جنت میں دوزخ کی آگ سے کون بچے گا

Spread the love

موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کو بدل رہی ہے، دنیا پریشان بھی ہے اور کچھ لوگ خوش بھی ہیں، جو مسلسل ٹھنڈے علاقوں میں رہتے ہیں، انہیں کچھ حدت ملنا، بارشوں والے علاقوں میں میں ناراضگی سے واقف ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی بھی موسمیاتی تبدیلی جیسے اثرات مرتب کررہی ہے اور ان کے اثرات معیشت، وسیاست پر بھی پڑ رہے ہیں، سوچ اور فکر بھی ان تبدیلیوں کی زد سے نہیں بچ سکے، یہ ساری تبدیلی ایک نئے انقلاب اور عالمی جنگ کی جانب تیزی سے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔

نئی عالمی جنگ کی ابتدا ہوچکی ہے، کسی کو یہ جنگ جنیوا میں نظر آتی ہے، کسی کو اس کا مرکز عرب خطہ نظر آتا ہے اور کوئی اسے برصغیر میں خاص طور پر کشمیر میں دیکھ رہا ہے۔

کشمیر کو دنیا ئے سیاحت میں جنت نظیر کہا جاتا ہے، یہ کیسی جنت ہے جس میں آگ دوزخ کی جل رہی ہے۔ جہاں روز کربلا برپا کی جاتی ہے اور چنار سے شبنم کے قطرے بھی لہو بن کرگرتے ہیں ہے، جہاں سے گزرتا پانی دریاؤں میں چھوٹی کشتیوں کی طرح لاشیں بہاتا مادرِ خاک سے میلوں دور لے جاتا ہے، جہاں انسانوں کی چُنی ہوئی دیواریں آسمان جیسی بلندی رکھتی ہیں جن میں حق بات کرنے والوں کو روز سُولی چڑھایا جاتا ہے، دیواروں کے باہر سڑکوں، بازاروں اور گلیوں میں بارود برسایا جاتا ہے ۔انسانیت کی تذلیل بھارتی مسلح افواج اور مودی کامشغلہ بن چکا ہے۔

یہ خطہ دنیا میں معلوم بد ترین انسانیت دشمن مادے کے مرکب ایٹم بموں کی ’’گود‘‘ میں جن میں سے تین ایٹم بم بم اسی وادی کے دعویدار ہیں اور حق داروں سے زیادہ دعویٰ رکھتے ہیں، یہ حقدار اس قدر سادہ ہیں کہ ایسے ماحول میں آزادی کی بات کررہے ہیں جہاں غلامی راتیں پوری دنیا کے اندھیروں سے زیادہ کالی ہیں لیکن وہ طلوعِ سحر سے مایوس نہیں، نعرہ زن، کفن پوش ہیں اور اپنا آج اپنی اگلی نسل پر قربان کررہے ہیں، جنہیں سیدھی طرح بات کرنا بھی نہیں آئی اور وہ اپنے ’’حق‘‘ میں اور ان پر’ ’حقِ جبر‘ ‘جتانے، یہ’ ’حق‘‘ بزورِ شمشیر برقرار رکھنے والوں کی سفارتی، سیاسی اور بارودی گفتگو کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، بارود کا مقابلہ کرنا گلیوں، بازاروں اور سڑکوں پر سیکھ گئے ہیں۔

انہیں اب کسی ایٹمی بم کا خطرہ نہیں، ایٹم بم کا خطرہ انہیں ہوتا ہے جو زندگی سے پیار کرتے ہیں، زندگی سے پیار کرنے والے مشکلات برداشت نہیں کرسکتے البتہ انسانیت سے پیار کرنے والی اپنی زندگی کو عزیز سمجھتے ہیں بلکہ اس کی قربانی انسانیت کا اپنی جان پر قرض قراردے لیتے ہیں اور یہ قرض فرض سمجھ کر اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں برتتے۔

کشمیری بھی یہی فرض ادا کررہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ان کی غلامی کی زنجیریں ٹوٹنے سے ہی خطے میں امن قائم رہ سکتا ہے جو پوری دنیا کے امن میں کلیدی کردار کا حامل ہے، وہ دنیا کو بڑی جنگ سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ بھارت کی موجودہ مودی سرکار کے ذمہ دار عہدیدار ایٹمی طاقت کے استعمال کا عندیہ دے کر پوری دنیا کو دھمکی دے رہے ہیں، بھارت اگر یہ غلطی کرتا ہے تو کیا پاکستان اور چین اس کا منہ دیکھیں گے؟ ان کے اثرات کہاں تک جائیں گے؟ پاکستان کے ہمسایہ ملکوں میں بھارتی تنصیبات کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا یا اگر بھارت انہی تنصیبات سے ہی کوئی جوہری وار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس ملک کا کیا بنے گا؟ ان سے ملحقہ لکیروں کے اندر رہنے والے کیا شدید گرمی کے موسم میں ایئر کنڈیشنر ز کے مزے لیں گے؟

توسیع پسندانہ سوچ رکھنے والے عالمی ’ مسلح ثالث‘ کب تک یہ تماشا دیکھیں گے؟ انہیں اپنے سائنسدانوںتحقیق اور رپورٹوں پر یقین نہیں کہ کسی بھی ملک میں ایٹم بم چلتا ہے اس کے اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا؟ کیونکہ اب ایٹم بم ناگا ساکی اور ہیروشیما پر گرائے جانے والے نحیف، کمزور اور بچے ایٹم بم نہیں بلکہ مکمل طور پر بالغ اور توانا ایٹم بم ہیں۔ فی الوقت یہ نہیں مانا جاسکتا جنگوں اور جنگی آلات کی معشیت رکھنے والے ممالک اپنی سائنسدانوں کی تحقیق اور تباہی پھیلانے سے آگاہی کی رپورٹوں کو نظر انداز کررہے ہوں یا کرسکتے ہیں؟ تو کیا وہ متنازع علاقوں میں ایٹمی قوتوں کو اشتعال دلا نے کی پالیسی پر عمل کررہے تاکہ ان قوتوں کو انتہا پسند قراردیکر ان کے بارے میں نئی حکمتِ عملی بنا کر انہیں مستقل اپنی منڈی بنائے رکھیں ۔۔۔؟

جو بات سادہ لوح کشمیری جانتے ہیں تو باقی دنیا نہیں جانتی ؟ دنیا میں کم ترین لٹریسی ریٹ رکھنے والے پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو دنیا میں نہ صرف امن قائم نہیں رہ سکے گا بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو ترقی یافتہ ممالک کے’ خواندہ‘ لوگ یہ نہیں جاتے ؟ یقیناً جانتے ہیں مگر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں جبکہ بلی ان کے گلے سے زیادہ دور نہیں، مودی جیسا خون کا پیاسا بلا سب کبوتروں کی جان کا دشمن ہے۔

ان حالات میں انسانیت سے پیار کرنے والوں کو مذہب ،عقیدہ، رنگ ونسل سے بالا ہوکر کشمیریوں کے ساتھ اسی طرح کھڑا ہونا ہوگا جیسے کشمیریوں مقبوضہ کشمیر میں کھڑے ہیں اور پاکستان تنہا پوری دنیا میں ان کا پیغام پہنچا رہا ہے جبکہ پاکستان کے عوام اپنی ریاست سے (کم علمی کے باعث اور تنگ آمد بجنگ آمد) بھارت کو طاقت سے جواب دینے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ پاکستان کو دنیا کی مضبوط جوہری طاقت تسلیم کیا جاتا ہے لیکن ریاستِ پاکستان اپنے عوام کے جذبات اور مطالبات پر دنیا کو تباہی سے بچانے کے راستے پر چلتے ہوئے مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے یہی وجہ ہے خود کشمیریوں نے کبھی بھی ریاستِ پاکستان سے بھارت کو جوہری طاقت سے جواب دینے کا مطالبہ نہیں کیا حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ ریاستِ پاکستان کشمیریوں کے ایسے مطالبے پر شائد انکار کی پوزیشن میں نہ رہے کیونکہ پاکستان کشمیریوں کی ہر طرح کی حمایت اور مدد کی کا روزانہ تجدید عہد کرتا ہے اور ریاستِ پاکستان کو بخوبی علم ہے جب کشمیریوں کی کال پر پاکستان کے عوام نے دباؤ دالا تو جوہری قوت کا استعمال بھارت کے خلاف لبیکِ جہاد ہوگا ۔

مودی سرکارکے عزائم اور اقدامات نے جو ماحولیاتی تبدیلی پیدا کی ہے( اور بھارت کے عوام بھی اسے محسوس کرتے ہوئے اپنی اتہا پسند سرکار کی مخالفت کررہے ہیں) اس نے کی انگڑائی فوری محسوس کرنے اور اکڑی ہو گردن کی گردن زنی نہ سہی گردن تن کے مطابق ہی رکھنے کے لئے اقوامِ عالم کو فوری کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ جنت نظیر وادی سے دوزخ کی آگ پوری دنیا میں پھیل جائے گی۔

Leave a Reply