82

اپوزیشن جماعتوں کا یوم سیاہ ،حکومت کو نہیں مانیں گے،اپوزیشن رہنمائوں کا اعلان

Spread the love

لاہور ، اسلام آباد ، پشاور ،کراچی کوئٹہ(جنرل رپورٹر )اپوزیشن

جماعتوں25جولائی 2018کو ہونے والے عام انتخانت میں مبینہ

دھاندلی،اپوزیشن کے خلاف ہونے والی انتقامی کارروائیوں، نئے بجٹ میں

ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی کے خلاف گزشتہ روز یوم سیاہ منایا،اس سلسلے

میں چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور احتجاجی جلسے کئے گئے جبکہ اسلام آباد

میں احتجاجی ریلی نکالی گئی،۔ پشاور میںجے یو آئی ف اور عوامی نیشنل پارٹی

کے اجتجاجی جلسے سے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا۔کراچی میں

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مزار قائد پر جلسہ سے خطاب کیا

جبکہ کوئٹہ میں منعقدہ احتجاجی جلسے میں مریم نواز اور محمود خان اچکزئی

اور اپوزیشن جماعتوں کے دوسرے مرکزی راہنما شریک ہوئے ۔لاہور میں

احتجاجی جلسے کی قیادت صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے کی جبکہ پیپلز

پارٹی کے قمر زمان کائرہ مولانا امجد خان،اور دوسرے راہنمائوں نے بھی

خطاب کیا۔ پشاور کے جلسے سے خطاب کرتے ہو ئے جمعیت علمائے اسلام (ف)

کے سربراہ مولانا فضل الرحماننے کہا کہ ہم جیلیں بھر دیں گے لیکن حکومت کو

نہیں مانیں گے۔جلسے سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان ، احسن اقبال، اسفند

یار ولی، آفتاب شیرپاؤ، نیر بخاری نے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ

اپوزیشن نے اسلام آباد کی کال دی تو حکومت کو گھرجانے سے کوئی نہیں بچا

سکے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم جیلیں بھر دیں گے لیکن حکومت کو

نہیں مانیں گے، 25 جولائی کے انتخابات جعلی تھے، اب پورے ملک میں عمران

خان سلیکٹیڈ نہیں ریجیکٹڈ ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال 25 جولائی کو

ہونے والے انتخابات جعلی تھے حکومت جتنی جیلیں بھر لے ہم اس کو نہیں مانیں

گے۔مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل سے

نوازشریف کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ قیام امن اور فاٹا انضمام مسلم لیگ نے کر

دکھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔عوامی نیشنل پارٹی

کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے اپوزیشن کے جلسے کو بارش کا پہلا قطرہ

قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے، مہنگائی کا طوفان لاکر

تبدیلی لائی گئی انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں حقیقی جمہوری انتخابات کرائے

جائیں۔پیپلزپارٹی کے رہنما نیر بخاری نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا

کہ 25 جولائی کو ایک اور شوکت عزیز ملک پر مسلط کیا گیا ہے، عمران خان

بچے گا نہ ہی سینیٹ کے چیئرمین، ہم دونوں کو ڈوبو دیں گے۔قومی وطن پارٹی

کے سربراہ آفتاب شیرپاو نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ عمران نیازی سے

ملکی سلامتی کو خطرہ ہے ملکی میڈیا پر قدغن ہے، سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں

کی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔ آئین کی خلاف ورزیاں کرکے ملک آمریت کی طرف جا

رہا ہے۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ اگر ملک میں آبادی بڑھنے

کی شرح2.4 فیصد ہو اور ترقی کی شرح بھی2,4 فیصد سے کم ہو تو وہاں کی

ترقی صفر ہوگی، جب کارخانے بند ہو رہے ہوں ، نوجوانوں کو روز گار کہاں

سے ملیگا، ملک میں لوڈ شیڈنگ اور خود کش حملے ہوتے تھے ، پختون بھائیوں

نے سب سے زیادہ قربانی دی، اپنے کندھوں سے لاشیں اٹھاتے رہے ، ہماری

حکومت نے سارے وعدے پورے کئے ، فوج کو 5سو ارب روپے دیئے ، ملک

میں امن لائے، لیکن آج سلیکٹڈ حکومت کو لا کر بٹھا دیا گیا ہے اور اب پھر سے

ملک کا امن سلیکٹڈڈ وزیر اعظم تباہ کر رہا ہے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ

25جولائی کو جو ا نتخابات ہوئے وہ جعلی تھے ، عوام نے25 جولائی کے

انتخابات کو مسترد کر دیا ہے ،حکومت بے فکر رہے ، اس اجتماع کے بعد دوسرا

بڑا اجتماع اسلام آباد میں بھی کریں گے انہوں نے کہا آج ملک میں مہنگائی عروج

پر ہے اور سلیکٹڈ وزیر اعظم بیرون ممالک سے قرضے لینے میں لگا ہے ، قوم

نے اس حکومت کو مسترد کر دیا ہے، اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے

سربراہ اسفند یار ولی خان نے بھی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں

تمام باتیں صاف صاف کروں گا، مہنگائی اس حد تک کردی ہے کہ سفید پوش

اپنے بچوں کو کھانا نہیں دے سکتے ، جب بچے کے پیٹ میں کھانا نہ ہو تو انسان

سب کچھ کرنے پر مجبور ہوتا ہے، افغانستان میں امن پاکستان کے بغیر نہیں آ

سکتا ، دونوں ایک دوسرے سے لازم و ملزم ہیں ایک خوشحال ہو گا تو تب ہی

دوسرا بھی امن سے رہے گا آج سارے پاکستا ن کے عوام سلیکٹڈ حکومت کے

خلاف یوم سیاہ منا رہی ہے ، مولانا فضل الرحمن سے بات ہوئی کہ رانا ثنا ء اللہ

کی گاڑی سے تو منشیا ت نکال لی ہماری گاڑیوں سے کیا برآمد کریںگے، دریں

اثنا کوئٹہ پہنچنے پر ائر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ

(ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ کی بے حرمتی

کی وجہ سے پاکستان آج سنگین حالات سے دوچار ہے ، دھاندلی کے ذریعے بنائی

گئی حکومت اب زیادہ دیر نہیں چل سکتی ،بلوچستان میں دس دن میں پارٹی بنا کر

اسے عوام پر مسلط کردیا گیا ، جب بھی ملک میں کوئی جمہوری قوت اٹھی ہے

وہ بلوچستان سے اٹھی ہے میاں نواز شریف کا پیغام لے کر کوئٹہ پہنچی ہوں ۔س

موقع پر سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی ، مسلم لیگ (ن)

کے صوبائی صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، پشتو نخواء ملی عوامی

پارٹی کے چیئر مین محمود خان اچکزئی ،مسلم لیگ (ن) کے صوبائی جنر ل

سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ، سردار یعقوب خان ناصر ،پرویز رشید، کیپٹن (ر)

صفدر و دیگر بھی انکے ہمراہ تھے،

اپنا تبصرہ بھیجیں