آزادی ، آزادی آزادی ۔۔۔۔

Spread the love

بڑے دنوں کے بعد آج پھر صبح سویرے اٹھنا پڑا ، سائرن بجنے اور قومی ترانے کے ساتھ پرچم کشائی کا وقت نو بجے مقرر تھا ، میں پونے نوبجے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں پہنچ چکا تھا جہاں سپیکر ، ڈپٹی سپیکر کے انتظار میں ادھر ادھر اٹھتی ہر نگاہ کہہ رہی تھی، ”چن ماہیاآ تیری راہ پئی تکنی آں‘ ‘ کوئی وزیر نہیں ، کوئی مشیر نہیں تھا اور کوئی رکن اسمبلی بھی نہیں تھا ۔ جذبات کی حدت سے زیادہ موسم گرم اور اس سے بڑھ کر غصے میں آیا ہوا حبس۔۔۔ لیکن کوئی اکتاہٹ کا اظہار نہیں کررہا تھا، پنجاب پولیس کا بینڈ اور اسمبلی سیکیورٹی سٹاف کے چاک و چوبند دستے موسم کی شدت کا احساس نہیں ہونے دے رہے تھے۔ آٹھ بج کر انسٹھ منٹ پر سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی ساتھی افسروں اور عملے کے ساتھ پسینے سے شرابور نکلے،۔ مقررہ وقت پر سائرن نے یوم آزادی کی تقریبات کی سرکاری اطلاع دی ، پھر قومی ترانہ ہوا اور پرچم کشائی بھی ہوئی ، اسمبلی کیفے ٹیریا میں اسمبلی کا سٹاف اور بچے موجود تھے جن کے ہاتھوں میںسبز ہلالی پرچم کے ساتھ ساتھ کشمیر کے جھنڈے اور زباں پر کشمیر بنے گا پاکستان ، کشمیری بہن بھائیو! ہم تمہارے ساتھ ہیں ، مودی ظلم بند کرو ‘ کے نعرے تھے ۔ ہر نعرہ زن کاجوش و خروش دیدنی تھا۔

اسمبلی میں کشمیر اور پاکستان کا گہرا درد رکھنے والے اراکین اسمبلی کی کمی شدت سے محسوس ہوئی، جن میں سے کچھ لوگ تھوڑے فاصلے پر پرچم کشائی کی تقریب میں گورنر اور وزیراعلیٰ کے ساتھ’’ رونق افروز‘‘ اور پرچم سے زیادہ اپنی چہرہ نمائی کے لئے کوشاں تھے۔ آج ان کے لئے اسمبلی ہال میں کوئی کشش نہیں تھی، آج اجلاس نہیں تھا، اجلاس میں شرکت کی اجرت ملتی ہے، اسمبلی میں ملازمین کے ساتھ پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت سے تو کچھ حاصل نہیں ہونا تھا۔

سیکرٹری اسمبلی نے سٹاف سے خطاب کیا لیکن وہ لکھی ہوئی تقریر پڑھنے میں مشکلات کا شکار رہے، شعرو نثر کے ساتھ وہی سلوک کررہے تھے جومقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نہتے کشمیریوں کے ساتھ کررہی ہے۔

تقریب کے شرکا خاص طور پر بچے برفی کھاکر اور میں پی آر او کے کمرے سے فرمائشی چائے پی کر اسمبلی کو بے رونق چھوڑ آیا جہاں اپوزیشن کی ریکوزیشن پر سپیکر کی طرف سے بلائے جانے والے اجلاس کا نوٹیفکیشن تیار ہورہا تھا اور سٹاف کو ہدایت کردی گئی تھی کہ اجلاس کی وجہ سے جمعہ اور ہفتے کو بھی سیکرٹریٹ کھلے گا، اجلاس(تیرہواں سیشن) ایک روز کے لئے ہوگا لیکن سیکرٹریٹ کو دو تین روز پہلے ہی ’’کام‘ ‘پر لگا دیا جاتا ہے۔ یہ اجلاس بھی اپوزیشن کے ہلے گلے کے لئے ہوگا جس میں اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کیے جانے اور نیب کی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے مشترکہ قرارداد بھی آئے گی جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی مودی سرکار کے جبر کی مذمت اور کشمیریوں سے یکجہتی اظہار کیا جائے گا۔ اراکین اسمبلی آدھ پون گھنٹے کے شوروغل کا ہزاروں روپے فی کس معاوضہ لیں گے اور عید کی مبارکباد آزادی کے ساتھ گھروں کو لوٹ جائیں گے۔

اسمبلی سے نکلتے ہوئے میں سردار جوگندر سنگھ کا نام، ایک بار پھر پڑھا، بابائے قوم جسے کچھ دیر پہلے سیکرٹری اسمبلی نے بابائے قائداعظم کہا تھا کے قانون سازوں کے لئے کہے ہوئے کلمات یاد کیے اور سرکاری عمارت میں پہنچ گیا خبرنامے میں حصہ ڈالا اور پریس کلب کا رخ کیا مگر کلب میں داخل نہیں ہوا، کلب کے باہر خصوصی افراد وہیل چیئرز پر بچوں سمیت واک کر رہے تھے، ان کے ہاتھوں میں بھی سبز ہلالی پرچم اور کشمیر کے جھنڈے تھے لیکن ان کی آواز، جوش اور جذبہ جسم کے تمام اعضا رکھنے والوں سے کہیں زوردار تھا، وہ مودی سرکار کو للکار اور پاک فوج کے آرمی چیف کو پکارتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے اور اپنی خدمات کی پیشکش بھی کررہے تھے، ان کا جذبہ مجھے اکسا رہا تھا کہ میں میں کفرانِ نعمت کروں اور مکمل اعضا رکھنے والوں کا ساتھ چھوڑ کر اللہ سے دعا کروں کہ مجھے ان خصوصی افراد جیسا بنا دے۔

میں جذبات کے اکسانے میں نہیں آیا اور قوم و ملک کو فریب دینے والوں، ٹی وی سکرین پر بیٹھ کر کشمیر منجن بیچنے، اخبارات کے کاغذ کالے کرنے اور تقریروں سے حاظرین و سامعین کے کان پھاڑنے والوں کو کل دیکھوں گا جب گورنر پنجاب بھارت کے یوم آزادی پر یومِ سیاہ مناتے ہوئے ریلی کی قیادت کرتے ہوئے اسمبلی ہال پہنچیں گے تو کتنے اراکین اسمبلی ان کے آگے پیچھے اور ساتھ ہونگے حالانکہ کل بھی انہیں اسمبلی آنے کی اجرت نہیں ملے گی البتہ خود نمائی کا انعام تو کوئی نہیں چھینے گا۔

آج جب میں خود بھی دوسروں کی طرح یومِ آزادی منارہا ہوں تو مجھے مکمل آزادی کا اظہار کرتے ہوئے ایک گزارش کرنا ہے کہ نئی نسل کی تربیت تو الگ موجودہ نسل کی تربیت کون کرے گا؟ اس نسل بشمول حکمرانوں کو کون بتائے گا کہ ہماری سفارتی اور قومی پالیسی کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب ہے، رائے شماری ہے کہ کشمیری مکمل آزادانہ ماحول میں ووٹ کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں، اس میں دو رائے نہیں کہ کشمیری ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں، شہدا کی تدفین کشمیر کے جھنڈے نہیں بلکہ سبز ہلالی پرچم میں کرتے ہیں تو استصواب کی صورت میں وہ پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے، پھر ہم’ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ لگا کرکس قومی پالیسی پر عمل کرتے ہیں؟ بھارت کو کشمیریوں پر جبر پر اکساتے ہیں؟ ہاں! اس حد تک درست ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیریوں کو تسلی دی تھی کہ کشمیر پاکستان بنے گا اور کشمیریوں کو جدوجہد کی کامیابی کے لئے پاکستانی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے ۔اس لئے کشمیریوں کی آواز کے ساتھ تو آواز ملانا چاہئے کہ ان کی خواہش کے مطابق کشمیر پاکستان بنے گا لیکن ہمارا کشمیر میں استصواب کے مطالبے کے ساتھ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ کیا کردار ادا کررہا ہے؟

آزادی کا مطلب مادر پِدر آزادی نہیں حدود میں رہنا ہی آزادی ہے، شوروغل، ہنگامے کا نام آزادی نہیں، یہ تجدید عہد کا دن ہے، مستیوں اور خرمستیوں کا نہیں۔۔۔۔ تجدید عہد اور عمل ہے تو یومِ آزادی بھی ہے ورنہ ایک چھٹی اور مادر پدر آزادی ۔۔۔۔۔

نوٹ!۔۔ آزادی، آزادی آزادی۔۔ یہ عنوان، جناب جمیل اطہر مدیر اعلیٰ تجارت جرات کی ایک شہ سرخی ہے جو انہوں نے بینظیر بھٹو کے مینارِ پاکستان کے سائے تلے خطاب کی خبر پر لگائی تھی یہ جلسہ آئی جے آئی کے مقابلے پر ہوا، میں نے دونوں جلسوں کی رپورٹنگ کی لیکن ہیڈلائن بینظیر بھٹو کے خطاب والی دل کو لگی ، اس روز کشمیر ایشو بھی تقریر کا حصہ تھا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply