160

30 جولائی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

762ء خلیفہ المنصور کے ہاتھوں بغداد کا قیام۔

1629ء نیپلزاٹلی میں زلزلے سے 10000 سے زیادہ افرا کی ہلاکت

1729ء امریکی شہر بالٹی مور میری لینڈ کا قیام

1930ء یوراگوئے نے ارجنٹائن کو چار دو سے ہرا کر پہلا فیفا فٹ بال ورلڈ کپ جیت لیا

1932ء – ڈزنی لینڈ نے “فلاورز اینڈ ٹریز” کے نام سے پہلا رنگین کارٹون بنایا جو پہلا کارٹون تھا جو اکیڈمی ایوارڈ بھی جیت گیا۔

ولادت

1321ء برصغیر کے ممتاز صوفی بزرگ اور شاعر خواجہ بندہ نواز گیسودراز کی پیدائش۔

1813ء نواب بہادر سر خواجہ عبد الغنی میاں وہ پہلے نواب ڈھاکہ تھے، جن کا اعتراف برطانوی راج نے بھی کیا۔ انہوں نے پنچائیت کا نظام، گیس لائٹ، پانی کی فراہمی کا نظام، اخبار اور چڑیا گھر متعارف کرایا۔ انہوں نے احسن منزل بنائی جو ڈھاکہ کے نواب خاندان کی جائے رہائش ہے۔ انہوں نے وکٹوریہ پارک ڈھاکا بنایا، جو دلکشا اور شاہ باغ میں واقع ایک باغ ہے۔ اس باغ میں ہر طرح کے سالانہ تہوار اور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اس باغ میں بولی کیلا کی تقریب، زرعی اور صنعتی نمائشیں اور عیسوی نئے سال کی تقریبات شامل ہیں۔ انہوں نے بک لینڈ بند بھی بنایا اور ڈھاکا کے ہسپتال میں پہلی بار خواتین کا وارڈ قائم کیا۔ وہ ڈھاکا میونسپلٹی کے بانی کمشنر بھی ہیں۔

1822ء ریاست لکھنؤ کے نواب۔ 30 جولائی 1822 کو اودھ کے شاہی خاندان میں ان کی پیدائش ہوئی۔ ان کا پورا نام ابو المنصور سکندر شاہ پادشاہ عادل قیصر زماں سلطان عالم مرزا محمد واجد علی شاہ اختر تھا۔ اپنے والد امجد علی شاہ کے بعد تخت نشین ہوئے۔

1893ء فاطمہ جناح مادرملت یعنی قوم کی ماں۔ ہمارے ماہرین تاریخ وسیاست نے مادر ملت کو قائد اعظم کے گھر کی دیکھ بھال کرنے والی بہن کے حوالے سے بہت بلند مقام دیا ہے لیکن انہوں نے قیام پاکستان اور خصوصاً 1965ء کے بعد کے سیاسی نقشے پر جو حیرت انگیز اثرات چھوڑے ہیں ان کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔ یہ ایک معنی خیز امر ہے کہ قائد اعظم کی زندگی میں مادر ملت ان کے ہمر اہ موثر طور پر 19 سال رہیں یعنی 1929ء سے 1948ء تک اور وفات قائد کے بعد بھی وہ اتنا ہی عرصہ بقید حیات رہیں یعنی 1946ء سے 1967ء تک لیکن اس دوسرے دور میں ان کی اپنی شخصیت کچھ اس طرح ابھری اور ان کے افکارو کردار کچھ اس طرح نکھر کر سامنے آئے کہ انہیں بجا طور پر قائد اعظم کی جمہوری بے باک اور شفاف سیاسی اقدار کو ازسر نو زندہ کرنے کا کریڈیٹ دیا جا سکتا ہے جنہیں حکمران بھول چکے تھے۔ اس سلسلے میں مادر ملت نے جن آرا کا اظہار کیا ان سے عصری سیاسیات و معاملات پر ان کی ذہنی گرفت نا قابل یقین حد تک مکمل اور مضبوط نظر آتی ہے۔ 1965ء کے صدارتی انتخاب کے موقع پر ایوب خاں کی نکتہ چینی کے جواب میں مادر ملت نے خود کہا تھا کہ ایوب فوجی معاملات کا ماہر تو ہو سکتا ہے لیکن سیاسی فہم و فراست میں نے قائد اعظم سے براہ راست حاصل کی ہے اور یہ ایسا شعبہ ہے جس میں آمر مطلق نا بلد ہے۔ ان کا انتقال 9 جولائی 1967 کو ہوا۔

1907ء ماہر القادری 30 جولائی، 1907ء کو کیسر کلاں ضلع بلندشہر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام منظور حسین تھا۔ انہوں نے عملی زندگی کا آغاز حیدر آباد دکن سے کیا، پھر بجنور چلے گئے۔ جہاں مدینہ بجنور اور غنچہ کے مدیر رہے۔ زندگی کا بڑا حصہ حیدرآباد دکن، دہلی، بمبئی میں گزرا اور پھر مستقل قیام کراچی میں رہا۔ چند ماہ ملتان میں بھی گزارے۔ اس کے علاوہ سیر و سیاحت کا با رہا اتفاق ہوا۔ 1928ء میں ریاست حیدرآباد کے مختلف محکموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ قیام حیدرآباد کے دوران میں جب نواب بہادر یار جنگ کی تقاریر کا طوطی بولتا تھا، نواب بہادر یار جنگ نے قائد اعظم محمد علی جناح سے ان کا تعارف یوں کرایا میری تقریروں اور ان (ماہرالقادری) کی نظموں نے مسلمانانِ دکن میں بیداری پیدا کی ہے۔

1945ء پیتریک مودیانو ایک فرانسیسی ناول نگار اور ڈراما نگار ہیں 2014ء میں ان کو ادب کا نوبل انعام دیا گيا۔

1947ء آرنلڈ شوارتزنگر آسٹرین، امریکن فنکار، فلمساز، کاروباری شخصیت، سرمایہ کار، مصنف، فلاحی شخصیت، سماجی کارکن، سیاست دان اور 2003 سے 2011 دو مدتوں تک امریکی ریاست کیلیفورنیا کے 38ویں گورنر ہیں۔

1947ء فرانسیوس باری سنوسیایک فرانسیسی وائرولوجسٹ ہیں جنھوں نے 2008ء کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔

1962ء افتخار ٹھاکر پاکستانی اسٹیج اداکار ہیں۔ ان کا تعلق میاں چنوں سے ہے۔ ٹھاکر ایک گاڑیوں کی ورکشاپ میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے لاہور میں واقع مزاحیہ سٹیج ڈراموں میں قابل ذکر کام کیا۔ انہوں نے اردو، پنجابی اور پوٹھوہاری سمیت مختلف زبانوں میں کئی سٹیج ڈراموں اور ٹیلی فلموں میں کام کیا۔ “میکی کھڑو انگلینڈ سیریز” ان کی ایک کامیاب ٹیلی فلم تھی جس نے پوٹھوہاری اور کشمیری کمیونٹی بڑی پزیرائی حاصل کی۔ ٹھاکر نے سٹیج اداکار کے طور پر 2000ء میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا، ٹھاکر سٹیج پر فوری جواب، مضحکہ خیز اشاروں اور شکل کی وجہ سے مشہور ہیں۔ وہ سٹیج ڈراموں میں اپنے عجیب لباس کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ ان کا سب سے مشہور جملہ “جھوٹ بولدا” ہے جو ان کے چاہنے والوں میں بہت مقبول ہے۔

1993ء ایان علی، ایک پاکستانی ماڈل، گلوکارہ اور اداکارہ ہے۔ 14 مارچ، 2015ء کو پاکستان ایئر پورٹ سیکورٹی فورس نے ایان علی کو منی لانڈرنگ کے جرم میں گرفتار کر لیا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ سابق صدر آصف علی زرداری کے لیے بیگ بھر کر پیسے باہر لے جاتی تھی ان کو ائیرپورٹ سے نوٹوں سے بھرے بیگ کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ یہ ایک ہائی پروفائل کیس کے طور پر سامنے آیا، جس انسپکٹر نے اس کو گرفتار کیا تھا اس کو چند دنوں بعد قتل کر دیا گیا جب کہ ایان علی کچھ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہو کر دبئی چلی گئی اور دوبارہ پاکستان نہیں آئی اس کے وکلا کا کہنا ہے کہ ایان علی سفر نہیں کر سکتی اس لیے اس کیس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔

وفات

1937ء ممتاز ماہر تعلیم مسلم قائد اور سرسید کے پوتے سرراس مسعود انتقال کر گئے

تعطیلات و تہوار

وانواتو کا پرچم وانواتو کا یوم آزادی

اپنا تبصرہ بھیجیں