور کیا۔اس ضمن میں وزارت

تجارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ بھارتی میڈیا کی جانب

سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ اے پی جی کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی تیسری

باہمی جائزاتی رپورٹ کو منظور کرلیا گیا اور باہمی جائزاتی طریقہ کار کے

تیسرے مرحلے کے تحت پاکستان کو موثر اور تیز جائزاتی فہرست میں شامل کیا

گیا ہے۔اے پی جی کے حالیہ اجلاس کے تناطر میں پاکستان کو سہ ماہی بنیادوں پر

اے پی جی کو اپنی فہرست ارسال کرنی ہوگی۔دوسری جانب وزرت تجارت کی

جانب سے مزید کہا گیا کہ اے پی جی اجلاس میں ایسے متعدد چیزوں کی نشاندہی

کی گئی جس میں انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک

تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات میں بہتری ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں