آصف علی زرداری کے شب و روز 64 ویں سالگرہ پر خصوصی مضمون

Spread the love
Image result for ‫آصف علی زرداری‬‎

لاہور(مدثر بھٹی سے)آصف علی زرداری سابق صدر پاکستان ایک سندھی بلوچ سیاست دان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ابتدائی سیاسی ساتھیوں میں شامل حاکم علی زرداری کے بیٹے ہیں۔ حاکم علی زرداری بعد میں نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہو گئے تھے – آصف زرداری جولائی 1954ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا اندرونِ سندھ زمینداری کے ساتھ کراچی میں بھی کاروبار اور سینما گھر تھا۔

بچپن اور تعلیم

آصف علی زرداری کی ابتدائی تعلیم بھی ایل کے اڈوانی، محمد خان جونیجو، شوکت عزیز اور پرویز مشرف کی طرح سینٹ پیٹرکس اسکول کراچی میں ہوئی جس کے بعد انہوں نے دادو میں قائم کیڈٹ کالج پٹارو سے 1974ء میں انٹرمیڈیٹ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بعد میں انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ بزنس نامی کسی ادارے میں بھی داخلہ لیا تھا تاہم انہوں نے اپنے گریجویٹ ہونے کی کبھی تصدیق نہیں کی- آصف زرداری اوائل عمر سے ہی یاروں کے یار شخصیت کے حامل کے طور پر کراچی کے متمول حلقوں میں جانے جاتے تھے۔ انیس سو اڑسٹھ میں شوقین مزاج کمسن آصف نے فلمساز سجاد کی اردو فلم ’منزل دور نہیں ‘ میں چائلڈ سٹار کے طور پر بھی اداکاری کی۔ فلم کے ہیرو حنیف اور ہیروئن صوفیہ تھیں۔ لیکن یہ ایک فلاپ فلم ثابت ہوئی۔

سیاست

سیاست سے آصف زرداری کا سن اسی کے وسط تک دور دور تک واسطہ نہیں تھا۔ بس ایک سراغ یہ ملتا ہے کہ انیس سو پچاسی کے غیر جماعتی انتخابات میں آصف زرداری نے بھی نواب شاہ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔ مگر یہ کاغذات واپس لے لیے گئے۔ اسی زمانے میں آصف زرداری نے وزیرِ اعلٰی غوث علی شاہ کے ایک وزیر سید کوڑل شاہ کے مشورے سے کنسٹرکشن کے کاروبار میں بھی ہاتھ ڈالا لیکن اس شعبے میں آصف زرداری صرف دو ڈھائی برس ہی متحرک رہے۔

بے نظیر سے شادی

Image result for ‫بے نظیر شادی‬‎
Image result for ‫آصف علی زرداری‬‎

انیس سو ستاسی آصف زرداری کے لیے سب سے فیصلہ کن سال تھا جب ان کی سوتیلی والدہ ٹمی بخاری اور بیگم نصرت بھٹو نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ آصف کا رشتہ طے کیا۔ اٹھارہ دسمبر انیس سو ستاسی کو ہونے والی یہ شادی کراچی کی یادگار تقاریب میں شمار ہوتی ہے۔ جس کا استقبالیہ امیر ترین علاقے کلفٹن کے ساتھ ساتھ غریب ترین علاقے لیاری کے ککری گراؤنڈ میں بھی منعقد ہوا اور امرا کے شانہ بشانہ ہزاروں عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔ ذو الفقار علی بھٹو کی پھانسی اندوہ ناک واقعہ کے بعد بے نظیر بھٹو اور ان کے لاکھوں سیاسی پرستاروں کے لیے یہ پہلی بڑی خوشی تھی۔

وزارت

انیس سو اٹھاسی میں جب بے نظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں تو آصف زرداری بھی وزیرِ اعظم ہاؤس میں منتقل ہو گئے۔ اور ان کی سیاسی زندگی باضابطہ طور پر شروع ہو گئی۔ انیس سو نوے میں بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد ہونے والے انتخابات میں وہ رکنِ قومی اسمبلی بنے۔ انیس سو ترانوے میں وہ نگراں وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں وزیر بنے پھر بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں رکنِ قومی اسمبلی اور وزیرِ ماحولیات و سرمایہ کاری رہے۔ وہ انیس سو ستانوے سے ننانوے تک سنیٹ کے رکن رہے۔

ہنگامہ خیز سال

انیس سو نوے سے دوہزار چار تک کے چودہ برس آصف زرداری کی زندگی کے سب سے ہنگامہ خیز سال ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں ان پر کرپشن کے الزامات لگنے شروع ہوئے اور ان پر(Mr. 10%) مسٹر ٹینپرسنٹ کا خطاب چپکانے کی کوشش کی گئی۔ سب سے پہلے انیس سو نوے میں انہیں صدر غلام اسحاق خان کے دور میں ایک برطانوی تاجر مرتضٰی بخاری کی ٹانگ پر بم باندھ کر آٹھ لاکھ ڈالر اینٹھنے کی سازش کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ لیکن انہی غلام اسحاق خان نے بعد میں آصف زرداری کو رہا کر دیا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق غلام اسحاق خان نے بے نظیر اور آصف زرداری پر کرپشن کے انیس ریفرینسز فائل کیے لیکن ان میں سے کوئی ثابت نہیں ہو سکا۔

مقدمات

پانچ نومبر 1996ء کو دوسری بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضی بھٹو قتل کیس میں آیا۔ نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے، سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد، ہیلی کاپٹروں کی خریداری، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے، برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈ سکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے۔ اس طرح کی فہرستیں بھی جاری ہوئیں کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے۔ برطانیہ میں نو، امریکا میں نو، بلجئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی۔ جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لیے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں۔ اس دوران میں انہوں نے تقریباً دس سال قید میں کاٹے اور 2004ء میں سارے مقدمات میں بری ہونے کے بعد ان کو رہا کر دیا گیا۔

قومی مفاہمت فرمان کے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران میں قومی احتساب دفتر نے عدالت کو بتایا گیا کہ آصف علی زرداری نے بینظیر کی حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے ناجائز اثاثے حاصل کرنے کے الزامات ہیں۔

جیل

غلام اسحاق خان سے لے کر نواز شریف اور پرویز مشرف تک کی حکومتوں نے اندرون و بیرونِ ملک ان الزامات، ریفرینسز اور مقدمات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک خطیر رقم خرچ کی۔ بالآخر عمران خان کی حکومت بھی اپنی سی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

آصف زرداری تقریباً مل ملا کر گیارہ برس جیل میں رہے۔ 10 اکتوبر 1990ء بروز بدھ پہلی بار گرفتار ہوئے، دو سال 3ماہ 6دن کی قید کے بعد 6 فروری 1993ء کو رہا ہوئے، 4 نومبر 1996ء کو دوسری بار گرفتار ہوئے، 8 سال 18 دن جیل میں رہ کر 22 نومبر 2004ء کو رہا ہوئے، اب 2019 میں ان کی یہ تیسری گرفتاری ہے

جیل میں بھی آصف زرداری مرکزِ توجہ رہے۔ کیونکہ انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کیے، جن میں کھانے اور کپڑوں کی تقسیم اور نادار قیدیوں کی ضمانت کے لیے رقم کا بندوبست بھی شامل رہا۔ دورانِ قید ان پر جسمانی تشدد بھی ہوا۔ لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

جب پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے مابین امریکہ، برطانیہ اور بعض بااثر دوستوں کی کوششوں سے مصالحت کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد سے اس کے اور آصف زرداری کے خلاف عدالتی تعاقب سست پڑنے لگا۔ کوئی ایک مقدمہ بھی یا تو ثابت نہیں ہو سکا یا واپس لے لیا گیا یا حکومت مزید پیروی سے دستبردار ہو گئی۔ اس سلسلے میں اکتوبر دو ہزار سات میں متعارف کرائے گئے متنازع قومی مصالحتی آرڈیننس نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ شروع میں اندازہ یہ تھا کہ آصف زرداری صرف پارٹی قیادت پر توجہ مرکوز رکھے گا اور “مسٹر سونیا گاندھی” بن کے رہے گا۔ لیکن پھر اس نے ملک کا صدر بننے کا فیصلہ کر لیا۔ اگست 2008ء میں الطاف حسین نے زرداری کا نام صدر پاکستان کے عہدہ کے لیے تجویز کیا، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے با ظابطہ طور پر اس کو 6 ستمبر 2008ء کے صدارتی انتخاب کے لیے نامزد کر دیا۔ عموماً صدر نامزد ہونے والے سیاسی جماعت سے مستعفی ہو جاتے ہیں مگر زرداری نے ایسا نہیں کیا بلکہ پیپلز پارٹی کا فعال سربراہ بھی رہا۔ کچھ مبصرین کے مطابق ایسا اس طرح ممکن ہوا کیونکہ روایت کے باوجود غیر سیاسی ہونے کی شِک آئین پاکستان میں موجود نہیں – بالآخر عدالت عالیہ لاہور نے زرداری کو مشورہ دیا کہ آئین کی روح کے مطابق صدر رہتے ہوئے سیاسی عہدہ رکھنا مناسب نہیں، تاہم اس فیصلے میں کوئی حکم صادر کرنے سے گریز کیا گیا۔ 2013ء انتخابات کے عین پہلے عدالتی فیصلہ کے ڈر سے زرداری جماعت کی سربراہی سے علاحدہ ہو گیا۔ 8 ستمبر 2013ء کو مدّت ختم ہونے پر زرداری کو صدرات کی کرسی خالی کرنا پڑی۔

الزامات

زرداری پر مالی بدعنوانی کے بے شمار الزامات آئے۔ رشوت خوری کی شہرت کی وجہ سے “Mr.10%” کا عوامی اور اخباری خطاب پایا۔ نواز شریف اور پرویز مشرف کے دور میں لمبی جیل کاٹی۔ پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کے درمیان مفاہمت کے نتیجے میں 2007ء، 2008ء، میں آپ کے خلاف تمام بدعنوانی کے مقدمات ختم کر دیے گئے۔ چودھری اعتزاز احسن نے ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو درست کہا ہے (بعد میں چودھری نے تردید بھی جاری کی)۔ بینظیر کے 2007ء قتل کے بعد جلا وطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئے اور پیپلزپارٹی کا بینظیر کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ شریک قائد کا عہدہ سنبھالا۔ 2007ء الیکشن کے نتیجہ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو پس منظر سے چلا رہے ہیں۔ 2008ء میں مختلف موقعوں پر پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے نواز شریف سے کھلے عام تحریری معاہدہ کرنے کے چند روز بعد مُکر جانے کے طریقہ کو یہ کہہ کر صحیح طرز عمل گردانا کہ “معاہدے حدیث نہیں ہوتے۔ “

صدارت سنبھالنے کے بعد بھی زرداری پر طلبِ رشوت کے الزامات اخباروں میں شائع ہوتے رہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق زرداری کے وکلا نے لندن کی عدالت میں جواب داخل کرایا تھا کہ زرداری کے معالجوں کے مطابق وہ ذہنی مریض ہیں، اس لیے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔

اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ افغان نژاد ظالمے خالیزاد کے زرداری سے روابط پر امریکی افسروں نے خالیزاد کی پیشی کی۔ زرداری نے امریکی حکام کو بتایا کہ خالیزاد انہیں مشورے اور مدد فراہم کرتے رہے ہیں۔ آصف علی زرداری نے صدر بنتے ہی اپنے اثر رسوخ استعمال کرنا شروع کر دیا اور اپنے اوپر قائم تمام مقدمات رفتہ رفتہ ختم کرواتے چلے گئے، ان کے مقدمات ختم کروانے میں سابق چیف جسٹس عبد ا لحمید ڈوگر کا بڑا ہاتھ تھا شاید یہی وجہ تھی کہ وہ کہ ان کی حتی المکان کوشش رہی کے افتخار محمد چوہدری اپنے عہدے پر نہ بحال ہوں۔

جنوری 2010ء میں قومی احتساب دفتر نے پس پردہ زرداری کے لیے کام کرنے والے ناصر خان کی اسلام آباد میں 2460 کنال زمین کو سرکاری سپردگی میں لینے کا حکم دیا۔

Please follow and like us:

آصف علی زرداری کے شب و روز 64 ویں سالگرہ پر خصوصی مضمون” ایک تبصرہ

Leave a Reply