136

کشمیری کرفیو توڑکرسڑکوں پر نکل آئے،بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے 6شہید

Spread the love

سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر خصوصی حیثیت ختم

کرنے اور بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری کرفیو توڑ کر باہر نکل نکل آئے

جس پربھارتی فوجیوںکی طرف سے مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں چھ افراد

شہید اور 100سے زائد زخمی ہو گئے ہیں بدھ مسلسل تیسرے روز بھی مقبوضہ

علاقے میں کرفیو اورکشمیر کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع رہا۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سخت کرفیو اور بڑی تعداد میں فوجیوںکی تعیناتی

کے باوجود لوگ بھارت کی طرف سے دفعہ370اور35Aکی منسوخی کے خلاف

احتجاج کیلئے سرینگر، پلوامہ ، بارہمولہ اور دیگر علاقوں میں سڑکوں پر نکل

آئے شدید احتجاج کیا ۔ فوجیوںنے مظاہرین پر گولیوں ،پیلٹ گنز اور آنسو گیس کا

بے دریغ استعمال کیا جس سے کم سے کم چھ افراد شہید اور بہت سے زخمی ہو

گئے ۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے باعث

زخمی ہونیوالے کم سے کم چھ افراد کو سرینگر کے ایک ہسپتال میں لایاگیا تھا ۔

برطانوی خبر رساں ادارے نے پولیس کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ بھارتی

فورسز کے اہلکاروںنے سرینگر میں مظاہرین پرپیلٹ گنز اور آنسو گیس کا بے

دریغ استعمال کیا ہے ۔ بی بی سی نے مقامی افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ

کشمیری صدمے کی صورتحال میں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وادی کشمیرمیں جلد

ہی بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے ۔ دریں اثناء احتجاجی

مظاہروں کوروکنے کے لیے بھارتی حکومت کی طرف سے ٹیلیویژن چینلز کی

بندش اور ٹیلیفون اورانٹرنیٹ سروسز کی معطلی سے پوری کشمیری آبادی کا باقی

دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے معروف صحافی مزمل جلیل نے

محصور وادی کشمیرکے حالات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں کی صورتحال

1846ء سے بھی بدتر ہے۔ مزمل جلیل نے آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے

کہاکہ سرینگر فوجیوں اور خاردار تاروں کا شہر بن چکا ہے۔ آرگنائزیشن آف

کشمیر کوئلیشن نے بھارت پر واضح کردیا ہے کہ کشمیر اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ

تنازعہ ہے اورنہ تو اس کی متنازعہ حیثیت تبدیل کی جاسکتی ہے اورنہ علاقے

کوتقسیم کیا جاسکتاہے۔ دوسری طرف بھارتی اقدامات کیخلاف دنیا بھر میں

کشمیریوں کا احتجاج جاری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں