غیبی امداد (افسانہ) شاکرہ نندنی

Spread the love

میلے کچیلے کالے سے گنگھریالے بالوں والے نجو نے اپنی منجھلی بہن کو بازو سے پکڑ کے جھنجھوڑتے ہوئے کہا ’’اٹھ صبح ہو گئی ھے………. کچھ ٹکر پانی کا انتظام کر نذیراں۔‘‘

یہ کہہ کر وہ بیٹھ گیا۔ ’’نہ جانے دنیا میں ہم کیا کرنے آئے ہیں .. ……نہ گھر ہے نہ گھاٹ ہے …………. در در ہے اور ہم ھیں۔ خدا ہے بارش ہے طوفان ہے اور ہماری کٹیا ہے جو کبھی بھاگتی ہے تو کبھی بھیگتی ہے یا پھر اڑتی ہی رہتی ہے۔

اوپر سے لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ منہ اٹھا کر دعا کرتے رہتے ہیں۔ اللہ پاک مینہ برسا رحمت کر باران رحمت بھیج ………….. ہاہاہا

نجو نے ہنسنے کے انداز میں روتے روتے اچانک سے آسمان کی طرف منہ اٹھایا اور بولنے لگا” خاک باران رحمت ہے جو ہمارے منہ پہ بارہ بجا کر الٹا زحمت بنے جاتی ہے ……….. پھر آسمان سے برستی بارش کا ہمیں حکم ہوتا ہے اٹھو اور پناہ ڈھونڈو۔

جگہ جگہ تھاں تھاں پناہ ڈھونڈنی پڑتی ہے ……….. کبھی کسی امیر کی ٹھڑی تو کبھی کوئی سرکاری عمارت وغیرہ۔ آسمانوں کا خدا ہے کہ سنتا دیکھتا بھی انکی ہے “جو بے آسرا نہیں۔ پکی کوٹھیوں کے مالک ہیں۔ کم از کم ہماری دعا ہی قبول کر لے۔ مگر نہیں ” ہم سے تو اسکو ایسا بیر ہے “جیسے ہم کسی اور خدائی نظام سے جان بوجھ کر یہاں آ ٹپکے ہوں۔ پتہ نہیں ہمارا تعلق بھی خدا سے ہے کہ نہیں۔

پیدا ہوئے تو جھونپڑی تھی آج بھی جھونپڑی میں ہیں۔ اور مرتے دم تک شاید جھونپڑی ہی رہ جائے گی ہمارے ساتھ …………

میرے وڈے بھی مر گئے۔ ایسے ہی در بہ در شہر شہر پھرتے پھرتے۔ یقیناً میں بھی جھونپڑی اٹھاتے بھگاتے مرجاؤں گا کسی دن۔ جیسے اپنے پرکھوں کو میں دفن کر کے چل دیا واپس کبھی قبر پہ نہ لوٹا تو اسی طرح میرے بال بچے بھی مجھے کہیں دفنا کے چلے جائیں گے۔

پھر لوٹ کہ ہم کتھے مڑتے ہیں۔ ہماری تو قبروں کے نام و نشان نہیں رہنے دیتے۔ ہمیں کسی چھوت کی بیماری کی طرح سمجھا جاتا ہے کہ لوگ ہمارے پاس بھی نہیں بھٹکتے۔۔ ہر کوئی ہم سے کنی کترا کہ منہ پھیرے جاتا ہے۔ جب کسی کا دل کرتا ہے بھگائے جاتا ہے …………

آخر تو ہمارا کوئی قصور ہو گا کہ لوگ اور خدا ہماری نہ سنتے ہیں نہ ہمیں توجہ کے لائق سمجھتے ہیں۔

اور یہ عجیب مصیبت آن پڑتی ہے ہم پر “اس نہ ختم والے کھلے آسمان کے تھلے۔ آسمان کو حکم ملتا ہے مینہ وسا” تے آسمان بھی منہ اٹھا کہ برسنا ہی شروع کر دیتا ہے۔ ہمیں کوئی سنیا (پیغام) ہی بھجوا دے کہ بندوبست کر لو اپنا نجو صاحب” پر نہیں ؟ ہم تو کچھ لگتے ہی نہیں رب سائیں کے۔ شاید خدا نے یہ کھلا آسمان ہم سے بیر پالنے کو بنایا ہے۔ نہ آسمان مکتا (ختم) ہے……….. نہ ہماری دوڑ ختم ہوتی ہے۔ پھر جب ہم اپنی کوشش اور محنت سے بھاگ دوڑ کر کے پناہ گاہ لبھ (ڈھونڈ) لیتے ہیں تو بمشکل رات پوری گزرتی ہے۔ نیندر (نیند) ہے اسکو بھی ہم سے اگ
لگی ہوئی ہے کہ آتی ہی نہیں۔ جے (اگر) کدی بھول بھولیکھے آ وی جاوے نیندر ان فضول اکھیاں (آنکھوں کو) نوں تو سویرے جب اکھ (آنکھ) کھلتی ہے تو سر پہ کھڑا ھویا زمینی خدا نمودار ہوتا ہے.سویر تے نور ویلے گالیاں نفرت سے گلاں سنا کے بھگا دیتا ہے۔

پوری رات آسمان دا خدا بھگاتا ھے۔ سویر نال زمین پہ چلنے پھرنے والا خدا بھگاتا ہے۔سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے نصیب کا فیصلہ کیوں سبھی خدا رل مل (مل جل) کر بار بار ایک ہی کرتے ہیں کہ دھکے کھاؤ تے ذلت اٹھاؤ۔

اچھا نذیراں میں بشیری کی دوائی لیکر آتا ہوں پاس او جیڑا (جو) اللہ سائیں دا گھر ہے وہاں اچھے نیک لوگ ہوتے ہیں ” ان سے امداد لے کر آتا ھوں۔

اسلام علیکم و رحمۃ اللہ” اسلام علیکم و رحمۃ اللہ “پیش امام نماز نے سلام پھیرا” تو نجو نے کھڑا ہو کر کہا” میرے بھراؤ (بھائیوں) میری بہن بیمار ہے میں مجبور ہوں اور اللہ پاک کے اس گھر میں آپ کے آگے سوال کرتا ہوں دوائی لینی ہے امداد کرو ہم پکھی واس ہیں پردیسی ہیں اس سے پہلے کہ نجو مزید بولتا “کسی نے زبردستی ہاتھ پکڑ کر بٹھاتے ہوئے کہا کہ تمھیں شرم نہیں آتی اللہ کی عبادت میں خلل ڈالنے آئے ہو۔

تمھیں پتہ نہیں مسجد میں مانگنا مکروہ ہے گناہ ہے۔

جاؤ مانگنا ہے تو بازار جا کرو مانگو۔

مسجد میں میلے کچیلے کپڑے پہنے اور گندی سی صورت لے کر آ گئے ہو دفع ہو جاؤ یا چپ رہو۔

پیش امام نے دعا مانگنا شروع کر دی۔ یا اللہ پاک ہم پہ رحم کرہماری تنگ دستیاں دور فرما خزانہ غیب سے ہماری امداد فرما ہم سب میں پیار محبت بڑھا ہمیں ایک کر دےیا اللہ ہم تیری مخلوق ہیں ہم پر کرم کرہمیں ہدایت دے بے آسراؤں کا سہارا بن بیماروں کو شفاء دے غریبوں کو ایمان اور دولت سے مالا مال کر۔۔۔۔ آمین

مسجد کے چندے والا رومال لیے دو لوگ باری باری سب کے آگے آتے اور سب اس میں پیسے ڈالے جاتے نجو حیرانی سے سب کچھ تکتا رہا جب رہا نہیں گیا” تو نجو نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ ٹوکری میں پیسے کس کے لئے جمع کیے جا رہے ہیں؟ مولوی نے کہا” کہ اللہ پاک کے لئے” اللہ پاک کے اس گھر کے لئے اچھا کہہ کر نجو مسجد سے نکل آیا۔

راستے بھر نجو مولوی کی دعا کے متعلق سوچتا اور پھر وہی دعا زبان پہ دہراتا اللہ ہم تیری مخلوق ہیں ہم میں پیار محبت بڑھا ہماری تنگدستیاں دور فرما پر آیا تو نجو ہر بار رک جاتا اور سوچتا ” کہ جب خدا تنگدستیاں دور کرتا ہے تو خدا کی ٹوکری کیوں؟ اچھا اچھا سمجھ گیا اللہ پاک انکو غیب سے سب سے چھپا کر دیتا ہو گا تبھی یہ لوگ اللہ کو اپنی طرف سے ٹوکری میں پیسے دیتے ہیں تا کہ اللہ کے گھر میں سنگ مرمر لگے وہ ٹھنڈی ہوا والی مشین لگے ٹھنڈے پانی والے کولر چونے پتھر لوہا لگے لوگ ان پیسوں سے ٹھیک ٹھاک مضبوط عمارت بار بار گرا کر نئی بناتے ہیں شاید خدا کو ایک ہی نقشے کی عمارت پسند نہیں ہاں شاید خدا بھی ایک طرح کی عمارت میں رہ رہ کر بور ہو جاتا ہو گا لیٹرین بھی چینی کے پتھر سے سجی ہونی چاہئے۔

اتنی بڑی مسجد میں بندے بھی بیس پچیس ہیں وہ بھی آ کر چند منٹوں بعد بھاگ جاتے ہیں شاید ان لوگوں کے جانے کے بعد خدا یہاں آ کر رہتا ہو گا اسلئے پوری عمارت میں وہ نرم نرم گدا بچھا ہوا ہے بڑی موج کرتا خدا بھی چنگا بھلا کاروبار ہے خدا کا خود تو ٹوکری والا کاروبار کرتا ہے اور ہمیں کاروبار کیا دوائی کے پیسے تک نہیں دیتا سمجھ گیا جب ہمارے مقابلے میں خدا ہے تو ہمیں کس نے پوچھنا پھر آسمان والے خدا پر تو لوگوں نے احسان کر رکھا ہے” اس لئے یہاں زمین کے خداؤں کی زیادہ چلتی ہے، تبھی زمین والے لوگ آسمانوں پہ بسنے والے خدا سے نہیں ڈرتے۔

پھر یہ بھی ہے کہ سب انسانوں نے مل کر خدا کو کتنے گھر گفٹ کر رکھے ہیں پر سمجھ نہیں آتی خدا کیسے اتنے گھروں میں جاتا ہو گا؟ ہر برادری نے ہر فرقے مسلک نے اپنے نام سے خدا کا گھر بنا رکھا ہے، اس لئے ہم جیسے ضرورت مند بندے خدا کے گھر میں امداد بھی نہیں مانگ سکتے۔

بس دعا کر سکتے ہیں کہ غیب سے مدد کر ایسے ہی خیالات اور سوچوں میں گم نجو اپنی جھگی کی طرف واپس پلٹ رہا تھا کہ اچانک سے وہ رکا اور سر کھجانے کے بعد چونک کے بولا۔۔

ہاں سارا کجھ غیب ہی ہے۔

اوئے تیری !!! بھاگ نجو……

نجو بجلی کی سی تیزی سے مسجد کی طرف پلٹا پھولی اور چڑھی سانسوں سے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا شروع کر دی۔

یا خدا ہم تیری مخلوق ہیں ہم پہ رحم کر ” دیکھ میں ٹوکری نہیں لایا تا کہ تجھے یہ نہ لگے کہ میں تیرے مقابلہ میں کاروبار کرنے آیا ہوں۔

دیکھ تیرے دوسرے نیک نمازی بندے جن کی تو سنتا مانتا ہے انہوں نے بتایا تیرے گھر میں مانگنا گناہ ہے۔ مینوں (مجھے) عبادت کا طریقہ بھی نہیں آتا ………. یہ جو ہونٹ ہلا کر پڑھتے ہیں تو جانتا ہی ہے کہ مجھے پڑھنے لکھنے کا وقت نہیں ملا ہمارا گھر ہوتا ایک جگہ ٹکتے تو پڑھتے تیرے کول (پاس) آتے، تجھے سمجھتے، بس تو اتنا کر کہ میری غیب سے مدد فرما دے۔

یہ کہہ کر نجو مسجد سے اس یقین سے باہر نکل آیا کہ غیب سے مدد آنے والی ہے وہ خوشی سے اٹھلاتا اپنی ہی سوچوں مستیوں خوابوں خواہشوں میں گم کہ اب وہ بھی عام لوگوں جیسا بن کر خدا کو پیسے دیا کرے گا اور کسی پکھی واس نوں بھگائے گا نہیں بس پناہ دے گا ہر کسی کو گھر لے کر دے گا اپنے اور اپنے قبیلے کے بچوں کو پڑھائے گا تا کہ وہ خدا کی عبادت کر سکیں اورلوگوں کے ہمدرد بن سکیں۔

نجواب اپنی جھونپڑی کے پاس پہنچ چکا تھا ” وہاں رونے کی آوازیں آ رہیں تھیں جھگی کے اندر جا کر اس نے دیکھا تو اسکی بہن بشیری مر چکی تھی۔

آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے نجو نے کہا” بشیری تو تھوڑا صبر ہی کر لیتی۔۔۔ پتہ ہے ” غیب سے امداد آنے ہی والی تھی۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /backup/wwwsirfu/public_html/wp-content/themes/upress/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /backup/wwwsirfu/public_html/wp-content/themes/upress/comments.php on line 89

Leave a Reply