عشق باز ٹڈا (خواجہ حسن نظامی)

Spread the love

ہزاروں لاکھوں ننھی سی جان کے کیڑوں پتنگوں میں ٹڈا ایک بڑے جسم اور بڑی جان کا عشق باز ہے اور پروانے آتے ہیں تو روشنی کے گرد طواف کرتے ہیں۔ بے قرار ہو ہو کر چمنی سے سر ٹکراتے ہیں۔ ٹڈے کی شان نرالی ہے۔ یہ گھورتا ہے۔ مونچھوں کو بل دیتا ہے اور اچک کر ایک حملہ کرتا ہے۔ سمجھتا ہو گا میں ٹکر مار کر روشنی کو فتح کر لوں گا۔ سب کم ذات چھوٹے رقیبوں کی آنکھ میں خاک ڈال کر اپنی محبوبہ کو اڑا کر لے جاؤں گا۔ اور آکھہ کے درخت پر بیٹھ کراس کو گلے لگاؤں گا۔ میرے گیت سن کر روشنی ہمیشہ ہمیشہ کو میری تابعدار بن جائے گی۔

پر ہائے عشق کے کوچہ میں کس کا خیال پورا ہوا ہے۔ کس کی آرزو بر آئی ہے۔ کون با مراد رہا ہے جو ٹڈے کا ارمان پورا ہوتا۔ حسرت نصیب اُچک اُچک۔ پھُدک پھُدک کر۔ گھور گھور کر رہ جاتا ہے اور نور پر قبضہ میسر نہیں آتا۔

مجھ کو ان عاشق زار کیڑوں نے بہت ستایا ہے۔ میرے رات کے مطالعہ میں یہ شریر بڑا رخنہ ڈالتے ہیں۔ سرکے بالوں میں آنکھوں میں کانوں میں گھسے چلے آتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ بھئی آدمی کے سرکیوں ہوتے ہو جس پر جی آیا ہے اس کے پاس جاؤ۔ اس سے ملنے کی کوشش کرو۔

مگر وہ تو زمانہ کی تاثیر ہے۔ آج کل ہر عشق باز باتونی اور لسان ہو گیا ہے۔ جان دینے اور معشوق پر قربان ہو جانے کی ہمت جانوروں تک میں نہیں۔ اب وہ وقت گیا۔ شیخ سعدی نے بلبل کو پروانے کی سرفروشی کا طعنہ دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ عشق پروانے سے سیکھ کر بولتا نہیں ایک دفعہ آ کر جان دے دیتا ہے۔

اب تو پروانے بھی آتے ہیں تو آدمیوں کو ستاتے ہیں۔ ان کے ناک کان میں گھستے ہیں۔ تاکہ وہ ان کی عشق بازی سے آگاہ ہو جائیں۔ نمود کا شوق آدمیوں سے گزر کر جانوروں تک میں سرایت کر گیا۔ ان دنوں ہر ہستی دکھاوے اور ریاکاری کی مشتاق ہے۔ یہ کیڑے صرف اپنے عشق کا اظہار کرنے کو آدمی پر گرے پڑتے ہیں تاکہ اس کو علم ہو جائے کہ ان کو روشنی سے محبت ہے۔

ذرا انصاف کرنا۔ کل میں نے مسہری کے پردے ڈال کر سرہانے روشنی رکھی کہ اب تو ان نسو بازوں سے چھٹکارا ملے گا۔ مگر موذی ننھے کیڑے مسہری کے چھوٹے سوراخوں میں گھس آئے اور ایسی شورش کی کہ میں نے کتاب اٹھا کر دے ماری۔ غصہ سے بیتاب ہو گیا۔ دیوانوں کی طرح کیڑوں کو، برسات کو اور اس موسم کی رات کو برا بھلا کہا۔ اور تو اور غسل خانہ تو الگ کونہ میں ہے۔ اس کے دروازہ پر تو چلمن پڑی ہوئی ہے۔ وہاں بھی ان فتنوں کی فوج گھستی چلی جاتی ہے۔ کیونکہ غسل خانہ میں بھی ان کی فاحشہ معشوقہ روشنی رکھی ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply