قومیں قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔۔

Spread the love

حکیم محمد شیراز، لکچرر شعبۂ معالجات، کشمیر یونیورسٹی، کشمیر۔

جنگ قادسیہ کا موقع تھا۔حضرت خنسا ؓ، جو عرب کی مشہور شاعرہ تھیں ، اپنے شیر سے بیٹوں کو بلایا اورکہا:’’ بیٹا! کل جب جنگ میں شریک ہونا تو سینے پر زخم کھانا ، پیٹھ پر زخم نہ کھانا‘‘۔ا س کے بعد شہادت پر ابھارنے والے اشعار پڑھے۔شہادت کے جذبے سے سر شار چاروں بیٹے میدان جنگ میں امّی کے اشعار پڑھتے ہوئے شہید ہو گئے جب حضرت خنساؓ کو پتہ چلا تو فرمایااللہ کا شکر ہے۔ کل آخرت میں، میں چار شہدا کی ماں کہلاؤں گی۔

شہادت مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

کشادِ در ِدل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں

ٍآخر یہ قربانی ہی تو تھی کہ شراب جیسی محبوب چیز جب حرام قرار دی گئی تو دور صحابہ میں مدینہ کی گلیوں میں شراب سیلاب کے پانیوں کی طرح بہائی گئی کہ شراب مٹی میں جذب ہوتی تھی۔ اس منظر کو دیکھ کر پرانے یہودی بادہ کشوں کے دل کی گویا یہ آواز تھی ’’ یٰلیتنی کنت تراباً‘‘(کاش کہ ہم مٹی ہوتے)۔حضر ت عمر بن عبد العزیز،ؒ خلافت سے پہلے روزانہ نئے، نادر اور نفیس لباس پہننے کے عادی تھے۔ نایاب خوشبو ئیں استعمال فرماتے تھے کہ جس گلی سے گزرتے تو لوگ سمجھ جاتے کہ اس گلی سے عمر بن عبد العزیز ؒ کا گزر ہوا ہے۔ مگر خلافت کا بار ملتے ہی سارے عیش و عشرت کو قربان کر دیا بلکہ اپنے پورے کنبہ کو قربانی کے لیے آمادہ کیا آپ کی اہلیہ حضرت فاطمہ ، جو سات نسبتوں سے بادشاہت سے گھری ہوئی تھیں، کو فقر و فاقہ کی زندگی گزارنے پربخوشی راضی ہو گئیں۔

اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو عید پر پرانے کپڑے پہننے پر راضی کر لیا۔ وہ بھی کیا عورت تھی اور وہ بھی کیا بچے تھے جنھوں اتنی بڑی قربانی کے موقعہ پر اُف تک نہ کیابلکہ زبانی اور قلبی طور پر اپنی رضا اور آمادگی کا اظہار کیا۔حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے سارا اثاثہ ، بیت المال میں داخل کر دیا اور صرف بقدر ضرورت بلکہ اس سے بھی کم اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رہنے دیا۔
باقی جوہے وہ ملت بیضا پہ ہے نثار

قربانی کیا ہے؟ اپنی محبوب ترین چیز رضائے الٰہی کے لیے قربان کر دینے کا نام ہے۔ قربانی کیا ہے؟ اللہ پاک کی منشا کے آگے اپنی خواہشات سے بے اختیار ہو جانے کا نام ہے۔ قومیں قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔ گیہوں کا جو دانہ مٹی میں ملتا ہے اس سے ہزار دانے پیدا ہو جاتے ہیں اور جو دانہ دستر خوان کی زینت بنتا ہے وہ ایک ایسی فاضل جنس بن جاتا ہے جس کا اخراج ہی انسان کی راحت و تسکین کا سبب بنتا ہے۔ مگر آج کل قربانی کی روح ماند پڑ گئی ہے۔ خلوص، عند اللہ ماجوریت، ایثار،سخاوت اور بے نفسی کی جگہ ریا کاری، خود غرضی، بخل اور نفس پرستی نے لے لی ہے۔وا حزناہ وویلاہ۔

عید الاضحی کے موقع پر مہنگا جانور خریدنا رواج پا چکا ہے۔ شاعروں کی طرح شعر پر تو نہیں مگر اپنے جانور کی تندرستی اور خوبصورتی پر لوگ دوسروں کی جانب سے داد و دہش کے خواہاں نظر آ رہے ہیں۔ اس مقصد کے تحت ایک جانب جانور وں کو بغرض نمائش اذیت دی جارہی ہے تو دوسری جانب قربانی جیسے عظیم جذبہ کوتار تار کیا جارہا ہے۔ گوشت کی تقسیم میں مسکینوں اور فقیروں کی بجائے امیروں اور ناموروں کو مقدم رکھا جارہا ہے۔ گوشت خوری اور پُرخوری کے ذریعے عید قرباں کی نورانیت کا خاتمہ کردیا جاتا ہے۔ حفظان صحت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر بے شمار امراض کو دعوت دی جاتی ہے۔ آنتیں، فضلات، گندگی، خون، ہڈیاں وغیرہ مسلمان محلوں کی پہچان بن چکے ہیں۔

معمولی باتوں پر ایک دوسرے خلاف بر سر پیکار ہونا عام سی بات ہو گئی ہے۔ عفو و در گزر ہماری زندگیوں سے خارج ہی ہو چکے ہیں۔ کورٹ اور پولس کچہریوں میں سب سے زیادہ معاملات مسلمانوں کے ہیں۔ اغیار مسلمانوں کی زبوں حالی پر خوش نیزدشمنان اسلام ہمارے اختلافا ت سے فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں اور مسلمان ایک دوسرے کوغلط ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔و یااسفیٰ۔

یہ سب قربانی کی اصل روح کو بھلا دینے ہی کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمانوں کو ایسے قوانین کا سامنا ہے جو شریعت سے متصادم ہیں۔ذلت و خواری، قید و بند، غلامی، افلاس و ناداری ہمارمقدر ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ قربانی کے اصل فلسفے کو سمجھا جائے۔ سنت ابراہیمی و اسماعیلی ؑ سے سبق حاصل کیا جائے۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /backup/wwwsirfu/public_html/wp-content/themes/upress/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /backup/wwwsirfu/public_html/wp-content/themes/upress/comments.php on line 89

Leave a Reply