دھوپ چھاوں (چراغ حسن حسرت)

Spread the love
چراغ حسن حسرت

مسافروں سے بھری ہوئی لاری شور مچاتی کچی سڑک پر بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ ہوا میں خنکی تھی فضا میں اکتاہٹ ہمارے داہنے ہاتھ بھوری لال پیلی چٹانیں چپ کھڑی تھیں۔ بائیں ہاتھ ایک برساتی نالہ پتھروں سے سر پٹکتا دھیمے سروں میں ایک اداس گیت گاتا بہہ رہا تھا۔ ان سے ذرا ہٹ کر سرسوں کا ایک کھیت تھا۔ لیکن سرسوں کے پھولوں کی رنگت تیز دھوپ اور پانی کی کمیابی کی وجہ سے پھیلی ہوئی تھی ہمارے سامنے پیڑ کی سرتوڑ چڑھائی تھی اور پیچھے میرپور کا شہر جو اس وحشت ناک ویرانے میں نخلستان کی حیثیت رکھتا ہے۔

میں ملایا سے فروری ۱۹۴۷ء میں ہندوستان پہنچا مہینہ بھر کی رخصت سنگاپور ہی میں منظور ہو چکی تھی۔ اس لیے کوئی پانچ چھ دن بمبئی میں اور ایک دن لاہور میں ٹھہر کر میر پور کے راستے پونچھ کا رخ کیا۔ لاہور میں سول نافرمانی کی تحریک پورے شباب پر تھی اور اس سیلاب کی لہر میر پور کی سرحد تک پہنچ چکی تھیں۔ لیکن خود میر پور کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ وہی پکی حویلیاں اینٹ اور پتھر کے اونچے اونچے مکان جن کی تعمیر میں کوئی حسن تناسب نہیں نظر آتا تھا۔ اور ان میں مسلمانوں کے کچے جھونپڑے جن کی بے حیثیتی ان پکی حویلیوں کے تقابل سے زیادہ واضح اور نمایاں ہو چکی تھی وہی اداس اداس سے بازار جن میں پتھروں کا فرش بچھا ہے اور وہی تنگ و تاریک گلیاں جن میں قدم قدم پر چلنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

میں دو اڑھائی برس کے بعد اس طرف آیا تھا اور اس عرصہ کے اندر دنیا میں بڑی بڑی تبدیلیاں ہو چکی تھیں۔ لیکن میر پور کی حالت میں ذرا بھی فرق نہیں آیا تھا۔ میں اسے جس طرح چھوڑ کر گیا تھا اب بھی وہ اسی طرح نظر آتا تھا۔

لاریوں کے اڈے پر خاک اڑ رہی تھی اور نانبائی کی دکان کے پاس وہ سکھ جو مسافروں سے مانگ مانگ کر چوری چھپے سگریٹ پیتا ہے اسی طرح کھڑا تھا البتہ اس کی داڑھی کے بال زیادہ بکھر گئے تھے۔ چہرہ زیادہ زرد نظر آتا تھا اور اس کی آنکھوں کے گرد حلقے پڑے تھے۔ اڈے پر اس کے علاوہ دو تین ڈرائیور تھے۔ دو تین مہاجن جو پونچھ اور میر پور کے آڑھتیوں کے کارندے ہیں ان میں ملکھی رام بھی تھا جو کسی آڑھتی کے ہاں کام کرتا تھا بازار کی بھی یہی کیفیت تھی۔ چند دکان دار دکانیں بڑھا چکے تھے۔ باقی میلے کچیلے کپڑے پہنے دکانوں میں بیٹھے بازار میں سے گزرنے والوں کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے۔ نالے کے پاس ایک موچی کچھ پرانے جوتے کچھ چھوٹی بڑی کیلیں اور نعل لیے بیٹھا تھا۔

چوک میں مسلمان کی کوئی دکان نہیں۔ بازار کے خاتمے پر کچھ دکانیں ضرور ہیں لیکن ان میں کام کی دکانیں تو بس دو تین ہی ہیں۔ یہاں کے مسلمان دکانداروں میں کچھ سنار ہیں کچھ درزی، دو تین رنگریز ، تین چار موچی اور باقی جال ہے۔ اللہ بس باقی ہوس۔ لیکن میرپور کے بڑے بڑے دکانداروں کو بھی جب کبھی میں نے دیکھا ہے تو یہی محسوس کیا ہے کہ وہ زندگی سے بیزار ہیں۔ لیکن اب کے یہ بیزاری اور اکتاہٹ کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ اور زندگی سے انہیں ہاتھ بھی کیا آیا؟ وہی دھوتی کرتا یا کرتا اور پاجامہ وہی گیہوں یا مکی کی روٹیاں ارد یا مونگ کی دال، آلو کی بھاجی بس ساری زندگی ایک ہی ڈھنگ سے تو گزر جاتی ہے۔ اس میں کوئی اتار چڑھاؤ آتا ہی نہیں۔ خود نہ اچھا کھاتے ہیں نہ اچھا پہنتے ہیں۔ اولاد کی ضرورتیں پوری کرنے میں بھی بخل سے کام لیتے ہیں۔ ہاں دامادوں کو خوب کھلاتے ہیں ان میں ایسے کم ہیں جنہیں بنکوں پر اعتبار ہو ، زیادہ تر مہاجن تو اپنی ساری جمع جتھا زمین میں گار دیتے ہیں اور جنگ کے زمانے میں تو انہیں نوٹوں کا اعتبار بھی نہ رہا۔ چاندی کے جتنے روپے سمیٹ سکے سمیٹ لیے ، یا پھر سونا خریدا اور اسے چاندی کے روپوں کے ساتھ چولھوں کے نیچے گاڑ دیا اگرچہ سو د کی شرح بھی خاصی تھی۔ لیکن اب یہ لوگ روپیہ قرض دینے سے بھی ہچکچاتے تھے۔ پہلے جنگ کی وجہ سے ایک مبہم سا خوف چھایا رہتا تھا۔ میر پور کا ہر دکاندار سمجھتا تھا کہ جیسے ہٹلر نے اس کو لوٹنے کے لے اتنی بڑی لڑائی چھیڑ رکھی ہے۔

پھر پاکستان کانام سنائی دینے لگا۔ پنجاب سے جو آتا تھا یہی کہتا تھا… کہ پاکستان کی تحریک نے بہت زور باندھ رکھا ہے۔ ہٹلر سے انہیں چڑ نہیں تھی۔ بلکہ ان میں سے اکثر ہٹلر سے کوئی لگاؤ سا ہو گیا تھا۔ آخر سو استگار جرمنوں کا قومی نشان ہے۔ ہٹلر صبح سویرے اٹھ کر گیتا کا پاٹھ کرتا ہے کرشن جی کو بہت مانتا ہے اور بھگوان کا رتیکہ کا تو وہ سچا پجاری ہے۔ البتہ پاکستان سے انہیں ضرور چڑ تھی۔ نیشنل کانفرنس والے کہنے کو توپاکستان کے مخالف تھے ان کے لیڈروں نے اپنی تقریروں میں بار بار کہا تھا کہ ہم پاکستان کو نہیں مانتے۔ لیکن نیشنل کانفرنس والوں کا کیا اعتبار؟ آخر راجہ اکبر خان انہیں تو لیڈر تھا۔ سمت ۱۹۸۸ء میں بھی انہیں لوگوں نے اودھم مچایا تھا۔ پھر کشمیر چھوڑ دو کی تحریک بھی انہیں نے شروع کی تھی۔ ملکھی رام سچ کہتا تھا کہ مسلمان سب ایک ہیں۔ یوں تو یہ ہندوؤں کی خیر خواہی جتاتے ہیں اور کچھ ہندو لونڈوں کو بھی سبز باغ دکھا کے اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ لیکن اصل میں نیشنل کانفرنس یا مسلم کانفرنس سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ پنڈت نہرو کی تو مت ماری گئی ہے کہ شیخ عبداللہ کی حمایت کہے جا رہے ہیں۔ ہندوؤں کے لیڈر تو پنڈت وشنو گپتا مہاراج ہیں جو ساورکر جی سے جا کے مل آئے ہیں یا پھر یہ راشٹر یہ سیوک سنگھ والے جو دھرم کی رکھشا کے لیے میدان میں کود پڑے ہیں۔

ان مہاجنوں کی زندگی تو بالکل بے کیف ہے۔ ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح جس میں کبھی کوئی نہر نہیں اٹھتی۔ لیکن سال میں دو تین مرتبہ یعنی لولی اور دسہرہ کے موقع پر ایک ہلکا سا تموج پیدا ہو جاتا ہے۔ ہولی کے موقع پر خوب خاک اڑتی ہے۔ رنگ کی پچکاریاں چلتی ہیں اور کپڑے شرابور ہو جاتے ہیں۔ سہرے میں سوانگ نکلتے ہیں۔ رام لیلا کی دھوم سے منائی جاتی ہے۔ پارسال برلی والے پنڈت رادھے شیام کے شاگردوں کی ایک بھجن منڈلی آ گئی تھی۔ جس کی وجہ سے رات بھر چوک میں مردوں اور عورتوں کا بڑا جمگھٹا رہتا تھا اور آرتی کے بول تو دینے شاہ کو بھی یاد ہیں۔ جے جگدیش ہرے سوامی جے جگدیش ہرے ان لوگوں کو لڑائی جھگڑا پسند نہیں۔ لیکن مقدمہ بازی بھی تو تفریح کا ایک ذریعہ ہے۔ اور بظاہر تو گالی گلوچ بھی تفریح کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ لیکن گالی ان کی بول چال کا جزو بن کر رہ گئی ہے۔ ان کے لیے اس میں تفریحی عنصر بہت کم ہے۔ یہ لو گ ایک دوسرے سے بات بھی کرتے ہیں تو اسے گالی سے شروع کر کے گالی پر ختم کر دیتے ہیں۔ بہت ہے نازک نازک مطالب جو اور کسی طرح ادا نہیں ہو سکتے گالیوں کے ذریعے ادا ہو جاتے ہیں۔ اور میں نے تو یہ بھی کبھی دیکھا ہے کہ دینے شاہ اور منو شاہ ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں جنہیں سننے کی تاب لانا بھی دل گردے کا کام ہے۔ اور آس پاس کے دوسرے دکاندار جو حلقہ باندھے کھڑے ہیں اور داد دے رہے ہیں۔ غرض گالیوں کا یہ مقابلہ کبھی کبھی اچھے خاصے مشاعرے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان لوگوں کو بے کیف زندگی میں کسی قدر ہما ہمی پیدا ہو جاتی ہے۔

میر پور کا علاقہ پرانی تقسیم کے اعتبار سے چھبال کے علاقے کا ایک حصہ ہے یہ علاقہ جو اب قبیلہ کے نام پر چھبال کہلاتا ہے چناب اور جہلم کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ اس قبیلہ کا مورث اعلیٰ ایک نو مسلم شادی خان نامی تھا۔ جس کی قبر نوشہرہ میں ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے ایک مسلمان عورت سے شادی کر لی لیکن اس کی پہلی بیوی کی اولاد ہندو ہی رہی۔ چنانچہ جب قبیلہ میں ہندو مسلمان دونوں شامل ہیں تو میرا پور کے علاقے میں اب بھی ہیں۔ جرال اور منگوال بھی جو چب قبیلہ کی طرح اصل لحاظ سے راجپوت ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی جاگیریں بھی ہیں۔ لیکن ان میں خوش حال لوگ کم ہیں پھر بھی سب راجہ کہلاتے ہیں اور اپنے نام کے ساتھ راجہ سن کے خوش ہوتے ہیں یہ لانبے قد چوڑے ہاڑ اور مضبوط ہاتھ پاؤں کے لوگ ہیں۔ ضلع جہلم کے لوگوں کی طرح طرہ دار پگڑیاں ململ کے کرتے اور رنگین تہ بند ان کا خاص لباس ہے۔ لیکن یہ لباس بھی کسی کسی کو میسر آتا ہے۔ میر پور اور اس کے آس پاس کے علاقے میں جو مسلمان آباد ہیں ان میں ہندوانہ رسمیں کم رہ گئی ہیں۔ چھبال اور کامنڈی کے دوسرے حصوں کے لوگوں پر ہندوؤں کا اثر بہت گہرا نظر آتا ہے۔

کہتے ہیں کہ آج سے پچاس ساٹھ برس پہلے یہ لوگ برہمنوں سے زائچہ کھلواتے تھے۔ اور بعض نیچ ذاتوں کی ہندو عورتوں کو بھی گھر ڈال لیا کرتے تھے۔ لیکن ڈوگروں کو گھر ڈالنے کا حق صرف ڈوگروں کے لیے مخصوص ہو کے رہ گیا ہے۔

چھبا ل کے اکثر حصوں میں پانی کی فراوانی ہے۔ فصل بھی خوب ہوتی ہے۔ اور گرمی بھی کچھ ایسی نہیں پڑتی لیکن میرپور اور اس کے آس پاس کے علاقے میں تو لوگوں پر قیامت گزر جاتی ہے۔ میر پور سے جنگڑ تک کوئی بتیس تینتیس میل کا فاصلہ ہے۔ لیکن راستے میں کہیں پانی نہیں ملتا۔ بارش ہو گئی تو چھوٹ چھوٹے نالوں اور کنوؤں میں پانی نظر آنے لگتا ہے۔ ورنہ لوگ ایک ایک بوند کو ترس جاتے ہیں راستے میں ایک دو جوہڑ ہیں انسان اور حیوان انہیں کا پانی پیتے ہیں۔ ایک چشمہ بھی ہے لیکن گرمیوں میں دو اڑھائی مہینے خشک پڑا رہتا ہے۔ لوگوں نے کئی مرتبہ راجہ کی خدمت میں عرض داشتیں کیں لیکن وہ فائلوں کے انبار تلے دب کے غائب ہو گئیں۔ آخر ان لوگوں کے لیے لاکھوں روپے خرچ کر کے نل لگوانے کا کام کون کرے۔ مہاراجہ صاحب ایسی سخاوتیں کرنے لگیں تو ریاست کا دیوالیہ پٹ جائے۔ آخر اس علاقہ میں رکھا ہی کیا ہے۔ لے دے کے صرف میرپور کی بستی اہمیت رکھتی ہے۔ بڑے بڑے تاجر اور ضلع کے افسر وہیں رہتے ہیں۔ وہاں ایسے کنوئیں موجود ہیں جن میں سال بھر پانی رہتا ہے۔

لاری پیر ک ڈھلوانوں پر بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ ان پہاڑوں اور پہاڑی دروں پر وگ پیر کیوں کہتے ہیں۔ چھبال کے علاقے کے درمیان پہاڑوں کی جو دیوار سی کھنچی ہوئی ہے۔ وہ کچھ زیادہ اونچی نہیں۔ پھر ان پہاڑوں پر برف بھی تو نہیں پڑتی۔ پیر پنجال کی بات ہی اور ہے۔ اس کی بعض چوٹیاں سولہ ہزار فٹ سے بھی زیادہ اونچی ہیں۔ اور ان پر برف ہمیشہ جمی رہتی ہے۔ گرمی کے موسم میں جب پیر پنجال کے سلسلہ کوہ کی گھاٹیاں سبزہ سے ڈھک جاتی ہیں تو اس کی سبز قبا اور سفید برفانی عمامہ دیکھ کر سچ مچ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خضر صورت بزرگ سر پر نورانی عمامہ لیے کھڑے ہیں اصل بات تو اتنی ہی تھی آگے چل کر لوگوںے پیر پنجال سے طرح طرح کی روایتیں وابستہ کر لیں اور پانچ پیروں والی روایت تو ایسی مشہور ہوئی کہ بعض دروں میں لوگوں نے چبوترے بنا کے ان پر بیرقیں لگا دیں اور ایک شخص مجاور بن کے بیٹھ گیا۔ اب یہاں سے گزرتے وقت پیسہ دو پیسہ پھینکے جبھی طبیعت کو اطمینان نصیب ہو گا ورنہ یہ دغدغہ لگا رہے گا۔ کہ نہ جانے پیر صاحب ناراض ہو کر کیا کر بیٹھیں ل بہت سے پرانے معتقدات تشبیہوں سے ابھرتے ہیں۔ اور اکثر ملکوں کو دیو مالا کی تعمیر میں ان تشبیہوں کا بڑا حصہ ہے۔ کشمیر میں جو عام خیال ہے کہ ندی الہ سانپ یا سانپوں کا کرشمہ فیض ہے اسے بھی اسی قسم کی تشبیہ نے ہی جنم دیا ہے۔ اور اس لحاظ سے دیکھا جائے تو میر پور اور جھنگڑ کے درمیان جو پہاڑی سلسلہ پھیلا ہوا ہے اسے پیر کہنے میں کوئی ایسا حرج بھی نہیں اس پہاڑی سلسلہ کی چوٹی پر چیڑ کے درختوں کے گھنے جنگل ہیں ڈھلوانوں پر کہیں کہیں تو چھوٹی جھاڑیاں ہیں اور کہیں جھاڑیاں بھی نہیں ہیں بس کالی نیلی اور بھوری چٹانیں پھیلتی چلی گئی ہیں۔ یوں کہیے کہ پیر پنجال یعنی بڑے پیر کا عمامہ سپید اور چھوٹے کی دستار مبارک سبز رنگ کی ہے۔ یعنی تشبیہہ کا تعلق یہاں بھی موجود ہے۔ پہلے تو لوگ چھوٹے پیر کی کچھ ایسی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ لیکن جب سے یہاں دو تین لاریاں تباہ ہوئی ہیں لوگ اس سے ڈرنے لگے ہیں۔

لاری میں مجھ سمیت تیرہ مسافر تھے ان میں تین تو سپاہی تھے اور جو پونچھ کے غربی حصے کے رہنے والے تھے۔ اب چھٹی گزارنے گھر جا رہے تھے ایک ہندو دوکاندار جو اپنی نئی نویلی دلہن کو اس کے میکے سے لے کر آ رہا تھا تین چوتھائی دیہاتی جو کسی مقدمے کے سلسلے میں گواہی دینے میر پور آئے تھے اور دو مہاجن جو میر پور سے گڑ لے کر پونچھ جا رہے تھے۔ اور میں اور میرا لڑکا ظہیر اور میرا چھوٹا بھائی ضیا جو مجھے لینے لاہور سے آئے تھے ظہیر تتلیوں کو دیکھ دیکھ کے تالیاں بجا رہا تھا۔ دلہن لال جوڑا پہنے لمبا گھونگھٹ کاڑھے گٹھڑی بنی ایک گوشے میں پڑی تھی۔ اس کا خاوند اس کے پاس بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ باقی دونوں چپ چاپ بیٹھے تھے۔ ان میں ایک کی کڑبڑی داڑھی تھی دوسرا بالکل بڈھا پھوس تھا۔ دو سپاہی جو چودھویں پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنی پلٹن سے اجٹین کی باتیں کر رہے تھے تیسرا داد کے طور پر سر ہلا رہا تھا اور باقی لو گ اپنے اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ لاری کی گڑگڑاہٹ میں فریاد کا انداز تھا۔ جیسے وہ پیر کی چڑھائی چڑھنا نہیں چاہتی۔ لیکن ڈرائیور اور پٹرول اسے کھینچے جا رہے تھے۔ پٹرول کی عظمت کا احساس سب کو تھا کیونکہ ایک سوا میں اس کی تیر بو پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن مجھے سب سے زیادہ تھا کیونکہ میں ٹنکی کے پاس اگلی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ گاڑی بار بار اچھلتی تھی۔ گویا پٹرول اور ڈرائیور دونوں کے پھندے سے آزاد ہو کر کہیں بھاگ جانا چاہتی ہے۔ کبھی کبھی لاری کا پہیہ کسی گڑھے میں جا پڑتا تھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سارے انجر پنجر ڈھیلے ہو گئے کسی مسافر کا سر چھت سے جا ٹکراتا تو کوئی سیٹ پر اوندھے منہ گر پڑتا کبھی کبھی وہ گیند کی طرح اچھلتی تھی اور ہم سب اس کے ساتھ گیند کی طرح اچھلتے تھے۔ اب دھوپ تیز ہو گئی تھی اور یہ مڑتی تڑتی کچھ سڑک پر جو سنگلاخ چٹانوں اور چیڑ کے درختوں میں بل کھاتی ہوئی چلی گئی ہے۔ دھوپ ہانپتی ہوئی چٹانوں اور چیڑ کے درختوں یں بل کھاتی ہوئی چلی گئی ہے۔ چھوپ ہانپتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ یوں تو ا س اجاڑ پگ ڈنڈی کو سڑک کہنا مذاق ہے۔ لیکن خیال آتا ہے کہ ایک وہ زمانہ بھی تھا جب لوگ پیدل یا ٹٹوؤں پر سفر کرتے تھے۔ اور میر پور سے پونچھ تک کا راستہ جو دن بھر میں طے ہوتا ہے تین چار دن میں طے ہوا تھا۔ تو یہ کچی سڑک غنیمت معلوم ہونے لگتی تھی۔ اس سڑک کی قدر ساون بھادوں کی مہینو ں میں معلوم ہوتی ہے۔ جب زور کی بارش سڑک کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے اور کئی کئی دن لاری اس طرح سے گزرتی نظر نہیں آتی۔ اب تو لوگوں کو لاری پر سفر کرنے کی کچھ ایسی عادت ہو گئی ہے کہ کئی دن سڑک کھلنے کے انتظار میں پڑے رہتے ہیں۔ انہیں ہمت نہیں ہوتی کہ پیدل ہی چل نکلے اصل میں ۱۹۳۱ء کی تحریک شروع نہ ہوتی تو یہ سڑک نہ بنتی اور لوگ آج بھی ان پہاڑی پگڈنڈیوں کو ٹٹوؤں کے ذریعے یا پیدل طے کرتے نظر آتے۔ اس تحریک کے بعد کہیں مہاراجہ کو احساس ہو ا کہ ڈوگرہ راج قائم رکھنا ہے تو سڑکیں بھی بنانی پڑی گی۔ تاکہ وقت آ پڑے تو ریاست کے مختلف حصوں میں آسانی سے فوج بھیجی جا سکے اصل میں سڑک تو فوج کے لیے بنی تھی مہاراجہ نے از راہ فیاضی دوسرے لوگوں کو بھی اس سفر کرنے کی اجازت دے دی۔

ملکھی رام سچ کہتا ہے کہ راج کرنا آسان نہیں۔ ریاست میں ذراسی شورش ہو گئی اور خزانوں کے منہ کھل گئے یہ یعنی مہاراجہ کو جگہ جگہ سڑکیں بنوانی پڑیں۔ یہ سڑکیں کچی ہی سہی لیکن آخر سڑکیں تو ہیں۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ سڑکوں سے بہت ڈرتے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ ان سڑکوں کے ذریعے باہر سے مال ہی نہیں آتا۔ صرف سیاح ہی نہیں آتے نئے خیالات بھی آتے ہیں۔ اور پونچھ وار راجہ موتی سنگھ تو سڑکوں سے زیادہ ڈاک خانوں اور تار گھروں سے خائف تھے انہوں نے مدت تک اپنے علاقے میں اس خیال سے ڈاک خانہ نہیں کھلنے دیا کہ ڈاک خانہ کھل گیا تو لوگ ان کی شکایتیں لکھ لکھ کر انگریزوں کے پاس نہ بھیجیں۔ آخر شکایتیں لکھ لکھ کر بھیجنے سے ہوتا ہی کیا ہے ؟ دراصل مہاراجہ ہری سنگھ بھی سڑکوں کے حامی نہیں تھے۔ کچھ ایسی مجبوریاں ہی آ پڑی تھیں کہ یہ سڑک بنوانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ ورنہ رعایا کی بھلائی تو اسی میں تھی کہ یہ سڑک نہ بنتی۔ آخر باہر کے لوگو ں کو اپنے ہاں آنے کا موقع ہی کیوں دیا جائے۔ اور پھر سڑک بن جانے سے بے چارے مرکبانوں کا نقصان بھی تو ہوا ہے۔ اور نقصان بھی ایسا ویسا نہیں بچارے سچھ مچ مر مٹے ہیں یعنی انہیں اور ان کے ٹٹوؤں کو اب کوئی پوچھتا نہیں۔

اس سڑک پر کوئی سنگ میل نظر نہیں آتا ۔کہیں کہیں چٹانوں پر کچھ ہند سے دکھائی دے جاتے ہیں۔ لیکن وہ اتنے دھندلائے ہوئے ہیں کہ صاف پڑھے نہیں جاتے۔ ایک جگہ لکڑی کا ایک بڑا سا کندا پڑا ہے۔ کندا کیا ہے پورے کا پورا درخت ہے جسے میں برسوں سے دیکھ رہا ہوں یہاں پہنچ کر میں ہمیشہ اطمینان ہو جاتا ہے کہ نواب منزل مار لی یعنی جھنگڑا کا فاصلہ متعین نہیں کر سکا۔

پیر کی چوٹی سے جھنگڑ تک کوئی تین میل کا اتار ہے لیکن راستہ خاصہ خطرناک ہے۔ ایسے ایسے موڑ آتے ہیں کہ وہ لاری کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کئی برس ہوئے یہاں ایک لاری گری تھی اور کئی جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔ پھر بھی یہاں پہنچ کر طبیعت میں ایک راحت سی محسوس ہوتی ہے۔ نیلی اور بھوری چٹانوں کو دیکھ کر جی اکتا گیا ہے۔ کچھ ایسی یکسانی ہے کہ کیا کہوں ایک موڑ دوسرے موڑ سے ذرا بھی مختلف نہیں ہوتا۔ یہاں اور کیفیت ہے۔ چیڑ کے درخت ہر طرف چھائے ہوئے ہیں۔ جن میں سے دھوپ چھن چھن کر سڑک پر پڑتی ہے۔ اور چھوپ چھاؤں کی شطرنجیں سی بچھی رہتی ہیں۔ یہاں سے جھنگڑ کا چھوٹا سا گاؤں بالکل زیر قدم معلوم ہوتا ہے اصل میں یہاں دو گاؤں ساتھ ساتھ ملے ہوئے ہییں ایک کا نام سریاہ ہے۔ دوسرے کا نام دھرسال جھنگڑ۔ سڑک جھنگڑ میں سے گزر تی ہے۔ لاریوں کا اڈہ بھی لیکن کبھی کبھی اسے سریاہ بھی کہہ دیتے ہیں۔ سڑک کے کنارے ایک نانبائی کی دکان ہے اور اس کے ساتھ کی دکان میں ایک ہندورسوئے نے اپنا بھوجن بھنڈار کھو ل رکھا ہے۔ سامنے کے رخ ایک بنئے کی دکان ہے۔ جہاں گھٹیا سگرٹوں سے لے کر گڑ اور نمک تک ضروریات کی چیزیں مل جاتی ہیں۔ اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ پانی کی یہاں کمی نہیں۔ اس لیے ۲۳میل سے تھکا دینے والے سفر کے بعد طبیعت کو ہمیشہ آسودگی کا احساس ہوتا ہے۔ جھنگڑ سے جموں کو بھی ایک سڑک نکلتی ہے نوشہرہ پہنچ کر یہ سڑک دو شاخوں میں بٹ جاتی ہے۔ ایک شاخ تو بیری پتن اور اکھنور سے ہوتی ہوئی سیدھی جموں چلی جاتی ہے۔ دوسری رام پور راجوری تک جا پہنچتی ہے۔ جب تک سڑک نہیں بنی تھی جھنگڑ کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ البتہ نوشہرہ اس نواح کی بڑی اہم بستی سمجھی جاتی تھی اور وہاں خاصی فوج رہتی تھی۔ لیکن جب سڑک بنی تو ایک دو کم پنیاں جھنگڑ بھیج دی گئیں جھنگڑ سے آگے دور تک میدانی علاقہ ہے۔ اور سیری کی بستی تو جھنگڑ سے ملی ہوئی ہے۔ ۱۹۳۱ء کے ہنگامے میں جسے یہ لوگ سمت ۱۹۸۸ء کی شورش کہتے ہیں سیری اور کھوئی رٹہ کے بازار بھی لٹ گئے تھے۔ اسی لیے جھنگڑ میں فوج بھیج دیگ ئی تھی تاکہ پھر کبھی شورش ہو تو کچل ڈالا جائے۔ ڈوگوں کو لے دے کے حکومت کرنے کا یہی طریقہ آتا ہے کہ جہاں ذرا گڑبڑ ہوئی فوج بھیج دی گئی۔ یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ شورش کی وجہ کیا ہے کتنے لوگ بھوکوں مر گئے۔ کتنے فاقوں سے جاں بلب ہیں۔ تحصیل کے پیادوں پٹواریوں گردواروں جنگل اور پولیس کے اہل کاروں نے قیامت مچا رکھی ہے اور ساہوکار کس طرح لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ جہاں ذرا شور مچا فوج آ موجود ہوئی اور حکومت کرنے کا طریقہ بھی تو طبع زاد نہیں ڈوگروں نے اپنے خداوندان نعمت یعنی سکھوں سے اڑایا ہے۔ ڈوگرے اچھے سپاہی ہوتے ہیں یا نہیں البتہ انہیں انسان شکاری کی خاصی مشق ہے اور نہتے انسانوں کو گولی مار دینے کے لیے بہادری کی کچھ ایسی ضرورت بھی تو نہیں۔

لاری جھنگڑ میں کوئی آدھ گھنٹہ رک کے پھر چل کھڑی ہوئی لیکن یہاں سے کوٹلی تک سپاٹ میدان ہے۔ اس لیے کاری کی گڑگڑاہٹ میں اب فراد انداز نہیں اور کہیں کہیں تو اس کا شور سہانے گیت کی طرح کانوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے۔ تینوں دیہاتی جھنگر ہی میں اتر گئے تھے نوجوان مہاجن اور اس کی دلہن نے بھی سیری ہی تک ساتھ دیا۔ دلہن اب بھی لمبا گھونگھٹ کاڑھے ہوئے تھی لیکن لال رنگ کے مہین کرتے میں سے اس کا نو شباب جسم چھلکتا نظر آتا تھا۔ لاری سے اتر کر جب وہ اپنے خاوند کے پیچھے پگڈنڈی کی طرف بڑھی تو ا س کے انداز میں جھجک سی تھی۔ اور اس کے قدم کچھ رکتے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ گو یا میکا چھٹنے کاسارا قلق اس کی چادر میں آ گیا تھا۔ میکے کو جہاں کی ہر چیز جانی پہچانی تھی جہاں ہر طرف روشنی ہی روشنی تھی۔ وہ پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ اس کے آگے اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اس اندھیرے میں ساس جس کی اسنے ایک ہی جھلک دیکھی تھی۔ کہیں دبکی بیٹھی تھی۔ نہ جانے وہ کب اس تاریکی میں سے نکل کر بھوکی شیرنی کی طرح اس پر جھپٹ پڑے۔ سامنے کی پہاڑی پر ایک گوالا اس علاقے کا مقبول عام گیت سپاہیا گا رہا تھا۔ دو سپاہیوں کے سینے میں اس جانی پہچانی دھن کو سن کر تن گئے تیسرا چپ چاپ بیٹھا رہا گویا اس دھن سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی کم از کم وہ اپنے آپ کو اس گیت سے مخاطب نہیں سمجھتا تھا۔ میرا ہاتھ بھی خود بخود مونچھوں کی طرف اٹھ گیا۔ آخر میں بھی تو سپاہی تھا۔ اور نہیں لوگوں کی طرح چھٹی گزارنے گھر جا رہا تھا۔

سیری سے آگے کھوئی رٹہ کا قصبہ ہے خاصہ بڑا بازار ہے۔ جس میں ا س علاقے کے عام قاعدے کے مطابق پتھر کا فرش بچھا ہوا ہے۔ ہمارے خاندان کی ایک شاخ یہاں آباد ہو گئی تھی۔ میرے کئی چچیرے بھائی اور رشتے کے کئی اور عزیز بھی یہاں رہتے ہیں۔ لیکن وہ سب کے سب ہندو ہیں۔ اس لیے اس سے کوئی تعلق ہی نہیں رہا اور گوپال دامن کے سوا ان میں سے کوئی کھل کے بھی تو نہیں ملتا۔ بس اس راستے آٹے جاتے کئی برس دو برس کے بعد ملاقات ہو جاتی ہے تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا ہوں اور جج کی تیز تیز نگاہیں میرے دل میں اتری جا رہی ہیں لیکن ان نگاہوں میں کچھ غصہ ہوتا ہے کچھ ملامت کچھ رحم کچھ تاسف اور کبھی کبھی تو شفقت کانور بھی جھلکنے لگتا ہے۔

کھوئی رٹہ سے پانی کے پل تک صاف میدان ہے۔ اس سے آگے سڑک کہیں کہیں ٹوٹی پھوٹی ہے۔ بان جسے بان گنگا بھی کہتے ہیں ایک تیز رفتار نالہ ہے یوں تو اس میں پانی زیادہ نہیں ہوتا لیکن گرمیوں کے شروع میں جب برف پگھلتی ہے یا برسات کے موسم میں جب جل تھل ایک ہو جاتے ہیں بان گنگا خاصی بڑی ندی کا روپ دھار لیتی ہے نہ جانے اس کے نام کے ساتھ لوگوں نے گنگا کیوں چپکا دیا ہے۔ کہاں یہ چھوٹی سی ندی اور کہا ں گنگا لیکن بان پر گنگا کا اضافہ کر کے ہندوؤں نے اس پر اپنا حق ثابت کر دیا ہے۔ مسلمانوں نے پہاڑی دروں پر کمپا مارا اور انہیں پیر بنا دیا۔ ہندوؤں نے ندی پر جال پھینکا یعنی اسے گنگا بنا کے اپنے کھاتے میں ڈال لیا۔ ندی تو چھوٹی ہے لیکن پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر اپنی گزرگاہ کے بہت سی زمین پر قبضہ جما لیا ہے تاکہ جتنا پھیلنا چاہے پھیل سکے۔ پھر اس کے کڑاڑے بھی بہت اونچے ہیں اور اس کا پل جو اس علاقے میں عجائبات کا نمونہ سمجھا جاتا ہے ڈاٹوں کے بغیر سوئٹرز لینڈ کے پلوں کے نمونے پر بنایا گیا ہے۔

یہاں سے اگلا پڑاؤ کوٹلی ہے۔ میر پور سے ۲۳ میل جھنگڑ اور ۹۲ میل کوٹلی چار پانچ ہزار کی آبادی کا قصبہ ہے۔ دہنے ہاتھ دریائے پونچھ ہے جس کے کنارے کنارے چشمے ہی چشمے پھیلے ہوئے ہیں۔ ان سے دور سرسوں کے پیلے پیلے پھول کھیت جن کی مینڈیں سبزہ سے ڈھکی ہوئی ہیں گویا زمرد کی جدول میں سونے کی گلکاری ہے اس سے آگے پھر چڑھائی شروع ہو جاتی ہے اور کہیں کہیں تو ایسے ایسے خطرناک موڑ ہیں کہ ڈرائیور چوک جاتے تو کسی کی ہڈی پسلی کا پتہ نہ چلتا ساتویں میل پر ایک خطرناک نالہ آیا جسے نیل کہتے ہیں۔ میں اب تو اس پر بھی پل بن گیا تھا ورنہ ایک زمانہ میں لاریوں کو نالے میں سے گزرنا پڑتا تھا (کوٹلی کے تین اور مسافر سوار ہوئے ان میں ایک تو کوٹلی کا مہاجن تھا۔ دوسرا ایک نوجوان کمپونڈر تیسرا پولیس میں محرر یا ہیڈ کانسٹیبل تھا) انہوں نے لاری میں بیٹھتے ہی باتیں شروع کر دیں کچھ بارش کے تذکرے کچھ فصل کا ذکر کچھ اناج اور گھی کی گرانی کے قصے۔ کانسٹیبل کی شکایت تھی کہ گاؤں والے لڑائی کی وجہ سے بہت دولت مند ہو گئے ہیں۔ ا س لیے سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔ غضب کہ ڈیڑھ روپے میں مرغی آتی ہے۔ بیس بائیس سیر لکڑیوں کا گٹھا سوا روپے میں ملتا ہے۔ مہاجن کہنے لگا۔ کل جگ ہے کل جگ جو ہو تھوڑا ہے بھگت کبیر کہہ گئے ہیں … لیکن حافظہ پر زور ڈالنے کے باوجود کبیر کا دوہا اسے یاد نہ آیا اور کسی نے پروا بھی نہ کی۔

سڑک کچھ دور دور یاہ کی گزرگاہ کے ساتھ چلتی ہے پھر دریا نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے دیو پیکر پہاڑوں کے توبہ توبہ پھیلے ہوئے سلسلے کو اپنے آغوش میں لے لیتے ہیں َ لیکن وہ پہاڑی دروں سے نکل کر دریا کی گزرگاہ کے پیچھے بھاگتی ہے اور بالآخر اسے پا لیتی ہے۔ اب سڑک دریا کے ساتھ ساتھ چلتی ہے لیکن دریا کا کڑاڑ بہت اونچا ہے۔ سڑک کو اتنی اونچائی پر دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے ک وہ اس کی نگرانی کر رہی ہے۔ اور اسے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہتی۔ اسے ڈر ہے کہ کہیں و ہ پھر اس سے جدا نہ ہو جائے۔ پھر یہ ایک دوری بھی گراں گزرنے لگتی ہے۔ وہ گھاٹیوں سے اتر کے دریا کے قریب آ جاتی ہے۔ اور وہ دونوں پہلو چلنے لگتے ہیں اور سڑک کی اس بیتابی کو وجہ سمجھ لینا کچھ ایسا مشک بھی نہیں۔ یہ پہاڑوں کا بانکا جس نے چٹانوں کے سینے چھید کے اپنے لیے راستہ بنایا ہے حسین بھی تو اتنا ہے کہ اس کے حسن کی تعریف کرنے کے لیے شاعروں کو موزوں الفاظ نہیں ملتے خاص طور پر جاڑے کے موسم میں جب رگوں میں خون منجمد ہو جاتا ہے اور بہار کے شروع میں جب خوبانی کی ادھ کھلی کلیوں کی خوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے۔ اور سوئے جذبات ایکا ایکی جاگ اٹھتے ہیں َ وہ بہت ہی مہین معلوم ہوتا ہے۔ اس کی چال میں وقار اور تمکنت ہے۔ محبت میں عشق کا گداز ہے اور اس ک پانی میں آسمان کی نیلاہٹ کی ساری رعنائی سمٹ آئی ہے۔ اور جب اس کی موجیں سپید سپید پتھروں اور اودھی نیلی اور لال چٹانوں سے ٹکرا کر پھیلتی ہیں تو بلور کی چادر سی لہرا جاتی ہے جس طرح اس کے حسن کی کیفیت بیان کرنے کے لیے وہ ساری تشبیہیں بیکار بیکار ہو جاتی ہیں جو شاعروں کو انسانی حسن نے سمجھائی ہیں۔ اسی طرح اس ک شیریں نغمہ کے لیے ہمیں موسیقی کی کتابوں میں کوئی اصطلاح نہیں ملتی اور نہ دیپک ہے۔ نہ میگھ بلکہ وہ ایسا سرمدی نغمہ ہے جو کہیں عالم ملکوت ہی کی فضاؤں میں گایا جاتا ہے۔

پہاڑی دروں سے نکلتے نکلتے سورج کے چہرے پر زردی چھا گئی ہے۔ اب درختوں کی پھننگ اور پہاڑوں کی گھاٹیوں پر دھوپ دم توڑ رہی ہے۔ دریا کی سطح پر سونے کا ورق سالمحہ بھر کے لیے کانپا اور پھر اس کی رنگت سیاہ پڑ گئی۔ ہم پونچھ کی حد میں آ پہنچے تھے۔ اور ظہیر چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ وہ رہا تتا پانی میں نے نظر اٹھا کے دیکھا۔ دریا کے اس پار تتا پانی کی عمارتیں نظر آ رہی تھیں۔ ڈرائیور نے لاری کی رفتار تیز کر دی اور تھوڑے عرصے میں ہم شعر آ پہنچے۔ یہ خاصا بڑا گاؤں ہے۔ ایک زمانے میں یہاں کسٹم کی چوکی تھی۔ اب ایک پکی عمارت ہے جس پر ٹین کی چھت ہے۔ اس کی یادگار باقی رہ گئی ہے۔ لیکن پونچھ کی حد میں پہنچے ہی ایسا معلوم ہوا کہ فضا بدل گئی۔ پہاڑیاں زیادہ سرسبز ہیں۔ ہوا میں زیادہ خنکی ہے اور ہر طرف درختوں کے جھنڈ چھائے ہوئے ہیں َ اب راستے میں قدم قدم پر چشمے ملنے لگے۔ پہاڑ کی ڈھلوان پر سوتے پھوٹ نکلے ہیں اور پانی سڑک پر بہہ رہا ہے۔ زرخیز میدان پھیلتے چلے گئے ہیں۔ یہ شہر سے ملے ہوئے بیدار اور بلنوئی کے گاؤں ہیں۔ ان سے آگے ٹبل یہاں سڑک کے دہنے ہاتھ ہٹ کر شمال کی طرف لیکن مداریوں کی بستی تک پہنچ کر اس کا رخ پھر بدل جاتا ہے اور وہ دریا کی گزرگاہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی مشرق کی طرف ہو لیتی ہے۔ اب سورج غروب ہو چکا تھا۔ شام کی سیندور بھری مانگ کی چمک پھیکی پڑ چکی تھی۔ اور رات کے کاجل نے ہر طرف پھیل کر آسمان کی نیلاہٹ کو دھندلا دیا تھا۔ اور ستارے اس وسیع سمندر میں کشتیوں کے بادبان معلوم ہوتے تھے۔ پرندے بسیر ا کر لینے کے لیے درختوں پر گرے پڑتے تھے۔ اور ا کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی شام کے دھندلکے میں ایک ہد ہد کی کلغی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ایک ہریل بسیرے کی تلاش میں اڑا جا رہا تھا۔ سردی خاصی تھی اور ہم سب ٹھٹھرے جا رہے تھے لیکن ہوا کے ٹھنڈے جھونکے اپنے ساتھ مٹی اور گھاس کی سوندھی سوندھی بو بھی اڑا لائے تھے۔ جس میں خوبانی اور شفتالو کی کلیوں کی ہلکی ہلکی خوشبو اور چنبیلی کے پھولوں کی مہک گھل مل رہی تھی۔ ہمارے دہنے ہاتھ کی ڈھلوانوں پر چیڑ کے درخت چھائے ہوئے تھے۔ اور دھندلکے میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ڈوگرہ سپاہی کندے پر بندوقیں رکھے ہوئے پہرہ دے رہے ہیں تاکہ ہوا چنبیلی کی خوشبو چرا کے لوگوں تک نہ پہنچا دے۔

تینوں سپاہی مدار پور ہی میں اتر گئے اور دریا کا پر خروش نغمہ اور جھرنوں کے سہانے گیت سننے مشرق کی طرف بڑھے۔ رات کا جادو مجھ پر چھایا جا رہا تھا۔ اور آنکھیں نیند سے بوجھل ہوئی جا رہی تھیں۔ لمحہ بھر ک لیے مجھ پر غنودگی چھا گئی اور لاری ایک پتھر سے ٹکرا کے اچھلی تو میں چونک پڑا۔ میرے سامنے دریا کی کالی کالی موجوں سے ہٹ کے ہزاروں جگنو اڑ رہے تھے۔ اور ان کے بعد پراسرار نیلا نیلا دھندلکا چھایا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر تک تو میں بالکل نہ سمجھ سکا کہ میں کہاں ہوں اور اتنے جگنو کہاں سے آ گئے۔ پھر یکایک مجھے خیال آیا کہ لاری منزل پر پہنچ گئی ہے۔ میرے سامنے دریا کے اس پار پونچھ کا شہر ہے۔ اور روشنی کے نقطے جنہیں میں جگنو سمجھ رہا ہوں بجلی کے قمقمے تھے۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /backup/wwwsirfu/public_html/wp-content/themes/upress/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /backup/wwwsirfu/public_html/wp-content/themes/upress/comments.php on line 89

Leave a Reply