180

ناجائز (افسانہ) شاکرہ نندنی

Spread the love

انسان کے دو پہلو ہوتے ہیں اوریہ دنیا ایک دو دھاری تلوار ہے اور یہ تلوارانسان کو دونوں صورتوں میں کاٹ کر رکھ دیتی ہے

مہوش آج بہت خوش تھی اور ہوتی بھی کیوں نہ ، آج پورے چھ ماہ بعد اس کا بھائی ،بھابھی اور بچے جو اس کے گھرآرہے تھے۔ اتنے قریب رہتے ہوئے بھی وہ اتنے عرصے بعد ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ فون پر تو خیر اکثر بات ہوجایا کرتی تھی لیکن آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

مہوش میرپورخاص کے قریب ڈگری میں رہتی تھی۔ تین کمروں پر مشتمل یہ چھوٹا مگر خوبصورت گھر تھا۔ دو بیڈ روم، ڈرائینگ روم ، چھوٹا سا کچن اور چھوٹا سا لان جسے مہوش نے بہت خوبصورتی سے مختلف پھولوں سے سجایا ہوا تھا۔ لان کے ایک طرف چنبیلی ، گلاب اور موگرے کے پھو ل اپنی بہار دکھا رہے تھے اور دوسری طرف مہوش نے دھنیہ ، پودینہ، ہری مرچیں اور ٹماٹر کے پودوں سے لان کو سجایا ہوا تھا۔ اسے سبزیاں اگانا بہت پسند تھا۔ سکول میں جب سے اس نے ہوم اکنامکس پڑھی تھی تبھی سے اْسے گھرداری کا بڑا شوق تھا۔ لان کے بعد وہ اپنے ڈرائینگ روم پے سب سے زیادہ توجہ دیتی تھی۔ اس کے ڈرائینگ روم میں سب سے خوبصورت وہ لکڑی کا جھولا تھا جسے اْس نے پلاسٹک کے لال گلاب کے پھولوں سے سجایا ہوا تھااور ایک طرف بلیک لیدر کا شاندار صوفہ تھا(جو اس نے اپنی کمیٹی کے روپوں سے خریدا تھا)۔ درمیان میں ایک کانچ کا نئے انداز کا ٹیبل اور اس کے او پر ایک چھوٹا سا جار جس میں اْس نے مختلف قسم کی چاکلیٹس رکھی ہوئی تھیں۔ دیوار کے درمیان میں ایک بڑا سا سبز رنگ کا فریم لٹکا ہوا تھا۔ جس میں چار قل لکھے ہوئے تھے اور اس سے پورا کمرہ ایسے ہوگیا تھا جیسے سارے کمرے میں نور ہی نور پھیل گیا ہو۔ مہوش خود بھی پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتی تھی۔ اس کا شوہر قیصر بھی نماز کی پابندی کرتا تھا۔ قیصر شوگر مل میں ایک کلرک تھا۔ وہ اپنی بیوی کا بہت خیال رکھتا تھا ، کیوں نہ رکھتا ؟ایک تو وہ مہوش کی خالہ کا بیٹا تھا اور ان دونوں کی پسند کی بھی شادی تھی۔

ان کی شادی کو چھ سال ہوچکے تھے اور وہ ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے لیکن وہ اللہ کی رضا پے خوش تھے۔ مہوش نے اکثر دبے دبے لفظوں میں قیصر کو دوسری شادی کی اجازت بھی دے دی تھی لیکن قیصر ہر بار ہنس کر ٹال دیا کرتا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ مہوش اْسے دوسری شادی کی اجازت دے تو رہی ہے لیکن جس دن اس نے دوسری شادی کرلی وہ اس شادی کو برداشت بھی نہیں کرسکے گی۔ ویسے بھی ایک دوسرے سے اتنا پیار کرتے تھے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے بچے ہی بنے رہتے تھے۔ صبح قیصر جب کام کے لیے جاتا تو مہوش اسے گیٹ تک چھوڑنے کے لیے ضرور جاتی اور اس کے گلی کے موڑ مڑنے تک اسے دیکھتی رہتی۔ سارا دن خود کو گھر کے کاموں میں الجھائے رکھنے کے باوجود اس کا وقت بہت مشکل سے کٹتا۔ خیر جیسے ہی پانچ بجتے وہ خوش ہوجاتی اور سوچتی ایک بور دن قیصر کے بغیر گزر گیا۔ دونوں شام کی چائے پیتے وقت ایک دوسرے کو پورے دن کے کاموں سے بھی آگاہ کرتے ۔

آج جب قیصر شام کو کام سے گھر واپس آیا تو اسے گھر کی فضاء کچھ بدلی بدلی سی لگی اور آج فضاء خوشگوار ہوتی بھی کیوں نا، مہوش کے بھائی ، بھابھی اور بچے جو گھر آئے ہوئے تھے۔

آج رات کھانے کے بعد قیصر ، مہوش، اس کا بھائی فاروق اور بھابھی رقیہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ رات بارہ بجے انہیں خیال آیا کہ ان چاروں کے علاوہ یہاں دو بچے حیدر اور اِرج بھی موجود ہیں جنہیں کافی دیر سے انہوں نے نہیں دیکھا۔ مہوش ایک دم اٹھی کہ جاؤں اور بچوں کو دیکھ آؤں۔ جب وہ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی تو یہ دیکھ کر حیران ہوگئی کہ دونوں بچے صوفے پر کھیلتے کھیلتے سوگئے اور اس کی نظر ٹیبل پے پڑی تو وہ اپنی ہنسی نہ روک سکی کیونکہ چاکلیٹ سے بھرا جار خالی ہوچکا تھا اور جابجا چاکلیٹ کے ٹکڑے اور ریپر ز پھیلے ہوئے تھے۔ اور ارِج اور حیدر کے منہ پے بھی چاکلیٹ لگی ہوئی تھی۔

مہوش اور رقیہ نے دونوں بچوں کو اٹھایا ان کے ہاتھ منہ دھلوا کر انہیں دوبارہ سلادیا۔ رات کافی ہوچکی تھی ، انہوں نے سونے کو ترجیح دی کیونکہ ویسے بھی انہوں نے صبح ایوب پارک جانے کا پروگرام بنایا تھا اور مہوش نے تو مہمانوں کے آتے ہی بھائی سے کہہ دیا تھا کہ وہ ہفتہ اور اتوار کو بھی یہیں رہیں گے اور بچوں کے ساتھ مل کر خوب سیر بھی کرینگے۔
دو دن کیسے گزر گئے اور پتا بھی نہ چلا۔ مہمانوں کے جانے کے بعد گھر ایک دم ویران ساہوگیا تھا۔ بچوں کا شور، نند بھابھی کی باتیں۔ سالے بہنوئی کی باتوں میں ہلکی ہلکی چٹکیاں ایک ہفتہ تو مہوش اور قیصر کا یہی باتیں سوچ سوچ کہ گزر گیا۔

آہستہ آہستہ دونوں دوبارہ سے اپنی معمول کی زندگی پے آگئے لیکن بچہ نہ ہونے کی کمی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی۔ آج وہ حسبِ عادت رات کا کھانا کھا کے چہل قدمی کے لئے باہر نکلے تو راستے میں انہیں خالہ زینب(ان کی پڑوسن) مل گئی۔ باتونی ہونے کی وجہ سے خالہ زینب نے انہیں راستے میں ہی ایک گھنٹے تک روکے رکھا۔ پہلے تو وہ مہوش سے بھائی، بھابھی اور بچوں کے بارے میں بات کرتی رہی بعد میں مہوش اور قیصر کو وہ بچے نہ ہونے کے میٹھے میٹھے طعنے دینے لگی۔ دونوں بڑی مشکل سے خالہ زینب سے جان چھڑا کر گھر پہنچے ہی تھے کہ گلی میں شور سن کر دونوں باہر آگئے۔

باہر آکر کیا دیکھتے ہیں کہ خالہ زینب کے ہاتھ میں ایک نومولود بچہ اٹھایا ہوا ہے اور باقی محلے والے ارد گرد جمع ہوکے اس بچے کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ قیصر نے پاس جاکے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ دس منٹ پہلے ہی کوئی یہ بچہ گلی کی نکڑ پے پھینک گیا ہے۔ بچے کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے اسے دنیا میں آئے ہوئے ابھی چند گھنٹے ہی گزرے ہیں۔ اب محلے والے پریشان ہیں کہ یہ نا معلوم بچہ کس کا ہے اور اسے کون یہاں چھوڑ گیا ہے۔ اب اس بچے کا کیا کرنا چاہئے۔ کسی نے مشورہ دیا ، ایدھی سینٹر چھوڑ آتے ہیں۔ کسی نے کہا پولیس کو اطلاع کرتے ہیں۔ کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بچے کو یہیں پڑا رہنے دیں۔ صبح جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ بچے کو بھوک لگی ہوگی یا اس کے تن کو ڈھانپنے کے لیے کوئی کپڑا ہی لے آئیں۔ غرض بچہ ایک اور فیصلہ کرنے والے کئی۔ سب ہی اپنے اپنے حساب سے مشورے دے رہے تھے کہ اچانک خالہ زینب کی نظر مہوش کے چہرے پر پڑی۔ مہوش کی آنکھوں سے گرے ہوئے آنسوشاید یہ کہہ رہے تھے کہ بچہ خدا نے اس کے لیے بھیجا ہے۔ خالہ زینب فوراً بھانپ گئی وہ بچہ لے کر مہوش کے پاس گئی اور بولی ، ’’اگر تم چاہو تو سب کا منہ بند کرسکتی ہو۔ اس بچے کو گود لے کر‘‘۔

دونوں میاں بیوی یہ بات سن کر حیران اور پریشان ہوگئے کہ کیا کیا جائے۔ جیسے ہی خالہ زینب نے یہ بات سب کو بتائی تو سارے خوش ہوگئے اور ابھی جو سب بچے سے جان چھڑانے کے بارے میں سوچ رہے تھے ان کے لیے اس بچے سے جان چھڑانے کا اس سے بہتر حل اور کیا ہوسکتاتھا کہ مہوش اور قیصر کو یہ بچہ دیا جائے۔

بس اب کیا تھا کسی نے مہوش اور قیصر کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا اور مبارک بادیں دینی شروع کردیں جیسے یہ بچہ انہیں کا ہو۔ بچے کو ماں باپ مل گئے اور مہوش اور قیصر کو بچہ۔ دونوں خوشی خوشی بچے کو لیکر گھر چلے گئے۔

صبح ہوتے ہی قیصر نے سارے محلے میں مٹھائی بانٹی ۔ محلے والے باری باری آکے انہیں مبارک باد دینے لگے اور ساتھ ساتھ ان کے بڑکپن کی تعریف بھی کرنے لگے کہ انہوں نے ایسے بچے کو اپنایا جسے عام طور پے دنیا ناجائز کے نام سے پکارتی ہے۔ دونوں نے بچے کا نام نعمت قیصر رکھا۔ یہ بچہ ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ دونوں میاں بیوی اب جب بھی باہر جاتے تو بچے کوساتھ لے کر جاتے اور جب کوئی محلے والا دیکھتا تو تینوں کو ضرور دعائیں دیتا۔ شاید ان میاں بیوی کی قسمت میں کسی ایسے ہی بچے کا ماں باپ ہونا لکھا تھا۔ جوبھی تھا آخر وہ دونوں ماں پاب بن تو گئے یہ خوشی ان سے سنبھالے نہ سنبھلتی تھی۔ اب تو دونوں کو وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلتا۔ بچے کی شاپنگ ، اس کے ساتھ کھیلنا، باہر لے کر جانا۔ اس میں ایک سال کیسے گزرگیا پتا ہی نہ چلا۔

آج نعمت کی سالگرہ تھی۔ دونوں میاں بیوی نے سارے محلے کو سالگرہ کی دعوت دی تھی۔ مہوش کی فیملی بھی اس خوشی میں شریک تھی۔ کیک کاٹا گیا، انواع و اقسام کے کھانوں سے سب کو خوش کیا گیا۔

آہستہ آہستہ تقریباً سب ہی مہمان چلے گئے۔ بس دو چار ہی رہ گئے ۔ جن کے ساتھ بچے تھے۔ وہ بھی اس لیے رک گئے تھے کیونکہ بچے ضد کررہے تھے کہ ہم نعمت کو ملے ہوئے تحفے دیکھ کر جائیں گے۔ کافی وقت ہوچکا تھا اس لیے مہوش نے سوچا کہ پہلے تحفے کھول لئے جائیں تاکہ سب اپنے اپنے گھر چلے جائیں۔ تحفے کھلنے کے ساتھ ساتھ باتیں بھی ہورہی تھیں کہ اچانک خالہ زینب نے یہ کہہ کر سب کو چپ کرا دیا کہ مہوش اگر تمہارا اپنا بچہ ہوتا تب تو تم سالگرہ پے اس سے زیادہ خرچہ کرتے نا۔ لیکن ابھی اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ تمہارا اپنا بچہ تو ہے نہیں۔ کل کو بڑا ہوگا۔ اسے پتا چلے گا کہ تم اس کے اصلی ماں باپ نہیں ہو تو یہ تمہیں چھوڑ کے چلا جائے گا اور ویسے بھی ایسے بچے کا کیا اعتبار جس کے ماں باپ کا کوئی اتا پتہ نہ ہو۔ پتا نہیں اس کے ماں باپ تھے بھی کہ نہیں۔ یا یہ ایسے ہی کسی کی دل لگی نہ ہو۔

یہ سننا تھا کہ سب نے ہی بولنا شروع کردیا اور مہوش کو سمجھانے لگے کہ اس بچے کے ساتھ اتنا پیار نہ کریں۔ یہ بچہ ضرور انہیں دھوکا دے گا۔ اس سے پہلے کہ یہ بچہ تم دونوں کو چھوڑ کے چلا جائے تم دونوں خود ہی اس بچے کو چھوڑ دو۔ کسی یتیم خانے میں جاکے دے آؤ۔ اس بچے کے حوالے سے سب اپنی اپنی باتیں کرکے چلے گئے۔ لیکن ان دونوں میاں بیوی کے لیے کئی سوال چھوڑ گئے۔ ان دونوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ پہلے لوگوں ہی کے کہنے میں آکر وہ اس بچے کو گھر لائے تھے اور اسے اپنا نام دیا تھا۔ اب یہ لوگ اس بچے سے نام واپس لینے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ قیصر تو بچے کو گود میں لے کر بچے کی طرف سے نظریں ہی نہیں ہٹا رہا تھا۔ اور مہوش کا تورو رو کر برا حال تھا۔ وہ اللہ تعالی سے گلہ کررہی تھی کہ سب کیا ہورہا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ بچہ اپنے پاس رہنے دیں یا کسی یتیم خانے میں چھوڑ آئیں۔ غرض ساری رات دونوں میاں بیوی کبھی روتے، کبھی بچے کو دیکھتے، کبھی خدا سے گلہ کرتے اور کبھی اللہ تعالی سے رو رو کر دعا کرتے کہ وہ انہیں صحیح راستہ دکھائے۔ ساری رات اسی کشمکش میں گزر گئی۔ صبح ہوئی ۔دونوں نے نماز پڑھ کر خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور تھوڑی دیر بعد بچے کو لے کر وہ باہر نکل گئے۔ پانچ چھ گھنٹے بعد بوجھل قدموں سے جب وہ واپس تو وہ دوبارہ دو تھے۔ ان کا بچہ ان کے ساتھ نہیں تھا کیونکہ وہ بچہ ایدھی سنٹر چھوڑ آئے تھے۔
وہ دونوں جانتے تھے کہ وہ بچے کی اچھی پرورش کریں گے لیکن یہ لوگ اس بچے کو ناجائر کہہ کہہ کر اس کا جینا حرام کردیں گے۔

مہوش اور قیصر آنسوؤں سے بھیگی ہوئی ایک دوسرے کی آنکھوں میں اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈ رہے تھے جن کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا کہ انہوں جو کیا صحیح کیا یا غلط لیکن مہوش کو ایک بات سمجھ آگئی کہ یہ دنیا ایک دو دھاری تلوار ہے اور اس تلوار نے دونوں صورتوں میں اسے کاٹ کے رکھ دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں