ریپ اور ہمارا بےحس معاشرہ

Spread the love

قصور کی ننھی زینب سے جنسی زیادتی کرنے والے درندے کو جب صبح کے وقت تخت دار پر لٹکا دیا گیا، تو یہ خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس موقع پر میں نے ایک لمحے کے لیے سکھ کا سانس لیا اور سوچا کہ اس خبر کی یہ آگ بہت سے ایسے درندوں کی وحشت کو بھی ساتھ میں جلا کر راکھ کر دے گی جو اس طرح کے جرم کا سوچ رہے تھے، اور یوں کوئی دوسری زینب کسی درندے کا شکار نہیں بن پائے گی.

لیکن یہ میری خام خیالی ثابت ہوئی کیونکہ اس واقعہ کے ایک مہینے بعد ہی صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان میں اسما  نامی بچی کو جنسی درندوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا، جس کو بعد میں عمر قید کی سزا سنائی گئی. لیکن یہ سلسلہ عمر قید و پھانسی سے رکنے والا نہیں تھا، ریپ کیسز جاری رہے، کبھی فیصل آباد ، کبھی اسلام آباد تو کبھی بشام کی مدیحہ کو جانوروں نے نوچ نوچ کر اپنی ہوس کا نشانہ بنایا.

 چند دن قبل شانگلہ کے حسین پہاڑوں پر واقع ایک خوبصورت علاقے شاہ پور میں چھ سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشس کی گئی،اسی دوران مقامی لوگوں نے بچی کی چیخ و پکار سنی، تو انہوں نے موقعہ پر پہنچ کر اس کو بچا لیا سفاک مجرم یہ دیکھ کر بھاگ نکلا، جسے بعد ازاں پولیس نے گرفتار کر لیا.بچی کے والد کے مطابق ملزم کا تعلق ایک ایلیٹ فیملی سے ہے جنہوں نے کئی لاکھ روپے کے عوض کیس واپس لینے کی کوشش کی اور ہر طرح سے کیس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں.

2018 میں زینب کے قاتل کے پھانسی کے بعد ریپ کیسز میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے اور یوں ان تمام واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ سخت سزاوں سے یہ معاملہ رکنے والا نہیں اس کو روکنے کے لیے لوگوں کی اجتماعی سوچ میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے یہاں لڑکیوں کو بچپن سے دبا کر رکھا جاتا ہے اور انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ وہ نازک سی شرم و حیا کا پیکر ہیں جب اس کے ساتھ مستقبل میں جنسی تشدد کی کوشش کی جاتی ہے تو ان میں مزاحمت کی طاقت نہیں ہوتی، وہ نہ اپنے دفاع میں چیخ سکتی ہیں اور نہ ایسے درندے پر وار کر سکتی ہے اس کے ساتھ ساتھ بچیوں اور والدین کے درمیان اتنا فاصلہ رکھا جاتا ہے کہ اگر ان بچیوں کو معلوم بھی ہو کہ گھر کے اندر یا باہر کوئی مرد ہمیں بری نگاہ سے دیکھتا ہے یا کوئی جنسی طور پر ہراساں کررہا ہے یا ایسی کوئی کوشش کرتا ہے، تو وہ والدین و بھائیوں سے دوری کی وجہ سے انہیں بتا نہیں پاتی وہ یہ کہنے کی قدرت ہی نہیں رکھتی کہ کون سا وحشی درندہ اس کی تاک میں بیٹھا ہوا ہے۔

خاندانی سوچ و روایات بھی اس تمام کھیل کا حصہ ہیں، ایک طرف خاندانی اتحاد کو لے کر مجرم کے تمام رشتہ دار اسے بچانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تو دوسری جانب خاندانی عزت کے نام پر لڑکی کو خاموش کرا دیا جاتا ہے تاکہ خاندان کی عزت خراب نہ ہو گویا مجرم خاندان کی آنکھ کا تارا بن جاتا ہے جبکہ مظلوم کو خاندان کی عزت پر داغ قرار دیا جاتا ہے.

خواتین کو معاشرے میں ایک عام آزاد انسان کی حیثیت سے جینے کا حق دینے کے لیے ضروری ہے کہ اسے ایک بھرپور اور محفوظ ماحول دیا  جائے، تحفظ دیا جائے تحفظ کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی حفاظت میں پولیس کھڑی ہو، بلکہ تحفظ سے مراد ذہنی تحفظ ہے.جب وہ ہوس بھرے نگاہوں سے خود کو محفوظ محسوس کرے، جب وہ اپنوں کے ساتھ کھل کر بات کر سکے اور جب وہ معاشرے میں جنسی پتلے کے بجائے ایک فرد کی طرح زندگی بسر کر سکے.

Please follow and like us:

Leave a Reply