غزل (ظہیر الدین قیصر) ہنوارہ گڈا جھارکھنڈ

Spread the love
ظہیر الدین قیصر

دلوں کے بیچ ابھی تک ہے فاصلہ موجود

میرے سفر کا ابھی گوہے سلسلہ موجود


وہ ایک لمحہ بھی تنہائی کا نہیں حاصل

جہاں بھی جائیے بس دیکھئے خدا موجود

حسین ابن علیؓ ہے ابھی بھی نرغے میں

یزید یت بھی ہے باقی تو کربلا موجود

ابھی سے اہل جنوں پست حوصلہ کیوں ہیں

ابھی تو دارورسن کا ہے مرحلہ موجود

پہنچ بھی پائینگے منزل تک خدا معلوم

ہے راستے میں پہاڑوں کا سلسلہ موجود

کوئی حسین سا پیکر ادھر سے گذرا ہے

فضا میں بو ہے زمیں پر ہے نقش پا موجود

پڑا ہے ہوش کہیں پر ہے وقت کا موسی

دگر نہ آج بھی طورکا جلوہ موجود

Leave a Reply