158

ناگا لینڈ امن معاہدہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک چال ہے

Spread the love

حکومت کو شریف فیملی کی کردار کشی کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا کام ہی نہیں ہے۔

عمران خان پہلا وزیر اعظم ہے جس نے ابھی تک ہیلی کاپٹر سے پاوں نہیں نکالا: مسلم لیگ ن کی خواتین ونگ کی صدر فرزانہ کوثر کی صرف اردو ڈاٹ کام سے گفتگو

اسلام آباد(مہتاب پیرزادہ سے) مسلم لیگ ن خواتین ونگ کی صدر فرزانہ کوثر نے نمائندہ صرف اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے ناگا لینڈ قبائلیوں کے ساتھ امن معاہدے کا جو شوشا چھوڑا ہے یہ فراڈ پر مبنی بات اس میں بہت سی باتیں جواب طلب ہیں، اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ایسا کوئی معاہدہ کیا گیا ہے تو اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ صرف عالمی برداری کو دھوکہ دینے کے لیے کیا گیا تاکہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارت اپنا مکروہ چہرہ اس معاہدے کے پیچھے چھپا سکے۔

انہوں نے کہا اس امن معاہدے کا تعلق صرف ایک فریق نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ سے ہے جبکہ وہاں اس کے علاوہ بھی دو فریق موجود ہیں ان کی طرف سے اس معاہدے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انھوں نے کہا: ’سنہ 1986 کا معاہدہ جسے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی حکومت نے کیا تھا وہ تمام باغی قیادت سے کیاگیا تھا نہ کہ ایک دھڑے سے۔ اسی لیے وہ معاہدہ قائم رہا۔

چونکہ موجودہ معاہدہ صرف ایک باغی گروپ سے کیا گیا ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام تھا کہ اس موضع پر بات کرتی مگر حکومت کو شریف فیملی کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانے اور اپنے جگ ہنسائی کرانے سے فرصت نہیں۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں مگر ریاست مدینہ کے حکمرانوں کو اپنے دوروں سے فرصت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کٹھ پتلی حکومت پاکستان کی واحد حکومت ہے جس کے وزیر اعظم نہ ابھی تک ہیلی کاپٹر سے پاوں نہیں نکالا۔ پنڈی میں ایک دورے کے لیے وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر کو اتارنے کے لیے گرل گائیڈ ایسوسی ایشن کے سکول کی دیوار توڑی گئی اور درخت کاٹے گئے جس پر 14 مئی 2019 کو جسٹس اعجازالاحسن نے سخت ریماکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا حکومت قبضہ گروپ بن گئی ہے ۔ ان حقائق سے آپ اندازہ کر لیں کہ موجودہ حکومت ریاست مدینہ کی کس قدر پیروی کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں