جج ارشد ملک کی 7 جولائی کی پریس ریلیز اور 11 جولائی کا بیان حلفی ان کے خلاف فرد جرم ہے،تفصیلی فیصلہ

Spread the love

سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو اسکینڈل کیس کا 5 نکاتی تفصیلی فیصلہ سنا دیا

تفصیلی فیصلہ ویب سائٹ پر جاری کر دیا ہے، میڈیا اور فریقین فیصلے کو ویب سائٹ پر دیکھیں، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس پاکستان آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے احتساب عدالت کے جج ارشدملک کے مبینہ ویڈیو اسکینڈ ل کیس کا پانچ نکات پر مبنی تفصیلی فیصلہ ویب سائٹ پر جاری کردیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جج ارشد ملک سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال بھی بینچ میں موجود رہے۔

چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ تفصیلی فیصلہ ویب سائٹ پر جاری کر دیا ہے، میڈیا اور فریقین فیصلے کو ویب سائٹ پر دیکھیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس کیس میں 5 اہم سوال تھے،نواز شریف کی سزا کیلئے کونسا فورم متعلقہ ہوسکتا ہے،نواز شریف کے فیصلے پر ویڈیو کے کیا اثرات ہونگے، ویڈیو کو ثبوت کے طور پر کس متعلقہ فورم میں پیش کیا جا سکتا ہے

ویڈیو کے اصل یا مستند ہونے پر نواز شریف کے کیس پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ مرحلہ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کورٹ ویڈیو اور اس کے اثرات میں مداخلت کرے، بالخصوص متعلقہ ویڈیو کا تعلق اسلام آباد میں زیر التوا اپیل سے ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو لیکس کے معاملے پر ایف آئی اے نے تفتیش شروع کر دی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات پر حکومت یا عدالت کی طرف سے کسی کمیشن کے قیام کی رائے کا کوئی فائدہ نہیں۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا، ارشد ملک لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت ہیں جو ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ماتحت احتساب عدالت نمبر 2 میں تعینات ہوئے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ارشد ملک کو احتساب عدالت کے جج سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ ارشد ملک کو اب تک لاہور ہائی کورٹ نہیں بھجوایا گیا ہے اس لیے محکمانہ کارروائی کا ابھی آغاز نہیں ہوا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک کی 7 جولائی کی پریس ریلیز اور 11 جولائی کا بیان حلفی ان کے خلاف فرد جرم ہے۔ سپریم کورٹ نے 20اگست کو کیس کی سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا ہے۔

Leave a Reply