133

سکول کی ماسی (افسانہ)شاکرہ نندنی

Spread the love

آج صبح ہی اچانک بوم ماڈل ایجنسی کے مالک یعنی میرے باس کا برازیل سے فون آیا کہ ڈاکٹرشاکرہ مُجھے لاس ویگاس میں چار بڑے ہوٹل کا کنٹریکٹ ملا ہے جن کے لئے لگ بھگ بیس ینگ ڈانسر کی ضرورت ہے، دو سال کا ایگریمنٹ ہے، تم فوراً میکس مومینٹم ڈانس اسکول جائو وہاں کے مالک سے میری بات ہوگئی ہے، تم جا کر آڈیشن لے کر لڑکیاں سلیکٹ کرو، میں صرف تم پر ہی بھروسہ کر سکتا ہوں کیونکہ تم میری ادارے کی سب سے سنیئر تجربہ کار اور بھروسہ مند ہو۔

چار و ناچار اوکے کہا اور میں تیار ہوکر سیدھا مزکورہ اسکول جا پہنچی، آڈیشن میں پورا دن لگ گیا بہر حال سہ پہر تک میں نے مطلوبہ لڑکیاں سلیکٹ کر کے اُن سے کونٹریکٹ سائن کروالیے، اُس اسکول میں ٹیچر اسٹوڈینٹ اور اسٹاف میں فرق نظر نہیں آتا تھا، خاص طور وہاں کی صفائی کرنے والی خواتین۔

ان کی خوبصورتی اور رکھ رکھائو لگ بھک ہندوستان پاکستان کی کاڈل جیسا ہی تھا۔ اسی سوچ نے میرے ذہن میں ایک خیال پیدا کیا جو اپنے قلم کی نوک سے آپ تک پہنچا رہی ہوں، پسند آئے تو کمنٹ ضرور کیجئے گا۔

“اماں بڑے بھیا سے کہو ناں کہ مجھے اسکول جانے کی اجازت دے دیں

اماں نے جلدی سے ڈر کے اِدھر اُدھر دیکھا اور میرے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا

پگلی تیرے بھیا نے سن لیا تو تجھے قتل کر دے گا
تو نہیں جانتی کیا ؟

کہ وہ لڑکیوں کی پڑھائی کے کتنا خلاف ہے

وقت گُزرا بہت دھوم دھام سے میری شادی ہوئی اور جلد ہی اَن پڑھ ہونے کے ناکردہ جرم میں طلاق بھی ہو گئی

آج برسوں بعد

میں جس اسکول میں ماسی لگی ہوئی ہوں .

وہاں کی پرنسپل میری بھتیجی ہے

بڑے بھیا کی بیٹی۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں