خواہشات کا قتل (افسانچہ) آرزو صفدر

Spread the love

آج صبح سے رضوان صاحب بہت پریشان تھے اپنے کواٹر سے نکلنے کو ان کا دل نہیں چاہ رہا تھا پر چین ہے کہ آنے کا نام نہیں لے رہا تھا ………. فون کی طرف نگاہیں تھی ابھی بجے اور کوئی خبر آئے گی .. پانچ گھنٹے کواٹر میں بند رہنے کے بعد آخر کار آپ نے ہمت کرکے باہر جانے کا فیصلہ کیا ……….

رضوان بھائی کہاں تھے صبح سے آپ؟………. …..شیخ صاحب آپ کا تین دفعہ پوچھ چکے ہیں ……………

رضوان صاحب کے چہرے پر پریشانی کی شکنیں دیکھ کر علی نے پھر مخاطب کیا بھائی کیا ہوا کیا بات ہے آپ بہت پریشان نظر آرہے ہیں گھر میں سب خیریت ہے نہ ؟؟…………..

علی کیا بتاؤں میں میرے بیٹے نے بہت تنگ کیا ہوا ہے کتنا پیسہ جمع کرکے میں نے اسے سی اے کرانے کے خواب دیکھیں ہیں وہ ان سب کو چکنا چور کردینا چاہتا ہے

میری ساری محنت کو ضائع کردینا چاہتا ہے میری ایک نہیں سن رہا ہے صبح 6 بجے مجھے فون کرکے کہہ رہا ہے میں چھوڑ رہا ہوں مجھ سے نہیں ہورہا ہے میں تو اس کی فیسیں بھر بھر کے تھک گیا ہوں رضوان صاحب بولتے بولتے چپ ہوگئے

علی انھیں حوصلہ دینے لگا بھائی بچہ ہے سمجھ جائے گا اور ہے ہی کون ایک بیٹا ہے آپ کا آپ پریشان نہ ہوں اللّٰہ سب ٹھیک کردے گا۔

صبح سے تیمور باپ کی باتوں کو لے کر بیٹھا تھا اتنے میں سبحان کمرے میں داخل ہوا یار تم آج کلاس لینے نہیں آئے سب تمہارا پوچھ رہے تھے۔

ہاں میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے تیمور نے موٹے موٹے آنسو چھپانے کی کوشش کی اور واشروم کی طرف چلا گیا۔

باپ کی باتیں اتنی دل پر نہیں لگی تھی بس ان کا جتانے والا انداز تیمور کو اندر تک ختم کرگیا تھا۔

تیمور لاہور کے ایک اسکالر گروپ آف ہاسٹل میں مقیم تھا گھر سے دور سب سے دور یہاں منزل کو پالینے کے غرض سے آیا تھا مگر یہاں کا ماحول اس کے لیے کافی عجیب تھا وہ اپنی ماں کا لاڈلا تھا دو بہنوں کا اکلوتا بھائی مگر بچپن سے اسے اپنے باپ کی طرف سے کوئی رعایت نہیں ملی تھی وہ اسے اس کی مرضی پوچھے بغیر ہر فیصلہ کرتے آئے تھے تیمور پھر بھی ان کی خوشی کے لیے ہر دفعہ سر جھکا لیتا مگر سی اے کرنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔

زندگی میں آگے بڑھنے کی لگن اسے بچپن سے ہی تھی وہ اسلامک سٹڈیز کرنا چاہتا تھا مگر اس کے ابو کے نزدیک اسکی اہمیت نہیں تھی وہ دور جدید کے تقاضوں کی بات کرتے تھے۔

شاید آج کل ہر باپ کے نزدیک بیٹوں کو پڑھانا پیسے کمانے کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے تعلیم کی اہمیت شخصیت کی تکمیل و نشوونما نہیں بلکہ کمائی رہ گئی۔

دن یوں ہی گزرتے گئے اور تیمور کا سی اے مکمل ہوگیا باپ کا خواب پورا ہوگیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں تیمور کی نوکری کی خبر نے اس کے باپ کو پورے خاندان میں سب سے اعلیٰ بنا دیا تھا لیکن اس سب کے باوجود اب تیمور کراچی منتقل ہوگیا وہ برابر والدین اور بہنوں کو خرچہ بھیجتا تھا مگر وہاں جانے کے خیال سے اسے اس کے باپ کا تکبر اور غریب رشتے داروں کو حقارت سے بات کرنے والا لہجہ ستاتا تھا۔

زندگی کے دس سال گزر گئے مگر تیمور نے اپنے باپ کی شکل تک نہیں دیکھی اور ماں بہنوں کو کراچی بلا لیا کرتا تھا آج کل کی اس دور میں جہاں ہم خود اپنی اولاد کو محض کسی مشین بنانے میں لگے ہوئے ہیں کیا اک پل لیے بھی ہم سوچتے نہیں کہ انسان کی ذات مٹی ہے اور یہ دنیاوی مقام اگر صاف نیت سے حاصل نہ کیے جائیں تو دنیا و آخرت دونوں میں کسی کام کے نہیں رہتے

ہمارا معاشرہ اس بحران کی لپیٹ میں جہاں مالی چیزوں کو رشتوں پر فوقیت دی جاتی ہے یہی وہ مقام ہے جس پر پڑھے لکھوں کو جاہل کہنے سے پہلے کم ہچکچاتے نہیں ہیں …

Please follow and like us:

Leave a Reply