سانحہ ساہیوال اور اس پر حکومتی بوکھلاھٹ

Spread the love

گذشتہ روز ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 4 افراد کی ہلاکت نے ملک کے در و دیوار کو ہلا کر رکھ دیا اس واقعہ میں سی ٹی ڈی کی طرف سے ہر گھنٹے کے بعد موقف تبدیل کرتے رہنے سے معاملہ ہر طرح سے مشکوک ہو گیا اور بعد میں سامنے آنے والے حقائق نے جو پرتیں کھولی ہیں ان سے ملک کی فضا اور بھی زیادہ سوگوار ہو گئی۔
سی ٹی ڈی کی طرف سے پہلے موقف اختیار کیا گیا کہ کار میں سوار افراد اغوا کار تھے جن کا مار کر بچوں کو بازیاب کرا لیا گیا اور اس کو دو روز پہلے فیصل آباد میں ہونے والی کارروائی کے ساتھ جوڑا گیا۔ اس کے بعد کار میں سوار افراد کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خود کش جیکٹیں اور بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کا دعویٰ سامنے آیا، رات دیر گئے گوجرانواکہ میں سی ٹی ڈی کی ہی کارروائی میں دو افراد کے ہلاک کرنے کے بعد ان کو بھی خلیل اور ذیشان کے ساتھی قرار دیا گیا۔

اہل علاقہ کے مطابق ذیشان اور خلیل اچھے لوگ تھے اور خلیل کی اپنے علاقے میں پرچون کی دکان ہے۔ محلہ داروں نے بتایا ہے کہ ذیشان کا ایک بھائی ڈولفن فورس میں ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈولفن فورس میں بھرتی کے لیے ذیشان کے کاغذات بھی جمع ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ذیشان کے بھائی کو کسی قسم کا موقف دینے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اب تک ڈولفن فورس کا اہلکار ذیشان کا بھائی کسی بھی فورم پر سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس کے اہل خانہ کی طرف سے کوئی اس کے دفاع کے لیے سامنے آیا ہے۔ اس بات سے حالات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

خلیل کے بارے میں قرب و جوار کے دکاندار جو اس کے ساتھ عمومی طور پر آٹے کا کاروبار کرتے ہیں نے بتایا کہ خلیل انتہائی شریف النفس انسان اور ایک اچھا کاروباری تھا جس کے ساتھ کسی کو کبھی شکایت نہیں ہوئی۔علاقے کے ایک بزرگ نے بتایا کہ خلیل سے قبل اس کے والد یہ سارا کاروبار چلاتے تھے اور اب بزرگی کے باعث سارا کام خلیل کے حوالے تھا۔ علاقہ کے دوردراز کے کاروباری حضرات نے بھی خلیل کے بارے میں اچھی رائے ہی پیش کی ۔ ذیشان کے متعلق بھی اس کے علاقہ مکینوں نے بتایا کہ وہ بھی ایک اچھا انسان تھا۔

سانحہ کے بارے میں راجہ بشارت نے پریس کانفرنس میں خلیل اور اس کے اہل خانہ کو دہشت گرد ہی گردانا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان دہشت گردوں کا پیچھا نہ کیا جاتا تو کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا تھا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ذیشان دہشت گرد تھا اور داعش کے لیے کام کر رہا تھا ،اس کے دو ساتھی اس کے گھر سے فرار ہوئے ہیں۔ راجہ بشارت نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ دو دن بعد آ جائے گی سب معلو م ہو جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ 19 جنوری کو سیف سٹی کیمرے نے سفید کار کو مانگا منڈی کے قریب ٹریس کیا، سی ٹی ڈی کے مطابق ساہیوال کے قریب کار کو روکا گیا تو فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے لیے مشتبہ گاڑی کا آبادی سے باہر نکل جانے کا انتظار کیا گیا۔راجہ بشارت نے خلیل کے لواحقین کے لیے دو کروڑ امداد کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ ہم سی ٹی ڈی کے کسی موقف کو تسلیم نہیں کرتے اور جو بھی کارروائی ہو گی وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر ہو گی۔

راجہ بشارت کی پریس کانفرنس کے موقع پر سیف سٹی کے کیمروں میں محفوظ کی جانے والی ایک کار کے متعلق بتایا گیا کہ یہ مشکوک کار ہے،اور آواز بلند ہوئی کہ یہ چھوٹی گاڑی نہیں بلکہ ہنڈا سٹی یعنی بڑی گاڑی ہے جس وزیر موصوف نے آئیں بائیں شائیں سے بات آگے بڑھا دی۔ ٹی وی پر چند مرتبہ کی فوٹیج دکھائی گئی جس میں مشکوک کار کسی بھی طرح وہ نہیں تھی جس میں خلیل، اس کے اہل خانہ اور مبینہ دہشت گرد ذیشان مارا گیا۔

ان تمام باتوں کے برعکس سوشل میڈیا پر عوام کی طرف سے جاری کی جانے والی موقعہ پر بنائی گئی متعدد ویڈیوز وائرل ہوئی پڑی ہیں جن میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کی گاڑی نے ٹکر مار کر خلیل کی گاڑی کو روکا اور بچوں کو نکال کر گولیاں چلا دیں جس کو متعدد عینی شاہدین نے بھی رپورٹ کیا۔سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو گاڑی سے سوٹ کیس اور دیگر سامان نکال کر اپنی گاڑی میں رکھ کر وہاں سے جاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔اس وقت نظر آنے والی چیزوں میں نہ تو اسلحہ تھا اور نہ جیکٹیںاور نہ دھماکہ خیز مواد۔
ان کے پاس سے وہ اسلحہ بھی برآمد نہیں ہوا جس سے بقول سی ٹی ڈی ان لوگوں نے فائرنگ کی تھی۔ اس کے بعد یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ان کے ساتھی موٹر سائیکل پر سوار تھے جن کی فائرنگ سے یہ لوگ ہلاد ہوئے، یہ بھی کہا گیا کہ کار سے ایک آدمی نے نکل کر فائرنگ کی تھی۔ اس کے برعکس ساہیوال کے ڈی سی نے بیان کیا کہ اسے مزاحمت کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔

حکومت اور سی ٹی ڈی لمحہ لمحہ اپنے بیان تبدیل کرتی رہی اور کسی کے پاس اس سانحہ کا کوئی تسلی بخش جواب موجود نہیں تھا۔ اس سانحہ پر ہزاروں داستانیں ہیں اور سینکڑوں سوال مگر جواب کسی کا نہیں، مثلاً

خلیل دہشت گرد تھا تو بچوں کو لے کر کیا کارروائی کرنے جا رہا تھا، دوسری طرف اس کے گاوں میں شادی کا ثبوت مل گیا جس سے معلوم ہوا کہ وہ شادی پر ہی جار ہا تھا۔اسی طرح جب یہ لوگ دہشت گرد تھے تو پھر حکومت کی طرف سے دو کروڑ کی امداد کس بنیاد پر دی جائے گی، کیا حکومت دہشت گردوں کی سہولت کار بن رہی ہے؟ پھر پنجاب حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ سی ٹی ڈی کے تمام اہلکاروں کو گذشتہ رات گرفتار کر لیا گیا ہے ،جب اہلکاروں کا گرفتار کر لیا گیا ہے تو ایف آئی آر نا معلوم افراد کے خلاف کیوں درج کی گئی ہے، جب ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف ہے تو گرفتار کس کو کیا گیا ہے؟

غرض اس حکومتی اعلامیوں اور اعلانوں کی دلدل میں جیسے جیسے اترتے جائیں گے ہمارا ذہنی توازن اتنا ہی بگڑتا جائے گا۔

ایک انتہائی جان کنی کا عالم اس وقت سامنے آیا جب وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اظہار ہمدردی کے لیے ساہیوال پہنچے اور روایتی حکمرانہ گفتگو کی تو خلیل کے بھائی جلیل نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ غریب ہیں ہمارے پاس پولیس اور وکیلوں کو دینے کے لیے پیسے نہیں ہیںہم اس کیس کی پیروی نہیں کر سکتے مہربانی فرما کر آپ تشریف لے جائیں۔ یہ ایسا لمحہ تھا جب دیکھنے اور سننے والوں کا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا اورسردی کے باوجود وزیر اعلی کی پیشانی پر بھی پسینہ نمودار ہو رہا تھا۔

اس سارے واقعہ کے بعد سی ٹی ڈی نے بھی انسپکٹر صفدر حسین کی مدعیت میں دہشت گردی، اسلحہ، دھماکہ خیز مواد رکھنے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور یہ صاف نظر آرہا ہے کہ 24 گھنٹے گزرنے کے بعد تمام ڈرامہ لکھ کر اس کے کرداروں کا تعین کر لیا گیا ہے اور یہ ایف آئی آر اس لیے درج کی گئی ہے کہ مقتولین کے لواحقین کو بعد میں ڈرایا دھمکایا جا سکے اور ان کو خوفناک نتائج کی دھمکیاں دے کر خاموشی سے مقدمہ واپس لے کر کارروائی سے دست بردار کریا جا سکے۔

ہم نہیں سمجھتے کہ حکومت اور اداروں کو اس طرح کی کارروائی عمل میں لانی چاہیے تھی کیونکہ ہمارے ملک میں قانون تو ہے نہیں، ایک پولیس اہلکار کے مطابق نامزد ملزمان کے ساتھ اکثر مقدمات میں نامعلوم افرادکا لفظ اس لیے شامل کیا جاتا ہے کہ اس کی آڑ میں جس کو چاہیں پکڑ کر اندر ڈال دیں۔

بلا جواز اس طرح کی کارروائیاں عمل میںلائی جا رہی ہیں یہ سب بیان بازیاں چند دن بعد ختم ہو جائیں گی، آج تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اس طرح کی کارروائیوں میں کتنے لوگ مجرم ثابت ہوئے، کتنے لوگوں کو نشان عبرت بنایا گیا کتنوں کو سزائیں دی گئی ہیں؟ ساری فہرست ہمارے سامنے ہی تو رکھی ہے۔جو کچھ گذشتہ کیسوں میں ہوتا رہا ہے وہی کچھ یہاں بھی ہو گا۔ اس سے پہلے بھی مردوں کے لاشوں سے کفن کھینچ کر سیاست چمکائی گئی ہے اور اب بھی یہی حالت ہے۔

حکومت کی طرف سے بچوں کی کفالت کا نعرہ مستانہ بھی بلند کیا گیا ہے جو اس سے قبل بھی بہت سے ادوار میں ہوا ہے مگر بعد کے نتائج پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو حکومت بتا دے کہ اس طرح کے حادثوں میں پہلے بھی حکمرانوں نے کتنے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کا نعرہ بلند کیا تھا ان کی کفالت پر جو کچھ خرچ کیا جارہا ہے کیا کسی حکومت کے پاس کوئی ریکارڈ ہے ؟کوئی بتا سکتا ہے کہ اب تک حکومت کتنے ایسے ہی یتیموں کی کفالت کر رہی۔

آج تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اس قسم کی کارروائیوں میں کسی کو سزا اس لیے نہیں ہوئی کہ اس قسم کی دبنگ کارروائی صرف وہی پولیس اہلکار سرانجام دیتے ہیں جن کے سروں پر مقتدر اشرافیہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمہ داروں کے خلاف موثر کارروائی ہوتی تو شاید یہ سانحہ رونما نہ ہوتا ۔ کیا کیجئے 70 برسوں سے صرف لیکر ہی پیٹ رہے ہیں۔

یاد رکھیں بیشک ہماری آنکھیں دیوار کے اس پار نہیں دیکھتیں مگر اللہ کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ مظلوموں اور یتیموں کی آہوں اور سسکیوں کو مالک کائنات کی بارگاہ میں جانے کے لیے کسی ٹکٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

Please follow and like us:

Leave a Reply