166

گاڑیوں ،موبائل فونز کی درآمد پر بھاری ٹیکسز عائد

Spread the love

اسلام آباد (کامرس رپورٹر)ایف بی آر نے فنانس بل 2019 کے تحت سیلز ٹیکس

ایکٹ میں ترامیم کی وضاحت کر دی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایف بی آر نے تمام

سیلز ٹیکس جنرل آرڈر کو واپس لے لیا ہے ،گھریلو صنعت رہائش علاقے میں

ورکرز کی تعداد 10 سے کم اور سالانہ فروخت 30 لاکھ روپے سالانہ تک

ہو،انکے پاس بجلی اور گیس کا کمرشل میٹر نہیں ہو،ایف بی آر نے فنانس بل

2019 کے تحت سیلز ٹیکس ایکٹ میں ترامیم کی وضاحت پر سرکلر جاری کر

یہ بھی پڑھیں:لگژی گاڑیاں،ایف بی آر نےزرداری کو آج طلب کرلیا

دیا۔ سر کلر کے مطابق ایف بی آر نے ماضی کے تمام سیلز ٹیکس جنرل آرڈرز،

سیلز ٹیکس کے سپیشل پروسیجر رولز اور سیلز ٹیکس سپیشل پروسیجر ودہولڈنگ

رولز کو واپس لے لیا ہے سرکلر کے مطابق گھریلو صنعتوں کی تعریف تبدیل اب

ایسی صنعتیں جو رہائش علاقے میں قائم ورکرز کی تعداد 10 سے کم اور سالانہ

ٹرن اوور 30 لاکھ روپے تک ہو ۔سرکلر کے مطابق ایسی صنعتیں جن کے پاس

بجلی اور گیس کا کمرشل میٹر ہو گا وہ گھریلو صنعتوں کی تعریف میں نہیں آئیں

گی۔ سرکلر کے مطابق ایک ہزار مربع گز والی دکان اب ٹیئر ون ریٹیلر کی

فہرست میں شامل ،ٹیئر ون والی کیٹگری میں شمولیت سے دکان کو سٹینڈرڈ ریٹ

پر سیلز ٹیکس ادا کرنا ہو گا ۔سرکلر کے مطابق درآمدی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی کے

علاوہ مقامی قیمت فروخت پر سیلز ٹیکس ادا کرنا ہو گا ،یکم اگست سے تمام

درآمدی اشیاء کی مقامی مارکیٹ میں قمیت فروخت لکھنا ضروری ہوگا ۔سرکلر

کے مطابق بجلی کے نجی کارخانوں کو فراہم کردہ فیول کی قیمت بھی بتانا ہو گی

،ڈسکوز کو لیٹ پیمنٹ سرچارج کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی ۔سر کلر

کے مطابق اینٹ بنانے والے بٹھوں پر ماہانہ ساڑھے سات ہزار روپے سے

ساڑھے بارہ لاکھ روپے ٹیکس عائد کر دیا گیا ، سرکلر کے مطابق 12 عام گھریلو

استعمال اپلاء نسز کو تھرڈ شیڈول می شامل کر دیا گیا ،وفاقی حکومت اور ایف بی

آر کی کسی شعبے کو ٹیکس مراعات یا زیرو ریٹنگ دینے کے اختیارات ختم کر

دیئے گئے ،کسی ٹیکس نادہندہ فرد کو 50 ہزار روپے کے مال کی فروخت پر اس

کا شناختی کارڈ نمبر لازمی لکھا جائیگا،سونے اور چاندی اور چاندی پر ایک

فیصد کے حساب سے رعایتی سیلز ٹیکس لیا جائیگا،ہسپتال کو بجلی اور گیس

سپلائی پر سیلز ٹیکس ادا کرنا ہو گا ،پیکڈ دودھ کی فروخت پر 10 فیصد سیلز

ٹیکس ادا کرنا ہو گا ،شپ بریکنگ انڈسٹری کو درآمد شدہ ناکارہ جہاز پر کسٹم

ڈیوٹی کے علاوہ 17 فیصد سیلز ٹیکس بھی ادا کرنا ہو گا ۔سرکلر کے مطابق سابقہ

قبائلی علاقوں میں 31 مئی 2018 کے بعد لگنے والی صنعتوں سے بجلی پر سیلز

ٹیکس وصول کیا جائیگا۔سرکلر کے مطابق سابقہ قبائلی علاقوں میں لگنے والی

گھی ملوں اور اسٹیل ملوں کو بھی بجلی پر سیلز ٹیکس ادا کرنا ہو گا ،سابقہ قبائلی

علاقوں میں اسٹیل ملوں کے درامدی مال پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سیلز ٹیکس موڈ

میں وصول کی جائے گی ،جنڈ کپاس پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہو گا ،خشک

دودھ اور پیکڈ دودھ پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ، سر کلر کے مطابق

خوردنی آئل سیڈ پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد ،سویا بین پر 10 فیصد سیلز ٹیکس

عائد ،چینی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ، زیورات میں استعمال ہونے

والے قیمتی دھاتوں پر سونے کی قیمت کے مطابق ڈیڑھ فیصد اور بنوائی پر تین

فیصد سیلز ٹیکس ،بیکری ریسٹوران اور کیٹرز کی طرف سے فراہم کردہ مال پر

ساڑھے سات فیصد سیلز ٹیکس ،ملبوسات اور لیدر ملبوسات کی مقامی فروخت پر

14 فیصد سیلز ٹیکس ،گوشت اور مرغی کی پکی پکائی مصنوعات پر 8 فیصد

مزید پڑھیں:پرائیویٹ گاڑیوں پر سیٹ کے حساب سے کوئی ٹیکس نہیں لگایا,ایف بی آر

سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ، سر کلر کے مطابق خوردنی تیل اور گھی پر 17

فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ،سوڈا بوتلوں پر بھی 13 فیصد فیڈرل ایکسائز

ڈیوٹی عائد کر دیا گیا ۔نوٹیفکیشن کے مطابق 30 ڈالر تک مالیت کے موبائل پر

135 روپے ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے جبکہ گاڑیوں کی درآمد پر بھاری ٹیکس

عائد کر دیئے گئے ہیں۔ایف بی آر نے30 تا 100 ڈالر مالیت کے موبائل پر

1320 روپے ٹیکس عائد کر دیا ہے، 100 تا 200 ڈالر کے موبائل پر 1680

روپے ٹیکس عائد ہو گا۔ایف بی آر کے مطابق 200 تا 350 ڈالر کے موبائل پر

1740 روپے ٹیکس دینا پڑے گا، 350 تا 500 ڈالر کے موبائل پر 5 ہزار 400

روپے ٹیکس عائد ہو گا، 500 ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل پر 9 ہزار 270

روپے ٹیکس عائد ہو گا۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ درج ریٹیل پرائس سے کم قیمت

پر سگریٹ کی فروخت جرم ہو گی، غیر تیار شدہ تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی

300 سے کم کر کے 10 روپے کر دی گئی ہے۔سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی

ڈیڑھ روپے سے بڑھا کر 2 روپے فی کلو کر دی ہے۔دوسری طرف ایف بی آر

نے گاڑیوں پر بھی بھاری ٹیکسزعائد کر دئیے۔ 3ہزار سے زائد سی سی گاڑی کی

درآمد پر30 فیصد ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ایف بی آر کے مطابق ہزار سی سی

گاڑی پر اڑھائی فیصد، 1800 سو سی سی پر 5 فیصد، 3 ہزار سی سی پر 25

فیصد جبکہ 3 ہزار سے زائد سی سی گاڑی کی درآمد پر 30 فیصد ڈیوٹی عائد کی

گئی ہے، 2 ہزار سی سی تک کی مقامی گاڑیوں پر اڑھائی سے 7 فیصد جبکہ اس

سے زائد سی سی کی گاڑیوں پر ساڑھے 7 فیصد ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔



اپنا تبصرہ بھیجیں