14 اگست کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1830ء ممتاز مصلح اور سندھ مدرستہ الاسلام کے بانی حسن علی آفندی کا یوم پیدائش

1885ء – جاپان میں پہلا براءت جاری کیا گیا۔

1947ء – اسلامی جمہوريۂ پاکستان کا قيام۔ پاکستان نے سلطنت برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور دولت مشترکہ میں شامل ہو ا۔

1948ء ریڈیو پاکستان کراچی اسٹیشن کا قیام عمل میں آیا

1964ء مصر، عراق، اردن، کویت اور شام نے مشترکہ معاشی منڈی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا

1971ء بحرین نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی

1973ء پاکستان میں آئین مجریہ 1973ء کا نفاذ عمل میں آیا۔

1973ء ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر اعظم نویں وزیر اعظم پاکستان کا عہدہ سنبھالا

1973ء فضل الٰہی چوہدری نے صدر پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھایا۔

ولادت

1830ء حسن علی آفندی برطانوی ہندوستان کے ایک نامور مسلم دانشور تھے۔ وہ سندھ کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے مگر خود اپنی محنت سے تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھتے گئے حتی کہ انہوں نے وکالت کی تعلیم مکمل کر لی۔ اپنی تعلیم میں انہیں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا انہیں دیکھ کر حسن علی آفندی کو سندھی مسلمانوں کے لیے تعلیمی ادارے بنانے کا خیال آیا۔ اپنی اس کوشش میں وہ جسٹس امیر علی کی دعوت پہ کلکتہ گئے تاکہ وہاں کا تعلیمی انتظام دیکھ سکیں۔ بالاخر 1885 میں حسن علی آفندی نے کراچی میں سندھ مدرسۃ الاسلام کی بنیاد ڈالی۔ آج آفندی کے بنائے ہوئے اس تعلیمی ادارے کے بطن سے نکلے ایس ایم لا کالج سمیت کئی تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ پاکستان کے بانی، محمد علی جناح، نے سندھ مدرسہ الاسلام سے ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ حسن علی آفندی کے فلاحی کارناموں کے اعتراف میں برطانوی سرکار نے انہیں خان بہادر کا خطاب دیا۔ حسن علی آفندی آل انڈیا مسلم لیگ سے بھی ملحق رہے اور مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کے رکن بھی رہے۔ سنہ 1934 سے 1938 تک وہ سندھ کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ انہوں نے محمد علی جناح کے ساتھ مل کر مسلم لیگ کو مسلمانوں میں متعارف کرانے کا کام کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے مصر، فلسطین، شام، عراق، یمن، سعودی عرب اور امریکا کا دورہ بھی کیا اور ان جگہوں پہ اپنی تقریروں میں ہندوستان کی آزادی اور اسلام کے بارے میں گفتگو کی۔ پاکستان کے موجودہ صدر، آصف علی زرداری، اپنے ننھیال کی طرف سے اپنا تعلق حسن علی آفندی سے بتاتے ہیں۔

1865ء فلپ گرینیر فرانس کے ایک مشہور ڈاکٹر تھے، بعد میں اسلام قبول کیا، یہ فرانس کی تاریخ میں مسلم رکن پارلیمان مانے جاتے ہیں۔ بیزانسون میں بکالوریٹ مکمل کرنے کے بعد سنہ 1883–تا 1890 میں کلیۃ الطب میں داخل ہوئے، مسلمانوں کے ساتھ پہلی ملاقات و رابطہ اس وقت ہوا جب الجزائر کے ایک شہر “بلیدہ” اپنے ساتھی سے ملاقات کی غرض سے گئے تھے، انھوں نے دیکھا کہ ان کے شہر کی حکومت جزائری مسلمانوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتی ہے، نیز اس وقت وہاں مسلمانوں کو غربت اور کسمپرسی کی حالت میں دیکھا۔ سنہ 1894 میں بلیدہ شہر مشرف بہ اسلام ہو کر واپس ہوئے، پھر حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ کا رخ کیا، اس وقت ان کی عمر 29 سال تھی۔ جزائری عربی لباس پہننا خوب پسند کرتے تھے۔

1867ء – جان گالس ورتھی ایک انگریزی کے ناول نگار تہے جس نے نوبل ادب انعام 1932ء میں جیتا۔

1908ء صبا اکبرآبادی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، صحافی، مترجم اور ناول نگار تھے۔ انہیں شاعری میں نعت اور مرثیہ گوئی میں شہرت حاصل تھی۔ صبا اکبر آبادی کے شعری مجموعوں میں اوراق گل، سخن ناشنیدہ، ذکر و فکر، چراغ بہار، خونناب، حرز جاں، ثبات اور دست دعا کے نام شامل ہیں اس کے علاوہ ان کے مرثیوں کے تین مجموعے سربکف، شہادت اور قرطاس الم کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ انہوں نے عمر خیام، غالب، حافظ شیرازی اور امیر خسرو کے منتخب فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ کیا جن میں سے عمر خیام اور غالب کے تراجم اشاعت پزیر ہوچکے ہیں۔ ان کی ملی شاعری کا مجموعہ زمزمۂ پاکستان قیام پاکستان سے پہلے شائع ہوا تھا۔ انہوں نے ایک ناول بھی تحریر کیا تھا جو زندہ لاش کے نام سے اشاعت پزیر ہوا تھا۔

1917ء – آغا شورش کاشمیری ( پاکستان کے شاعر،صحافی، سیاست دان اوربلند پایہ خطیب بمقام لاہور

1919ء دینا واڈیا بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مریم جناح کی بیٹی اور واحد اولاد تھی۔ دینا کی والدہ کا تعلق ممبئی کے دو اعلی خاندانوں پیٹت برونیٹس اور ٹاٹا خاندان سے تھا۔ 1938ء میں دینا نے مشہور صنعت کار نیولی واڈیا سے شادی کی، نیولی واڈیا ممتاز واڈیا خاندان سے تھا، البتہ، شادی زیادہ عرصہ نہیں چلی اور 1943ء میں طلاق ہو گئی۔ دینا 14-15 اگست، 1919ء کی درمیانی شب لندن میں بانئ پاکستان محمد علی جناح اور ان کی دوسری بیوی مریم جناح کے ہاں پیدا ہوئیں۔ مریم جناح 1929ء میں صرف 29 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اس وقت دینا جناح کی عمر صرف دس سال تھی۔ جناح اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن فاطمہ جناح کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ دینا کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں۔ دینا کو قرآن پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے لگیں لہٰذا دینا جناح اپنے پارسی ننھیال کے زیادہ قریب ہوئیں۔ اس دوران میں دینا نے محمد علی جناح کی مرضی کے خلاف ایک پارسی نوجوان نیول واڈیا کے ساتھ شادی کر لی۔ جو کامیاب ثابت نہ ہوئی۔ اور پانچ سال بعد طلاق ہو گئی۔ دینا واڈیا 2 نومبر 2017 کو 98 سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔

1920ء پروفیسر ڈاکٹر عبادت بریلوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور اردو نقاد، محقق، معلم، خاکہ نگار اور سفرنامہ نگار تھے جو اپنی تصنیف اردو تنقید کا ارتقا کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔

1923ء محمد طفیل پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے معروف ادیب، خاکہ نویس اور مشہور ادبی جریدے نقوش کے مدیر تھے۔

1923ء کلدیپ نیر ایک بھارتی صحافی، کالم نگار، مصنف، انسانی حقوق کے کارکن تھے۔ 14 اگست 1923 کو پاکستانی شہر سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے کلدیپ نیر نے تقسیم کے بعد بھارت منتقل ہونے سے قبل لاہور سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ کلدیپ نیر 1990ء میں برطانیہ میں بھارت کے ہائی کمشنر بھی رہ چکے ہیں۔ 1997ء سے 2003ء تک بھارتی ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) کے رکن رہے۔

1931ء – عبداللہ حسین (اردو کے شہرۂ آفاق ناول نگار) بمقام راولپنڈی

1931ء غلام مصطفی جتوئی پاکستان کے سیاست دان اور سابق نگراں وزیر اعظم، نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ اور معروف سیاست دان غلام مصطفی جتوئی 14 اگست 1931ء کو سندھ کے ضلع نواب شاہ کے علاقے نیو جتوئی میں پیدا ہوئے اور طویل علالت کے بعد 78 سال کی عمر میں 20 نومبر 2009ء کو لندن میں وفات ہوئے ۔

1933ء رچرڈ آر ارنسٹایک سوئس طبیعیاتی کیمیاءدان تھے جنھوں نے 1991 میں نوبل انعام برائے کیمیاء بھی جیتا تھا۔

1939ء میاں منظور وٹو اوکاڑہ کے وٹو خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وٹو خاندان اوکاڑہ میں معاشی اور سیاسی لحاظ سے کافی مضبوط ہے۔ اس کے دیگر افراد میں سابق وزیر خزانہ میاں یسین خان مرحوم، میاں معین وٹو ایم این اے 144 اور میاں خرم جہانگیر شامل ہیں۔ میاں منظور وٹو پاکستانی سیاست میں بڑا نام ہیں وہ متعدد عہدوں پر فائز رہے جس میں وزیراعلیٰ پنجاب ، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور وفاقی وزیر امور کشمیر رہے۔ 2018ء کے سالانہ انتخابات میں میاں معین وٹو سے شکست کھائی۔

1946ء – سوسن سینٹ جیمز، امریکی اداکارہ

1948ء عبد القادر ملّا مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کا راہنما تھا۔ 1971ء کی خانہ جنگی میں اس نے مذہبی اور قومی وابستگی کی بنیاد پر علیحدگی پسندوں کے خلاف پاکستان کا ساتھ دیا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان کے حامیوں پر عتاب کا سلسلہ شروع ہوا جس کا نشانہ جماعت اسلامی بھی بنی۔ 2013ء میں ایک خاص عدالت نے عبد القادر کو “جنگی جرائم” کے الزام میں موت کی سزا سنائی۔ عالمی تنظیموں نے عدالتی کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ 12 دسمبر 2013ء کو بنگلہ دیشی جنتا نے عبد القادر کو پھانسی دے دی

1957ء جونی لیور ایک بھارتی بالی وڈ اداکاہ ہے جو اپنی قابل ذکر مزاحیہ اداکاری کی وجہ سے مشہور ہے۔ جونی لیور بھارت میں سٹینڈ اپ کامیڈی کا پہلا کردار ہے۔ جونی لیور تیرہ بار فلم فیئر اعزاز برائے بہترین مزاحیہ کردار کے لیے نامزد ہوا اور دو بار یہ اعزاز حاصل کیا، جو ان کو فلموں دیوانہ مستانہ (1997) اور دولہا راجا (1998) میں اداکاری پر دیا گیا۔ جونی نے 1984ء میں فلموں میں کام شروع کیا اور تین سو سے زائد بالی ووڈ کی فلموں میں کام کیا ہے

1962ء – رمیز راجہ، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی و مبصر

1966ء – ہیلی بیری، امریکی ماڈل، اداکارہ اور تخلیق کار، مس ورلڈ ریاست ہائے متحدہ 1986ء

1968ء – کیتھرین بیل (اداکارہ)، انگریز امریکی اداکارہ

1985ء جاوید آفریدی ایک پاکستانی کاروباری ایگزیکٹو ہے جسے عام طور پر ہائیر پاکستان کے سی ای او اور پاکستان سپر لیگ کی ٹیم پشاور زلمی کے مالک ہونے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔

وفات

625ء زینب بنت خزیمہ (زوجہ نبی (ص)) کی وفات

1890ء مفتی غلام سرور لاہوری 1244ھ مطابق 1837ء میں اپنے آبائی محلہ کوٹلی مفتیاں، لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد مفتی غلام محمد سے حاصل کی۔ طب بھی اپنے والد سے پڑھی۔ سلسلہ سہروردیہ میں مفتی صاحب اپنے والد سے بیعت ہوئے تھے۔ بعد ازاں مولانا غلام اللہ لاہوری کے حلقہ ٔ درس میں شامل ہوئے اور اُن سے علوم تفسیر و حدیث، فقہ، عربی ادب، صرف و نحو، معانی و منطق اور تاریخ پڑھی۔ اپنے زمانے میں مفتی صاحب بے مثل عالم، ادیب، شاعر، بے نظیر تاریخ گو، مؤرخ اور شہرۂ آفاق تذکرہ نویس کہلائے۔

1941ء – پول سانچیر فرانس کے ایک کیمیاء دان تھے جنھیں 1912 میں کیمیاء کا نوبیل انعام دیا گیا جس کی وجہ انکی جانب سے کئی گئی نامیاتی مرکبات میں ہائڈرو جنیٹنگ طریقے کی تخلیق تھی۔ اسی سال یہ انعام ان کے ہم وطن سائنس دان وکتور گرینیارد کو بھی ملا۔

1956ء – برتولت بریخت، جرمنی کا ادب نوبل انعام یافتہ ناول نگار و شاعر

1958ء فریڈرک جولیو فرانسیسی سائنس دان۔ 1926ء میں مشہور سائنس دان پیرے اور مادام کیوری کی بیٹی آئرین کیوری سے شادی کی۔ دونوں پیرس میں ریڈیم انسٹی ٹیوٹ میں نائب محقق کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ بیوی 1932ء میں اپنی والدہ مادام کیوری کی وفات پر اس ادارے کی ناظم مقرر ہوئی۔ دونوں نے مل کر ریڈیائی شعاعوں پر مادام کیوری کے کام کو جاری رکھا اور مفید تحقیقات کیں۔ انھوں نے الفا ذرات اور چند کیمیاوی عناصر کے امتزاج سے ریڈیائی مادے کے سلسلے میں کئی نئے تجربے کیے۔ اس سلسلے میں انھیں 1935ء میں کیمیا کا نوبیل انعام ملا۔ 1946ء میں جولیو فرانس کے جوہری توانائی کے کمیشن کا صدر مقرر ہوا۔ کچھ عرصہ عالمی امن کیمٹی کا صدر بھی رہا۔

1984ء – جے بی پریسلے، برطانیہ کے معروف ادیب، ڈراما نگار، براڈ کاسٹر اور ہدایت کار

1994ء – الیاس کینٹی جرمنی زبان کا برطانوی نوبل انعام یافتہ ادیب

2004ء – چیکلا ملوسز، نوبل انعام یافتہ ادیب

2011ء – شمی کپور، بھارتی اداکار

تعطیلات و تہوار

پاکستان کا یوم آزادی

یوم پراموکا

Please follow and like us:

Leave a Reply