151

جج ارشد ملک کی وجہ سے محنتی اور ایماندار ججوں کے سر شرم سے جھک گئے،چیف جسٹس

Spread the love

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز ) جج ارشد ملک

سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک کو واپس لاہور ہائی کورٹ

بھیجنے کاحکم دے دیا،چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہا جج ارشد

ملک کو حکومتی تحفظ دیا جارہا ہے، جج ارشد ملک کی وجہ سے محنتی اور ایماندار ججز کے سر شرم سے

جھک گئے، کیا جج ایسا ہوتا ہے کہ سزا دینے کے بعد مجرم کے گھر جائے؟ جو ایک بار ہوا وہ دوبارہ بھی

بلیک میل ہو سکتا ہے، عدلیہ کی سطح پر ہم ان حالات کا جائزہ لیں گے، لاہور ہائی کورٹ ارشد ملک کے

خلاف کارروائی کرسکتی ہے، ویڈیو جب تک ہائی کورٹ میں پیش نہیں ہوگی اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ احتساب

عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس

پاکستان نے ریمارکس دیے کہ نوازشریف کی رہائی اور سزا کے خاتمے کے لیے ویڈیو فائدہ مند تب ہوگی جب

کوئی درخواست دائر کی جائے گی۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی

سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں اٹارنی جنرل

انور منصور خان اور ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان نے

استفسار کیا کہ تحقیقات مکمل کرنے کیلئے 3 ہفتے کا وقت دیا گیا تھا، اس رپورٹ میں 2 ویڈیوز کا معاملہ تھا،

ایک ویڈیو وہ تھی جس کے ذریعے جج کو بلیک میل کیا گیا اور دوسری ویڈیو وہ تھی جو پریس کانفرنس میں

دکھائی گئی۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ناصرجنجوعہ نے دعویٰ کیا کہ ارشد ملک کو انہوں نے

تعینات کرایا، کیا وہ مبینہ شخص سامنے آیا جس نے ارشد ملک کو تعینات کرایا تھا؟اٹارنی جنرل نے عدالت کو

بتایا کہ ارشد ملک کی تعیناتی والا مبینہ شخص سامنے نہیں آیا، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ

اس کا مطلب ہے اس وقت کی حکومت نے پاناما فیصلے کے بعد ارشد ملک کی تعیناتی کی، رپورٹ کے مطابق

جج ویڈیو سکینڈل: ناصر جنجوعہ اور شریک ملزم خرم یوسف عدالت سے گرفتار

ناصرجنجوعہ دعویٰ کررہا ہے کہ ارشد ملک کو اس نے تعینات کرایا۔جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ

کیا پریس کانفرنس میں دکھائی گئی ارشد ملک کی ویڈیو کا فرانزک تجزیہ کیا گیا؟ اس پر ڈی جی ایف آئی اے

نے بتایا کیا کہ ویڈیو ہمارے پاس نہیں۔اس پر جسٹس عظمت سعید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ

ویڈیو سوائے ایف آئی اے کے پورے پاکستان کے پاس ہے، سارا پاکستان اور عدالت ایک ہی سوال پوچھ رہی

ہے، کیا وہ ویڈیو صحیح ہے؟ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس ویڈیو کا فارنزک نہیں ہوا، جس پر

عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا، اٹارنی جنرل نے عدالت کو ویڈیو کے فارنزک کی بھی یقین دہانی کرائی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ سے ابہام پیدا ہوا ہے، غالباً 2 ویڈیوز تھیں،

قابل اعتراض ویڈیو وہ تھی جس سے جج کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی، دوسری ویڈیو پریس کانفرنس

میں دکھائی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں