13 اگست کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1912ء مولانا ابوالکلام آزاد نے شہرہ آفاق پرچہ الہلال جاری کیا۔

1930ء یورا گوئے میں پہلے فیفا فٹ بال کا آغاز ہوا۔

1954ء – ریڈیو پاکستان نے پہلی دفعہ پاکستان کا قومی ترانہ بجایا۔

1983ء سری لنکا میں تین ہزار تامل شہریوں کی ہلاکت کے باعث خانہ جنگی کا آغاز ہوا۔

2005ء گھوٹکی ٹرین حادثے میں 136 مسافر ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔

2005ء فرانس کی حکومت نے چیف آف نیول سٹاف شاہد کریم اللہ اور وائس چیف کلیم سعادت کو فرانس کا اعلی ترین اعزاز لیجناف آذر سے نوازا۔

ولادت

1762ء رچرڈ ولسٹیٹر، جرمنی کے ایک نامیاتی کیمیاء دان تھے جنھیں 1915 میں کیمیاء کا نوبیل انعام دیا گیا جس کی وجہ انکی جانب سے کئی گئی پودوں کے مواد کے مطالعے بالخصوص کلورفل تھی۔

1848ء رمیش چندر دت ایک ہندوستانی سول سرونٹ، معاشی مورخ، مصنف اور راماین و مہابھارت کے مترجم تھے۔

1879ء جون آئرلینڈ، برطانوی موسیقار

1884ء ہیری ڈین، برطانوی کرکٹ کھلاڑی

1888ء پیدائش: 1888ءانتقال: 1946ءٹیلی وژن کا موجد۔ اسکاٹ لینڈ میں پیداہوا۔ پہلی جنگ عظیم کے اختتام تک ایک بجلی کی کمپنی کا مہتمم رہا۔ 1929ء میں ٹیلے وژن ایجاد کیا۔ تاریک نظری بھی ایجاد کی جس سے رات کے اندھیرے میں بھی فوٹو گرافی کی جاسکتی ہے۔

1899ء الفریڈ جوزف ہچکاک ایک برطانوی فلم ساز اور پیش کار تھے جنہوں نے تجسس اور اسرار پر مبنی فلموں میں کئی نئی تکنیک متعارف کروائیں۔ برطانیہ میں خاموش اور ابتدائی آواز والی فلموں کے حوالے سے کامیابیوں کے بعد ہچکاک نے ہالی ووڈ کا رخ کیا۔ 1956ء میں امریکا کے شہری بن گئے تاہم ان کی برطانوی شہریت برقرار رہی۔ ہچکاک نے 6 دہائیوں پر مشتمل اپنے عہد کے دوران 50 سے زائد فلموں کے لیے ہدایات دیں۔ وہ معروف ترین فلم سازوں میں سے ایک ہیں اور ان کی فلمیں آج بھی شائقین میں مقبول ہیں۔ بسا اوقات آپ کو برطانیہ کا تاریخ کا سب سے عظیم فلم ساز گردانا جاتا ہے، 2007ء میں روزنامہ ٹیلیگراف کی 21 ویں صدی کے عظیم ترین برطانوی ہدایت کاروں کی فہرست میں فلم ناقدین نے آپ کو اول درجہ دیا۔ حکومت برطانیہ نے آپ کو سر کے خطاب سے نوازا۔ آپ 29 اپریل 1980ء کو بیل ایئر، لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں وفات پا گئے۔

1912ء سیلواڈور لوریاایک اطالوئی امریکی ماہر خوردوبینی حیاتیات تھے جنھوں نے 1969 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔

1913ء مکاریوس سوم ایک یونانی قبرصی پادری اور سیاست داں تھے جو قبرص کے صدر اسقف بھی رہے۔ وہ قبرص کے پہلے صدر (1960ء–1977ء) بھی تھے۔ ان کے تین ادوار صدارت میں ان پر چار مرتبہ قاتلانہ حملے اور ایک مرتبہ فوجی بغاوت بھی ہوئی۔ انہیں یونانی قبرصی بابائے قوم تصور [2] کرتے ہیں، جبکہ ترکی قبرصی انہیں قبرص کی تقسیم کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

1915ء محمد ابراہیم جویو، پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے ممتاز ادیب، مترجم، معلم اور دانشور تھے جن کے فکر و فلسفہ سے سندھ کے سیاست دانوں، دانشوروں اور ادیبوں سمیت عوام کی بڑی تعداد متاثر ہوئی۔

1917ء اینا مولکا احمد ایک مشہور پاکستانی فنون لطیفہ کی فنکار تھیں۔ ان کا شمار 1947ء آزادی کے بعد ملک میں فنون لطیفہ کی ابتدا کرنے والوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ لاہور کی جامعہ پنجاب کی پروفیسر تھیں۔

1918ء فریڈرک سنگر ایک برطانوئی کیمیا دان تھے جنھوں نے دو دفعہ کیمیا کا نوبیل انعام حاصل کیا وہ ایک ہی شعبے میں دو مرتبہ یہ انعام جیتنے والے دوسرے شخص تھے( اس سے قبل جان باردین طبیعیات میں دو دفعہ یہی انعام جیت چکے ہیں) انھوں نے پروٹین اور انسولین کی ساخت پر کام کیا جس پر انھیں 1958ء میں کیمیا کا نوبیل انعام دیا گیا۔جبکہ 1980ء میں انھوں نے نیوکلک ایسڈ کی ترتیب پر کام کے صلے میں یہ انعام جیتا۔

1926ء فیڈل کاسترو نے تقریباً 50 سال تک کیوبا پر حکمرانی کی۔ فیڈل کاسترو 1959 سے 1976 تک کیوبا کے وزیر اعظم رہے اور پھر 1976 سے 2008 تک ملک کے صدر رہے۔ 2006 میں طبیعت کی ناسازی کے بعد وہ عوامی منظر عام سے غائب ہو گئے اور پھر 2008 میں انہوں نے ملک کی باگ دوڑ اپنے بھائی راول کاسترو کے سپرد کردی۔ فیڈل کاسترو کے دور صدارت میں کیوبا اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ رہا لیکن ان کی صدارت چھوڑنے کے کچھ ہفتوں بعد ہی امریکا اور کیوبا میں سفارتی تعلقات بحال ہو گئے۔ فیڈل کاسترو نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ریاستی فیصلے کی حمایت کرتے ہیں لیکن انہی امریکی پالیسیوں پر بالکل بھی اعتبار نہیں ہے۔ فیڈل کاسترو ہمیشہ امریکی پالیسیوں اور حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے، امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے 2004 میں صدر جارج ڈبلیو بش کی پالیسیوں کو فراڈ اور دوغلی قرار دیا جب کہ 2011 میں انہوں نے امریکی صدر براک اوباما کو بے وقوف ٹھہرایا۔ صدارت چھوڑنے کے بعد بھی فیڈل کاسترو خبروں کی زینت بنے رہے اور ان کے انتقال کے حوالے میڈیا پر افواہیں پھیلائی گئیں جس کے جواب میں انہوں نے کیوبا کی سرکاری ویب سائٹ پر بیان دیا کہ وہ نا صرف زندہ ہیں بلکہ انہیں تو پتہ بھی نہیں کہ سر کا درد کیسا ہوتا ہے

1961ء مہیش آنند ہندی فلم انڈسٹری کے بھارتی اداکار تھے۔ وہ زیادہ تر ویلن کے کردار نبھانے کے لیے مشہور تھے۔ مہیش آنند منفی کرداروں کی اسکرین پر ادائیگی کے لیے شہرت رکھتے تھے۔ وہ آخری بار جنوری 2018ء میں جاری فلم رنگیلا راجا میں دیکھے گئے تھے جس میں مشہور اداکار گووندا نے بھی کام کیا تھا۔ مہیش آنند اپنے گھر پر مشتبہ حالت میں اپنے گھر پر فروری 2019ء میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی لاش کافی سڑی ہوئی تھی۔ وہ گھر پر اکیلے رہتے تھے کیونکہ ان کی بیوی ماسکو میں رہ رہی تھی۔ تنہائی میں وہ شراب کی لت سے بھی بری طرح متاثر تھے۔ اس کے علاوہ ان کی موت کو لے کر یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا کہ انہوں نے خود کشی کی تھی۔

1961ء سنیل سیٹھی، بھارتی اداکار، فلمساز

1962ء انیتا راج گینز بک میں مندرج بھارتی ادکار جگدیش راج کھرانہ کی بیٹی اور ایک بھارتی فلمی اداکارہ ہے۔ انیتا کی قابل ذکر فلموں میں ذرا سی زندگی (1983) زمین آسمان (1984) اور ماسٹر جی (1985) شامل ہیں۔

1963ء سری/شری دیوی کپور بھارتی فلمی اداکارہ تھیں، جِنہوں نے تمل، ملیالم، تیلگو، کنڑ اور ہندی فلموں میں کام کیا۔ انہیں بھارتی سینما کی پہلی لیڈی سُپر اسٹار کا خطاب دیا گیا۔ سری دیوی نے پانچ بار فلم فئیر اعزاز حاصل کیا۔ 1980ء و 1990ء کے دہائی میں سری دیوی سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والی اداکارہ تھی اور اُسے اس دور کی سب سے مقبول اداکارہ مانا جاتا تھا۔ 2013ء میں بھارتی حکومت نے اُنہیں پدم شری اعزاز سے نوازا۔

1975ء شعیب اختر، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی

وفات

1910ء فلورنس نائٹ انگیل انگریز سماجی مصلح، ماہر شماریات اور جدید نرسنگ کی بانی تھیں۔

1917ء ایڈوارد بوخنر (Eduard Buchner) جرمنی کے ایک کیمیا دان تھے جنھیں 1907 میں کیمیا کا نوبیل انعام دیا گیا جس کی وجہ ان کی جانب سے کئی گئی حیاتیاتی کیمیا میں تحقیق اور ایک انزائم کی دریافت تھی۔

1946ء ایچ۔ جی۔ ویلز، برطانوی ناول نگار

1946ء ہربٹ جارج ویلز مہان انگریزی سائنس فکشن لکھاری تھے۔ ویلز کو سائنس فکشن بہت بڑا موجد تسلیم کیا جاتا ہے۔ فرانسیسی مصنف جولس برن نے جس طرح غباروں، آبدوزاں سائنسی ایجادات کا سہارا لے کے دلچسپ کہانیاں لکھیں۔

1992ء ڈاکٹر سجاد باقر رضوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، محقق، مترجم، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھے جو اپنی کتاب مغرب کے تنقیدی اصول کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔

2000ء نازیہ حسن کو برصغیر میں پاپ موسیقی کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نازیہ حسن 3 اپریل 1965 میں کراچی پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم لندن میں حاصل کی۔ 1980 میں پندرہ سال کی عمر میں وہ اس وقت شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئیں جب انہوں نے بھارتی فلم قربانی کا گیت آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے گایا۔ اس گانے کی شہرت کے بعد نازیہ حسن نے گیتوں کے کئی البم اپنے بھائی زوہیب حسن کے ساتھ مل کر جاری کئے جاری کیے۔ انہوں نے 1995 میں شادی کی اور سنہ 2000 میں سرطان سے وفات پاگئیں۔

2012ء رے جورڈن، آسٹریلوی کرکٹ کھلاڑی اور فٹ بال کوچ

تعطیلات و تہوار

وسطی افریقی جمہوریہ کا پرچم وسطی افریقی جمہوریہ کا یوم آزادی

Please follow and like us:

Leave a Reply