مقبوضہ کشمیر میں کرفیو برقرار،دنیا بھر میں احتجاج

Spread the love

لندن،اوٹاوا ،نیو یا رک(مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارتی آئین میں مقبوضہ جموں و کشمیر

کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں فوج کے اضافی

دستے بھیجنے کے بھارتی حکومت کے حالیہ اقدام کیخلاف پوری دنیا میں بھر

پور احتجاج کیا جارہا ہے اور بھارت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں

و کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کرکے وہاں بھیجی گئی اپنی اضافی فوج فوری

طور پر واپس بلائے اور کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے۔

برطانوی پارلیمنٹ کے 45 سے زائد ارکان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل

سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات کے بعد مقبوضہ

جموں وکشمیرکے تشویشناک حالات کا نوٹس لے اور کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کے

حل کیلئے تمام فریقین کے مابین ثالثی کرکے انہیں مذاکرات کی میز پر لائے۔

برطانوی پارلیمنٹ کے 45 ممبران نے وارننگٹن فیصل راشد کی تحریری

یاداشت پر دستخط کیے ہیں، یاداشت میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے

مطالبہ کیا گیا ہے کہ کشمیر کی خود مختیاری پر ہندوستان کے غیر آئینی حملے

کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ فوری مداخلت کرے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران

کی یاداشت میں کہا گیا ہے کہ انہیں ان اطلاعات پر گہری تشویش ہے کہ بھارتی

حکومت نے کشمیر کی اپنی خود مختیار حیثیت کو ختم کرنے کیلئے آئین کے

آرٹیکل 370 کو منسوخ کردیا ہے، بھارت کا یہ یکطرفہ فیصلہ کشمیر کی سیاسی

حیثیت اور کشمیریوں کے حق حکمرانی پر براہ راست حملہ ہے۔دریں اثناء یورپی

پارلیمنٹ کے ممبران ارینا وان ویز، شفق محمد، فل بینیون، جوڈتھ ہنٹنگ، کرس

ڈیوس،انٹونی ہک، مارٹن ہورووڈ، لوسی نیتسنگااور شیلہ رچی نے بھی اپنے

دستخطوں سے یورپی یونین کے نمائندہ خارجہ امورفیڈریکا موگھرینی کو ایک

الگ خط ارسال کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کے علاقہ میں بڑھتی ہوئی

کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں

اپنی فوج کی تعداد میں اضافہ کیا ہے ، یورپی پارلیمنٹ کے ممبران کے خط میں

کہا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج نے 30 جولائی کو لائن آف

کنٹرول کے قریب کلسٹر گولہ بارود استعمال کیا جس میں کئی شہری ہلاک ہوئے

حالانکہ کلسٹر گولہ بارود کا استعمال جینیوا کنونشنوں اور بین الاقوامی انسانی

حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے، اس لیے ہمیں تشویش

ہے کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل370 کی منسوخی سے خطے میں پہلے سے

بگڑتی ہوئی صورتحال مزیدبگڑ جائیگی اور مقبوضہ کشمیر کے 7 ملین سے

زیادہ افراد اپنے گھروں میں ہی اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہوجائیں

گے۔ دریں اثناء جموں وکشمیر لیبریشن فرنٹ بیلجیم کے عہدیداروں اورممبران نے

بھارتی حکومت کی طرف سے آئین کے آرٹیکل370 کی منسوخی اور کے ایل

ایف کے سربراہ یاسین ملک سمیت دوسرے کشمیری رہنماؤں کی گرفتاریوں

کیخلاف یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور علامتی بھوک

ہڑتال کی۔ بھارتی افواج کی کارروائیوں کیخلاف نیوزی لینڈ میں بھی زبردست

احتجاجی مظاہرہ کیا اور لوگوں کی بڑی تعداد نے ویلنگٹن میں بھارتی ہائی کمیشن

کے سامنے جمع ہوکر مظلوم کشمیریوں کے حق میں نعرہ بازی کرتے رہے ۔

گزشتہ روز برمنگھم اور لندن میں بھی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بدلنے

کیخلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے بھارتی مظالم کیخلاف شدید نعرہ بازی کی

گئی۔برطانوی نڑاد پاکستانیوں اور کشمیری برادری نے مقبوضہ کشمیر کی

خصوصی حیثیت بدلنے کیخلاف برمنگھم بھارتی سفارتخانے کے باہر احتجاجی

مظاہرہ کیا جس میں سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ جارج گیلووے اور ممبر

پارلیمنٹ خالد محمود اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن راجہ جاویدکے

علاوہ مقامی کونسلرز نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سکھ کمیونٹی کے

رہنماؤں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی انسانیت کا قاتل ہے۔ سکھ

کمیونٹی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کیساتھ کھڑی ہے۔ اقوام متحدہ

مقبوضہ کشمیر میں امن فوج بھیج کر بیگناہ شہریوں کا وحشیانہ قتل عام بند

کرائے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ کانگریس کے رکن تھامس آر سوزی

نے بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام اپنے دو صفحات پر مشتمل خط

میں لکھا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارتی

وزیراعظم مودی نے خطے کے امن کو سنگین ترین خطرات سے دوچار کردیا

ہے۔ کینیڈین حکومت نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ کشمیریوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات

کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔کینیڈا کی وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے اپنے بیان

میں مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے

مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ کشمیریوں کے ساتھ با معنی مذاکرات کیے جائیں۔ پولینڈ

کے وزیر خارجہ جے سک ز پو تو ویک نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ چند روز

میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور

کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔بد ھ کے روز انہوں نے ایک بیان

میں امید ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا ایسا حل

تلاش کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں جو دونوں کے مفاد میں ہو،انہوں نے کہا کہ

ضرورت محسوس ہو ئی تو ان کا ملک سلامتی کونسل میں بحیثیت غیر مستقل

رکن اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔اجلاس بلائے جانے سے متعلق سوال

پر پولش وزیرخارجہ نے توقع ظاہر کی کہ سلامتی کونسل اس مسئلے پر بحث

کرے گی اور مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔



Please follow and like us:

Leave a Reply