بیوی کرائے پر دستیاب ہے

Spread the love

جہاں بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں غربت، افلاس، لاقانونیت اور انسانوں کی خریدوفروخت کے ساتھ ساتھ انسانی اعضا کی خریدوفروخت کا کاروبار بھی عروج پر ہے اور ظاہری سی بات ہے کہ یہ تمام تر گھناونے کاروبار غربت مٹانے کی اپنی سی ایک کوشش ہے۔ انسانوں کی خریدوفروخت میں خاص طور پر خواتین کی خریدوفروخت پورے عروج پر ہے اور اس میں بھی بھارت سرفہرست ہے۔ اب اس سے بھی بڑھ کر کاروبار ہے اور وہ عورتیں کرائے پر دینے کا کام ہے۔ جنگی جنون میں مبتلا بھارت میں غربت اپنے اس عروج پر پہنچی ہوئی ہے کہ ان کے ہاں اب غیرت و حمیت کا تصور بھی مٹ گیا ہے۔ اپنی غربت کو چھپانے کے لیے ٹی وی ڈراموں میں بہت ہی امیر کبیر گھرانوں کی کہانیاں پیش کی جاتی ہیں تاکہ باہر کی دنیا کو لگے کہ یہاں پیسے کی بہت فراوانی ہے اور راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ مگر حقیقت میں 75 فیصد لوگوں کو ابھی تک رفع حاجت کے لیے باہر ہی جانا پڑتا ہے۔ ان میں سے 35 فیصد سے زیادہ ایسی آبادی ہے جس نے کبھی عام سی چیزوں کا بھی تصور نہیں کیا جو انسانی ضروریات میں خاص اہمیت کی حامل ہیں۔

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار تو ہے لیکن اس کی ریاستوں میں غربت اور افلاس کے شرم ناک واقعات اس کے ’’جمہوری‘‘ منہ پر طمانچہ ہیں، بھارتی مملکت اپنی شہریوں کو زندگی گزارنے کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے سے قاصر ہے خصوصاً یہاں کی خواتین سے روا رکھا جانے والاسلوک تاریک دور کی یاد دلاتا ہے۔

تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین کے لئے جو ممالک خطرناک ہیں ان میں سب سے پہلے نمبر پر بھارت ہے یعنی بھارت عورتوں کے لیے دنیا کا سب سے زیادہ خطرناک ملک ہے۔ یہاں خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ، راہ چلتی خواتین کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے، چلتی بس میں عورت کی چادرِعصمت تار تار کردی جاتی ہے۔

بھارتی ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 2016-17ء میں گزشتہ برس کی نسبت ریپ اور پھر قتل کردینے جیسے واقعات میں 12سے 15فیصد اضافہ ہواہے جبکہ خواتین سے ہونے والے دیگرجرائم میں تین سے پانچ فیصد اضافہ۔ اس عرصہ کے دوران میں ریپ کے 40فی صد کیسز صرف دہلی میں ہوئے۔

2016ء میں 187خواتین پر تیزاب پھینکا گیا،جن میں سے 19خواتین وفاقی دارالحکومت دہلی میں تیزاب گردی کا شکار ہوئیں۔ 30فیصد خواتین اپنے سسرال میں بدترین تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہیں جن میں سے بعض جان سے ہاتھ دھوبیٹھتی ہیں۔ حیرت ہے کہ اس کے باوجود مغربی اقوام پورے جوش وخروش سے بھارت کے سیاسی، معاشی مفادات میں اس کی پشتی بانی کررہی ہیں۔ اگر ان جرائم کا دس فیصد بھی کسی مسلم ملک میں ہوتو مغربی حکومتیں اس کا ناطقہ بند کردیتیں۔

کیا اس سے بڑا ظلم ہوسکتاہے کہ ایک عورت شادی کے بعد ایک خوبصورت زندگی کے خواب سجاتے ہوئے شوہر کے گھر جاتی ہے، چند برسوں بعد اسے کرائے پر کسی دوسرے شخص کے حوالے کردیاجاتاہے۔

اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ ’’کرائے پر بیوی دستیاب ہے‘‘ کے بینر تلے میلے بھی منعقد ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں بہت سی چیزیں کرائے پر ملتی ہیں، مکانات کرائے پر ملتے ہیں، گاڑیاں ملتی ہیں، اب تودنیا کے بعض حصوں میں رحمِ مادرکوکرائے پردینا بھی معمول بنتا جارہا ہے لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیںکہ بیویاں بھی کرائے پر ملتی ہیں۔ جی ہاں! ایسا صرف اور صرف ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ہوتا ہے۔ بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے ایک گاؤں میں امیر اور ’’اونچی‘‘ ذات کے لوگوں کو خواتین ’’بطور بیوی‘‘ کرائے پر دی جاتی ہیں، چاہے وہ ایک ماہ کے لئے کرائے پر دی جائیں یا ایک سال کے لئے۔

عورت کرائے پر دینے کے لیے شیوپوری جو مدھیہ پردیش کا ضلع ہے، میں باقاعدہ ایک معاہدہ طے کیا جاتا ہے، یہ معاہدہ 10 روپے سے 100 روپے تک کے اسٹامپ پیپر پر کیا جاتا ہے، جس میں عورت کو کرائے پر رکھنے کی شرائط طے کی جاتی ہیں۔

بعض مرد خواتین کا تبادلہ بھی کرلیتے ہیں، اس کے لئے یہاں باقاعدہ ایک بازار لگتا ہے جہاں لڑکیوں کو گاہکوں کے سامنے پیش کیاجاتاہے، وہ گھنٹوں تک کھڑی رہتی ہیں، گاہک آتے ہیں، عورتوں کا ایسا جائزہ لیتے ہیں جیسے وہ کوئی مویشی ہوں۔ جس مرد کو جو لڑکی پسند آتی ہے اس کا بھیڑ بکریوں کی طرح بھاؤ طے کیا جاتا ہے، نتیجتاً وہ لڑکی یا خاتون کرائے کی بیوی کے طور پر چلی جاتی ہے۔ معاہدہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد وہ خاتون ایک بار پھر کرائے کے لئے دستیاب ہوتی ہے۔

بھارت میں یہ گھناؤنا کاروبار صرف مدھیہ پردیش تک ہی محدود نہیں بلکہ بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں بھی لوگ بیویاں کرائے پر دیتے ہیں۔ یہاں اعلیٰ ذات کی برادریوں میں خواتین کی کمی کے سبب جو لوگ شادی نہیں کرپاتے وہ کرائے کی بیویوں سے گزارہ کرتے ہیں، اس کے علاوہ یہاں لڑکیوں کی خرید و فروخت بھی کی جاتی ہے۔ بعض عورتیں گھریلو مسائل اور غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر ازخود ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔
مثلاً گجرات کے ایک گاؤں میں نچلی ذات کے ایک شخص ’’پراجپاتی‘‘ نے اپنی بیوی لکشمی کو ماہانہ کرایہ پر ایک زمیندار کو دے رکھا ہے، زمیندار بھولبھائی پیٹل کا تعلق شمالی گجرات کے ایک گاؤں سے ہے، لکشمی کی عمر32 سال ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔

اس کا تعلق ریاست گجرات کے ضلع بھرچ کے گاؤں نیترنگ سے ہے،جہاں یہ دونوں میاں بیوی اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔ غربت کی وجہ سے ان کے حالات بہت خراب تھے، اس دوران ان کے گھر گاؤں کی تین خواتین سمن وساوا، کیسری وساوا اور رنجن وساوا آئیں۔

انہوں نے دونوں میاں بیوی سے کہا کہ اگر لکشمی بھولبھائی پیٹل سے معاہدہ کے تحت شادی کر لے تو آپ لوگوں کی قسمت بدل جائے گی اور وہ ہر ماہ 8 ہزار روپے ادا کیا کرے گا، یہ پیش کش سن کر لکشمی کے شوہر کے باچھیں کھل اٹھیںکیونکہ اسے دس ماہانہ تنخواہوں کے برابر پیسے مل رہے تھے۔ آخر کار اس زمیندار بھولبھائی پیٹل کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا۔ معاہدے کی رو سے لکشمی بھولبھائی پیٹل کے ساتھ نہ صرف شریک بستر رہے گی بلکہ گھر کی تمام ذمہ داری بطور بیوی سنبھالے گی، جبکہ اسے پیٹل خاندان کے سارے افراد کا خیال بھی رکھنا پڑے گا۔

لکشمی زمیندار کے ساتھ خوش رہنے لگی، کچھ عرصہ بعد وہی تینوں خواتین(جن کی وجہ سے وہ یہاں آئی تھی) لکشمی کے پاس گئیں اور اسے اپنے گاؤں نیترنگ آنے کے لیے مجبور کرنے لگیں لیکن لکشمی نے اپنے گاؤں واپس آنے سے انکار کردیا۔ تاہم کسی نہ کسی طرح سے لکشمی کو مجبور کرکے واپس گھر لایا گیا، وہ یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی بلکہ وہ بھولبھائی پیٹل کے ساتھ زندگی کو بہتر سمجھنے لگی تھی۔

اس نے واپس جانے کی متعدد بار کوشش بھی کی، اسے روکنے کے لیے پراجپاتی نے پولیس کی مدد بھی حاصل کی مگر ان کے آپس میں طے پائے معاہدے کی وجہ سے پولیس نے پراجپاتی سے معذرت کر لی۔ نتیجتاً پراجپاتی اس بات پر راضی ہوگیا کہ اگر لکشمی واپس جانا چاہتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن اس کے لیے بھولبھائی پیٹل کو ہمارے خاندان کے لیے ماہانہ پیسے بھیجنا ہوں گے۔ شاید اس کی ساری کوشش ہی بھولبھائی لکشمی سے نئی ڈیل کرنے سے متعلق تھی۔

جب اس سلسلے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نریش منیا سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہناتھاکہ ہم لوگ ایسے معاملات میں کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ان لوگوں کی باہمی رضا مندی سے طے پاتے ہیں۔ یہاں بہت سی خواتین اس گھناؤنے کاروبار میں شامل نہیں ہوناچاہتیں مگر ان کے خاوند پیسوں کی خاطر انہیں ایسا کرنے پر مجبور کردیتے ہیں،چنانچہ وہ خواتین چار و ناچار کرایہ ادا کرنے والے کے ساتھ چلی جاتی ہیں تاکہ اس سے حاصل ہونے والے پیسوں سے ان کے بچے بہتر پرورش پاسکیں۔

مدھیہ پردیش اور گجرات کے متعدد دیہاتوں میں بیویاں کرائے پر دینے کا مکروہ دھندہ اب نہایت منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے، اس کا دائرہ وسیع ہورہاہے۔ یہاں کے بعض دیہاتوں میں عورت 500 روپے میں بیچنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ بھارت کے گاؤں نیترنگ، والیا، دیدیاپاڈا، سکبارا، راج پپلا اور جغادیہ میں رہنے والے قبائلی جن کا تعلق وساوا خاندان سے ہے، مختلف ایجنٹوں کے ذریعے بناس کنتھا، مہسنا، پٹن، راجکوٹ گاندھی نگر اور احمد آباد کے پیٹل اور ٹھاکر خاندانوں میں معاشی معاہدے کرکے خواتین بیاہتے ہیں۔

یہ ایجنٹ پیٹل خاندان سے 65 ہزار سے 70 ہزار روپے لیتے ہیں لیکن وساوا خاندان کوصرف 15 ہزار سے 20 ہزار روپے دیتے ہیں۔ یوں یہ ایجنٹ آسانی سے ماہانہ ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ کما لیتے ہیں۔ دلہنیں فروخت کرنے کا یہ دھندا بین الاقوامی سطح تک پھیل رہاہے، اسی طرح کا ایک واقعہ گودھرا میں بھی پیش آیا جہاں بہاریہ خاندان کی ہیر بہاریہ کی شادی امریکہ میں مقیم پیٹل خاندان کے کلپیش پیٹل سے کردی گئی اس کے بدلے میں ایجنٹ نے ہیربہاریہ کے گھر والوں کو ایک لاکھ روپے دلائے۔

بیویاں کرائے پر دینے جیسے واقعات میں اضافے کی ایک وجہ بعض خاندانوں میں خواتین کی کمی بتائی جاتی ہے جبکہ اس مکروہ اور گھناونے کاروبار کی حوصلہ افزائی کرنے والے دلال غریب خاندانوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سارے معاملات طے کراتے ہیں۔ بیویاں کرائے پر لینے اور خرید و فروخت کرنے میں زیادہ تر قبائلی خاندان ملوث پائے جاتے ہیں، غربت کی وجہ سے ان خاندانوں میں بے تحاشا مسائل ہوتے ہیں۔ یہاں کی پولیس کا یہ بھی کہناہے کہ آج تک ہمیں کسی نے کوئی شکایت نہیں کی اس لیے اس معاملے پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

واضح رہے کہ بھارت میں ریاست گجرات غربت کے لحاظ سے14ویں جبکہ مدھیہ پردیش21 ویں نمبر پر ہے، ان ریاستوں کے غریب کسان بھی بڑے زمینداروں کے ظلم وستم کے شکار ہیں، زمین دار انھیں معاوضہ بھی انتہائی کم دیتے ہیں جس سے ان کا گزر بسر مشکل سے ہوتا ہے، یہ لوگ معاشی طور پر اس قدر مسائل کا شکار ہوتے ہیں کہ ان میں سے بعض لوگ اپنی غیرت کو بھی داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کرتے۔
بھارت کی بعض ریاستوں میں لڑکیوں اورخواتین کی کمی کیوں ہے؟ دراصل سن 1870 میں برطانوی نو آبادیاتی حکومت نے ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت لڑکیوں کی شادی کرنا ضروری ہوگا اور لڑکی والے دلہا والوں کو نقدی اور تحائف بھی دیں گے، یہ والدین پر ایک بڑا بوجھ تھا۔

پھر 1961ء میں کہا گیا کہ لڑکے لڑکیوں کی نسبت زیادہ کما سکتے ہیں اس لیے جہیز دینا غیر قانونی ہے لیکن نیاقانون جاری ہونے کے باوجود پرانے قانون کے بطن سے لڑکی والوں کے سر پر جہیز کے نام پر بھاری بھرکم بوجھ نہ اتاراجاسکا، لوگوں نے قانون کو مکمل طور پرنظراندازکیا۔

1980 میں الٹراساؤنڈ کی ٹیکنالوجی متعارف ہوئی، جس سے بچوں کی جنس معلوم کرنا آسان ہوگیا۔ لوگ بچی کی صورت میں حمل ضائع کرا دیا کرتے تھے، 1994ء میں ڈاکٹروں کو جنس نہ بتانے کا پابند کردیا گیا۔ ایک ڈاکٹر کے خلا ف مقدمہ بھی چلایا گیا لیکن حمل ضائع کرانے جیسے واقعات میں کمی واقع نہ ہوئی، یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے بالخصوص اونچی ذات کے ٹھاکر اور پیٹل اپنی خواتین سے بیٹے کا تقاضا کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 20 سالوں میں دس لاکھ سے زائد خواتین نے حمل ساقط کروائے۔ بھارت میں 1991ء کی مردم شماری کے مطابق ہزار مردوں کے مقابلے میں945 خواتین تھیں، 2001 ء کی مردم شماری کے مطابق ایک ہزار کے مقابلے میں927 تھیں، خصوصاً پنجاب میں 1000 لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں صرف 790 تھیں، پنجاب اور ہریانہ جیسی ریاستوں میں یہ تناسب ہزار کے مقابلے میں پانچ سو یا چھ سو تک جاپہنچا۔ اس بحران کے نتیجے میں بیویاں کرائے پر لینے اور دینے کا رجحان بڑھ رہاہے لیکن بھارتی حکومت اس معاملے میں بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

Leave a Reply