’’خالی مورچے‘‘

Spread the love

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہوئے خون میں یک دم گرمی بڑھ جاتی ہے اور ساتھ ہی میں یہ نعرہ لگاتے ہوئے نعروںکی اوائل عمری یعنی بچپن میں لوٹ جاتا ہے یوں لگتا ہے جیسے اڑتے گردو غبار میں ، ہرے جھنڈے کے بغیر بھی ارد گرد ہوائوں میں فضائوں میں، نگاہوں میں صرف سبز ہلالی پرچم ہی دکھائی دیتا ہے، لگتا ہے جیسے ارض و سما خود ہرا جھنڈے لہرارہے ہوں اور میں ان جھنڈوں کے ساتھ مخمور لہرا رہا ہوں ، پگڈنڈیوں پر جھوم رہا ہوں ، میرے الفاظ جیسے ترانے ہوں ، میں نے خود اپنے لئے ہی لکھے ہوں ، مجھ جیسا مسحور اور کوئی نہ ہو۔ یہ منظر میں ملک کے طول و ارض میں دورانِ سفرریل کی پٹڑی اور سرک کے کنارے اب بھی دیکھ کر راحت محسوس کرتا ہوں۔

یہ سنہ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے بعد کے دن تھے، ملکہ ترنم نور جہاں کے بول ’’اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے‘‘ ریڈیو پاکستان سے روزانہ گونجتا تھا، اپنے جیسے کئی بچوں کی طرح خود کووہی ’’پتر‘‘( بیٹا) سمجھتا تھا۔ گائوں کے اردگرد سے، چھمب، نیائیں اور ٹبوں سے ٹینک ابھی بھی اکا دُکا، شان و شوکت کے ساتھ دکھائی دیتے تھے جبکہ جیپں دور سے دیکھ کر جاننے کی کوشش کرتے کہ یہ پہلے گزری گاڑی یا نئی جیپ ہے جو کچے راستے پر بھی’ ہائی وے ‘جیسی رفتار سے بھاگتی تھیں، گرنیڈ بھی اسی عمر میں دیکھا تھا، اسے ہم ٹینک کا’ انڈہ‘ کہا کرتے تھے۔ مورچوں کی اپنی ایک رونق تھی، بھارتی جاسوس پکڑے جانے کی خبریں اور افواہیں بھی عام تھیں، کچھ لوگ دوسروں کو تنگ کرنے کیلئے بھی جاسوس قراردیکر پولیس سے دوستی پکی کرلیتے تھے، یوں بھی ہوا کہ بشیرے ماچھی نے گامے نائی (شہید) کو نیچا دکھانے کے لئے جاسوس قرار دے کر تھانے پہنچا دیا جسے خود فوجی جوان تھانے سے چھڑا کر لائے تھے ، دو جماعتیں پاس’ گریجوایٹ‘ گاما نائی خدا ترس اور بے اولاد تھا جو فوجی جوانوں کو ایک فوجی کی طرح اطلاعات فراہم کرتا تھا، یہ سرحدی علاقہ تھا اور مال آر پار کرنے اور ان کے پاس آنے جانے والوں سے پوری طرح واقف تھا۔

گاما سنہ انیس سو اکہتر کی جنگ میں کوٹ مُول چند اور سری رام پورہ کے قریب ٹرین پربھارتی بم سے شہید ہوا تھا، وہ اُس روز بھی قومی خدمت کی ڈیوٹی پر تھا، اس سے پہلے وہ لاہور (والٹن) کے مہاجر کیمپ میں بھی قومی فرائض انجام دے چکا تھا، ضلع شیخوپورہ کے دو بڑے مسلم لیگی محمد حسین چٹھہ اور چودھری لال خاں (ڈھلوں) اس کے تحریکِ پاکستان کے وقت سے رفیق تھے ان میں مالی اور سماجی حیثیت کبھی آڑے نہیں آتی تھی۔ بابا گاما ہمارے بال کاٹنے کے بعد ’پاکستان زندہ باد ‘ کا نعرہ لگواتا تھا، یہ اس کی اجرت ہوا کرتی تھی، جب ہم بال کٹوانے سے بھاگتے اور کوئی پکڑ کر ہمارا سر بابا گاما کے گھٹنوں کے نیچے با دیتا تو بابا گاما فخریہ اور طنزیہ کہتا’ او آئے جنھاں ڈھاکے بمب چلائے‘( وہ آئے جنھوں نے ڈھاکے میں بم چلائے)، بال کاٹ کر کہتا کہ’ جا ئوہن ڈھاکے بمب چلائو‘ یعنی اب جائو اور جا کر ڈھاکے میں بم چلائو، ہم کبھی گاما گروپ کو غصے سے (مگر بے بسی کے ساتھ) دیکھتے، گھورتے اور ڈحاکے بم چلانے کے لئے وہاں سے کھسک جایا کرتے تھے، تب ہمارا خیال تھا کہ ڈاکے میں بم چلانے والے بڑے فاتح تھے، یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ ہمارے کتنے فوجی بھارتی قید میں ہیں اورڈھاکے بم چلانے کا نعرہ فخریہ نہیں طنزیہ ہے، جب حالات کا علم و ادراک ہوا تو افسردگی چھا گئی کہ ملک ٹوٹ گیا ہے ،دل نے جب تسلیم کرلیا کہ مشرقی پاکستان کے عوام نے بنگلہ دیش بنا کر آزادی کا حق لیا ہے تو اس حق کو صدقِ دل سے قبول کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ
جو حالات مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بنے سے پہلے تھے، اب بھی سیاسی حالات اس سے مختلف نہیں ہیں، جن کا ادراک ہونا چاہئے اور
ایسے دوستانہ ، مثبت اقدامات اٹھائے جانا چاہئیں کہ ساحلوں کے اِس پار پنجاب، بلوچستان، کے پی کے اور سندھ میںکوئی دوسرا بنگلہ دیش بننے یا کسی کا بنانے کا خوابِ ناپاک پورا نہ ہو، سب کی محرومیاں، تحفظات، گلے شکوے ختم اور بلا امتیاز ان کے آئینی و قانونی حقوق دیے جائیں۔

وقت گزر گیا، خالی مورچے ہمارے چھپُنے اور سستانے کے ٹھکانے بن گئے، ان میں سے ایک مورچہ ابھی موجود ہے لیکن موجودہ جسامت اس میں گھس کر اس میں بچپن دیکھنے کا موقع نہیں دیتی البتہ وہاں سے گزرتے ہوئے کچھ لمحوں کے لئے، کچھ دیر کے لئے رک کر یا رفتار کم کرکے دل ہی دل میں ’پاکستان زندہ باد ‘ کا نعرہ لگاتے ہیں تو یاد آتا ہے کہ کیا دن تھے، کیا جذبات تھے کیا خیالات تھے، وہ دن دیانتداری کا درس دینے اور اس پر عمل کرنے کے دن تھے۔

آج جب نعرے لگاتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ ان نعروں میں وہ جان نہیں رہی، بچپن کی، سچ کی، وہ جھلک دکھائی نہیں دیتی، نہ ہی کوئی کسی کو دیانتداری کا درس دیتا اور کوئی یہ درس قبول کرتا دکھائی دیتا ہے۔

دل و دماغ پر کون سی مٹی جم گئی ہے؟ اس کی تہیں اترنے کے بجائے بڑھتی ہوئی کیوں محسوس ہوتی ہیں؟ آج اگر یوم آزادی مناتے ہوئے مکمل دیانتداری اور آزادی سے تسلیم کیا جائے تو اس کی وجہ سیاسی آلودگی، انتظامی بدعنوانیاں اور بے قاعدگیاں دکھائی دیتی ہیں، ہر کوئی پارٹی کی بنیاد پر بات کرتا ہے، سچائی اور دیانتداری یا غیرجانبداری سے نہیں، ہر معاملے میں تعصب اور جانبداری جھلکتی ہے، ایسی ’مومنانہ‘ شکلیں بنتی ہیں کہ جن پر رفع یدین واجب و لازم ہوگیا ہو حالانکہ ان منافقین کی تعداد زیادہ نہیں لیکن غالب ضرور ہے، اس کا غلبہ ہماری اپنی شخصی اور مفاداتی کمزوریوں کے باعث ہے۔ آج ہم وہی ’ او آئے جنھاں ڈھاکے بم چلائے‘ نعرے لگاتے ہوئے استقبال کرتے ہیں، خوشامدی نعرہ باز بن گئے ہیں جس سے ملک کی معیشت ،تجارت، سیاست، اور معاشرت سب کچھ تباہ کوگیا ہے اور مختلف قسم کا مافیا مسلط ہوگیا ہے ،مزید طاقت سے پنجے گاڑھ رہا ہے اور قوت پکڑ رہا ہے، یہ طاقت میرے نعروں کو قوت اور زور پر کسی صورت غالب نہیں آنا چاہئے۔

میں تو پھر بھی درخشاں ماضی کو روشن مستقبل کی امید کے ساتھ یاد کرلیتا ہوں لیکن وہ جنھوں نے ہمارے جیسا بچپن نہیں دیکھا وہ کل یہ نعرہ کیسے لگائیں گے ؟ کل کون’ اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے‘لکھے اور گائے گا جو یہ سمجھتا ہے کہ ’ہٹاں تے نئیں وکدے پتر‘ تو ڈی ایچ اے بناتے ہیں، قومی خدمت کے نام پر سیاست کرنے والے قومی وسائل لوٹتے ہیں۔ قوم کے خادم رشوت لئے بغیر اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے تیار نہیں انہیں کیا معلوم کہ’ ہٹاں تے نئیں وکدے پتر‘ کس کس مقام پر ہمارے کل پر اپنا اور اپنے خاندان کا کل قربان کررہے ہیں، کتنے حقیقی سیاسی کارکن تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں اور کتنے گمنامی میں مارے گئے ہیں جو حقیقی پاکستانی ہیں جنھیں یاد کرکے پاکستان زندہ باد، پائندہ باد بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply