122

ڈپارٹمنٹل ٹیموں کا خاتمہ,عامر سہیل نے بورڈ کو آڑے ہاتھوں لے لیا

Spread the love

لاہور (سپورٹس رپورٹر)سابق قومی اوپنر عامر سہیل نے ممکنہ طور پر

ڈپارٹمنٹل ٹیموں کو ختم اور ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ڈھانچے کو چھ سائیڈز تک

محدود کرنے پر پی سی بی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ انہوں نے بورڈ پر زور دیا کہ

پہلے ان لوگوں کو ہٹایا جائے جو کہ اہم عہدوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف ایک شخص کی خواہش پر چھ ٹیموں پر مشتمل ڈومیسٹک

اسٹرکچر کی پالیسی پر غور کیا جا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ملک میں کافی ٹیلنٹ

موجود ہے جس کو نئے ڈھانچہ لاگو کر کے متاثر کرنے کی کوشش کی جار ہی

ہے تاہم یہ کار آمد ثابت نہیں ہوگا۔ ماضی میں تمام محکمہ جاتی ٹیمیں ریاستی

پالیسی کے مطابق بنی تھیں اور حکومت کا ان کی تشکیل میں کردار نہیں تھا اور

اسٹیٹ پالیسی کو تبدیل کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں تبادلہ خیال کے مرحلے سے

گزرنا ہوگا۔ چھ ٹیموں کے آئیڈیا کو پہلے پی سی بی کی جنرل باڈی کے سامنے

پیش کرنا چاہئے تھا اور پھر بورڈ آف گورنرز اس معاملے کو دیکھتے جس کے

بعد اسے حکومت کے پاس بھیجا جاتا مگر بدقسمتی سے صرف ایک شخص کی

خواہش پر تمام غیر آئینی طریقے اختیار کئے جا رہے ہیں تاکہ ریاستی پالیسی کو

ختم کیا جا سکے۔ اگر پی سی بی تمام ڈپارٹمنٹل ٹیموں سے اپنا الحاق ختم کردیتا

ہے تو یہ ادارے اپنے کھیلوں کے شعبوں کو نہیں چلا سکیں گے جس کا مطلب

یہی ہوگا کہ وہ دیگر کھیلوں کی ٹیموں کو بھی ختم کر دیں گے کیونکہ محکموں

کو کرکٹ کے ذریعے بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ پی سی بی معیار کا بہانہ بنا

کر ڈومیسٹک ڈھانچے میں تبدیلی کرنا چاہتا ہے مگر یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ

مقدار کی بدولت ہی معیار آتا ہے۔ دوہزار چار میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں ہم نے

سات ٹیموں کے فارمیٹ کا تجربہ کیا اور اس کے بعد ٹیموں کی تعداد میں اضافہ

ہوا جو کہ اب 16تک پہنچ چکی ہے اور اس کی وجہ عوام میں کرکٹ کی مانگ

ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں