پی ٹی سی ایل کی جانب سے ملک بھر میں یوم آزادی پر بھر پور جشن

Spread the love

اسلام آباد(مہتاب پیر زادہ سے) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ(پی ٹی سی ایل) نے پاکستان کی یوم آزادی کو جوش و جذبہ کے ساتھ منایا، جہاں اس دن کے حوالے سے ملک بھر میں مختلف نو عیت کے پروگرام تشکیل دیئے گئے اور پی ٹی سی ایل ملازمین نے ملک سے محبت اور یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔

یومِ آزادی کے حوالے سے پی ٹی سی ایل ہیڈ کوارٹر پر صبح 8 بج کر 55 منٹ پر پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد کی گئی اور کیک بھی کاٹاگیا جسکے بعد ملک کی ترقی کیلئے دعائیں بھی کی گئیں۔

یومِ آزادی کے حوالے سے پی ٹی سی ایل ہیڈ کوارٹر میں روشنیوں سے چراغاں کیا اور پاکستانی پرچم پی ٹی سی ایل کی بلند و بالا عمارت پر واضح کیا گیا۔راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوںکی ایک بڑی تعداد جو خواتین اور بچوں پر مشتمل تھی نے وہاں موجود پاکستان کے صوبائی تاریخی علامتی نشانات کے ساتھ سیلفیاں بھی لیں ۔

اس موقع پر ، سید مظہر حسین ، چیف ہیومن ریسورس آفیسر،پی ٹی سی ایل، نے کہا ” ہم نے پی ٹی سی ایل میں ایک قومی کمپنی کے طور پر ہمیشہ پاکستان کا یومِ آزادی بھر پور جوش وجذبہ کے ساتھ منایا ہے۔ ہمارے ملک میں بے پناہ اور یقینی قابلیت موجود ہے جو ملک کو ترقی اور کامیابیوں کی اگلی سطح پر لے جا سکتے ہیں۔ ”

اس سال پی ٹی سی ایل نے کا پوریٹ ٹی وی کمرشل کے زریعے بڑی خوبصورتی سے اپنے کارپوریٹ برانڈ کو دکھایا جو کہ ہماری وز مرہ کی ز ندگی میں اہم چیزوںسے منسلک ہے۔ یہ ٹی وی کمرشل اس ٹیگ لائن ” اس لئے پی ٹی سی ایل بنا اُن سب کا اعتبار جن پر ہے اپکو اعتبار ” کے مطابق ہے۔ اس اشتہار کے مرکزی خیال میں یہ دکھایا گیا ہے کہ پی ٹی سی ایل کس طرح پاکستان میں مواصلات کی تمام سرگرمیوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جیسے بینکوں / اے ٹی ایم کا استعمال کرنا، ریل یا ہوا کے ذریعے سفر کرنا، کسی بھی طرح کی ہنگامی صورتحال، سیلولر رابطہ یا اپنے دفتروں یا گھروں میں انٹرنیٹ کا استعمال کرنا۔خصوصی ٹی وی کمرشل کو صرف 24 گھنٹوں میں سامعین اور صارفین نے 1.5 ملین سے زیادہ ملاحظات کے ساتھ پسند کیا ہے۔

چونکہ پی ٹی سی ایل پاکستان کے ساتھ معرض وجود میں آیا، یہ کمپنی ہمیشہ قومی پروگراموں کو ہم آہنگی اور جوش و خروش سے منانے میں آگے رہی ہے، اور پوری قوم کو ایک جھنڈے تلے متحد کرنے میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ بھی کرتا ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply