165

3 اگست کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1783ء جاپان میں آ تش فشاں پھٹنے سے 35ہزار افراد ہلاک ہو گئے

1914ء پہلی جنگ عظیم میں جرمنی نے فرانس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے فرانس پر حملہ کر دیا۔

1914ء جنگ عظیم اوّل: جرمنی نے فرانس پر حملہ کر دیا

1934ء ایڈولف ہٹلر جرمنی کا حکمران بنا

1957ء ملائیشیا کی آزادی کے بعد پرنس عبد الرحمن نے حکومت سنبھالی

1960ء مغربی افریقا کے ملک، نائیجریانے فرانس سے آزادی حاصل کی

2005ء ماریطانیہ میں فوجی بغاوت صدر احمد طایا کی حکومت برطرف کردی گئی

ولادت

744ء المہدی باللہ العباسی خلافت عباسیہ کا تیسرا حکمران اور خلیفہ اسلام تھا۔ اس کا انتقال 24 جولائی 785ء کو ہوا۔

1324ء امام الحافظ شیخ الاسلام سراج الدین بلقینی کبارشافعی علماء میں سے ہیں۔ شیخ بلقینی کو آٹھویں صدی ہجری کے نادر روزگار علماء کرائے میں شمار کیا جاتا ہے۔ علمائے اسلام کی اُن کے متعلق رائے یہ ہے کہ وہ آٹھویں صدی ہجری کے مجدد ہیں۔ ان کا انتقال یکم جون 1403ء کو ہوا۔

1903ء حبیب بورقیبہ تیونس کے بانی، سیاستدان اور جمہوریہء تیونس کے پہلے صدر تھے، جن کی صدارت 25 جولائی، 1957ء سے 07 نومبر، 1987ء تک رہی۔ اپنے دورِ صدارت میں ترقی و جدت پسندی کے مغربی تقلید پرمبنی اصلاحات کے نفاذ کی بدولت اکثر اُن کا موازنہ ترکی کے مصطفٰی کمال اتاترک سے بھی کیا جاتاہے۔ ليكن عام طور پر اسلام اور مسلمان كے خلاف كام كرتے تھے- حبیب بورقیبہ کے دورِ اقتدار میں تعلیم حکومت کی اولین ترجیح رہی جبکہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بھی حبیب بورقیبہ نے عرب اور اسلامی دنیا کے مقابلے میں وسیع تر اصلاحات کا نفاذ یقینی بنایا۔ اُنہوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر پابندی لگائی اور طلاق کو قانونی شکل دی۔ لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کے حوالے سے، اُنہوں نے شادی کے لیے لڑکی کی عمر کی کم سے کم حد 17 سال مقرر کی۔ اُنہوں نے اگست 1956ء میں انقلابی قانونی اصلاحات نافذ کیں، جس کی بدولت عورتوں کو تاریخی حقوق اور تحفظ ملا اور تیونس کا معاشرہ اچانک بدل گیا۔

1909ء مولانا محمد باقر شمس پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، مورخ اور محقق تھے۔ ان کا انتقال 7 جنوری، 2007ء کو ہوا۔

1916ء اردو شاعر۔ اگست سنہ 1916 کو اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ والد جمیل احمد سوختہ قادری بدایونی ممبئی کی مسجد میں خطیب او رپیش امام تھے اس لیے شکیل کی ابتدائی تعلیم اسلامی مکتب میں ہوئی۔ اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم کے بعد مسٹن اسلامیہ ہائی اسکول بدایوں سے سند حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ سنہ 1932 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور بی۔ اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سنہ 1942 میں دہلی میں سرکاری ملازم ہو گئے۔ علی گڑھ میں قیام کے دروان جگر مراد آبادی سے ملاقات ہوئی۔ ان کی وساطت سے فلمی دنیا میں داخل ہوئے۔ اور سو سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔

1941ء بابا ہربھجن سنگھ چین اور بھارت دونوں کی جانب سے امن شانتی کے سفیر کی حیثیت سے جانا جانے والا بارڈر کا رکھوالا ان کا انتقال 11 ستمبر 1967 کو ہوا۔

1959ء کوئیچی ٹناکا ایک جاپانی انجینئر وکیمیاء دان ہیں جو 2002 کے نوبل اانعام برائے کیمیاء وصول کرنے والوں میں شامل تھے۔ انکا کام ماس سپیکٹرمیٹری کے حوالے سے تھا۔

1920ء پی ڈی جیمز برطانوی ناول نگار

1940ء مارٹن شین امریکی اداکار

1960ء گوپال شرما بھارتی کرکٹ کھلاڑی

1970ء من موہن وارث بھارتی گلوکار

1970ء خرم دستگیر خان ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جو اس وقت بطور وفاقی وزیر برائے صنعت و تجارت فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ خرم دستگیر گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد غلام دستگیر بھی ایک سیاستدان تھے اور وہ بھی وفاقی وزیر رہے ہیں۔ خرم دستگیر کئی مرتبہ گوجرانوالہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

1980ء نادیہ علی امریکی گلوکارہ، گیت کارہ

وفات

1003ء طائع للہ چوبیسواں عباسی خلیفہ (بغداد) ہے جس نے 974ء سے 991ء تک حکومت کی۔طائع للہ کو خلافت عباسیہ کے کمزور ترین خلفاء میں شمار کیا جاتا ہے۔

1928ء مورخ اسلام و قانون دان۔ جداعلیٰ احمد افضل خان 1739ء میں ایران سے ہندوستان آئے اوراودھ کو وطن ثانی بنایا۔ والد سعادت علی خان کٹک (اڑیسہ ) میں جا کر بس گئے۔ سید صاحب نے ابتدائی تعلیم وہیں پائی۔ پھر ہگلی کالج سے بی۔ اے کیا۔ بعد ازاں ایم اے (تاریخ ) کی سند لی۔ چونکہ وہ احمدی (قادیانی) تھے اس لیے انہیں انگریزوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ 1873ء میں ولایت سے بیرسٹری پاس کی۔ 1879ء میں سنٹرل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی جس کے وہ پچیس سال تک سیکرٹری رہے۔ 1890ء میں کلکتہ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے 1891ء میں بنگال لیجسلیٹو کونسل کے ارکان اور کچھ عرصے بعد امپریل کونسل کے رکن نامزد ہوئے۔ 1904ء میں پنشن لے کر انگلستان میں سکونت اختیار کی۔ ان کی بیوی لارڈ ڈفرن کی سالی تھیں۔

1942ء رچرڈ ولسٹیٹر جرمنی کے ایک نامیاتی کیمیاء دان تھے جنھیں 1915 میں کیمیاء کا نوبیل انعام دیا گیا جس کی وجہ انکی جانب سے کئی گئی پودوں کے مواد کے مطالعے بالخصوص کلورفل تھی۔

1979ء برٹل ہلن سویڈن کے ماہر اقتصادیات تھے اقتصا دیات میں انکی کام کی اہمیت کو دیکھ کر 1977میں انھیں اور جیمز میڈےکو نوبل میموریل انعام برائے معاشیات مشترکہ طور پر دیا گیا۔

2008ء الیکزینڈر سلزینسٹائن روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں 1970ء میں نوبل ادب انعام سے نوازا گیا۔

2013ء ـ فرمان فتح پوری (پاکستان کے مصنف، محقق، ماہرِ لسانیات، نقاد، معلم اور مدیر) بمقام کراچی، پاکستان۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا حقیقی نام سید دلدار علی تھا۔ ان کی پیدائش 26 جنوری 1926ء کوبھارت کی ریاست اترپردیش میں فتح پور میں ہوئی۔ 1950ء میں فرمان فتح پوری ہجرت کر کے کراچی پاکستان آ گئے۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے، ایل ایل بی اور بی ٹی کیا اور پھر 1965ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

2014ء میاں گل اورنگزیب ریاست سوات کے آخری نواب تھے اس کے علاوہ وہ بلوچستان، خیبر پختوانخواہ کے گورنر بھی رہے وہ رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے۔

تعطیلات و تہوار

نائیجیریا کا یوم آزادی

اپنا تبصرہ بھیجیں