180

بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں کیخلاف بڑھتے مظالم پر دنیا نے خاموشی توڑ دی

Spread the love

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)مودی کے دیس میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کیخلاف

نفرت انگیز جرائم کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھادیا گیا، رکن مما لک کی بھارت

میں گئو رکھشک کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کی پر تشدد اموات کی

مذمت کی۔بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے جا ر ی کی گئی تفصیلات کے مطابق

بھارت میں انتہاپسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دوسری بار اقتدار میں

آنے کے بعد مسلمانوں اور دلتو ں پرمظالم کا نہ روکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔

بھارت میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز جرائم کا معاملہ اقوام

متحدہ میں بھی ا ٹھا دیا گیاہے ، رکن ممالک نے بھارت میں گئورکھشک کے نام

پر ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کی پر تشدد اموات کی مذمت کی اور کہاگزشتہ پا نچ

برسوں سے مسلمانوں اور دلتوں پر تشدد کا سلسلہ مزید گرم ہوا۔مبصرین کے

مطابق مسلمانوں کو مذہبی نعرہ لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔پے د ر پے ہولناک

تشدد کے واقعات میں متعدد افراد کی اموات کے بعد بھارت میں اقلیتیں انتہائی غیر

محفوظ ہوگئی ہیں۔ اپریل دوہزار سترا میں د س مسلمانوں کو سرعام موب لنچنگ

کا نشانہ بنایا گیا،اجلاس میں مسلمانوں پر تشدد کے بعد موت کا شکار افراد کی

فہرست بھی پیش کی گئی اور کہا گیا گزشتہ ماہ مذہبی نعرہ نہ لگانے پر تبریز

انصاری نوجوان کو ہند انتہاپسندوں نے مار مار کر جان لے لی تھی،مسلم استاد

کوبھی ٹرین میں نعرہ لگا نے کو کہا اورانکار پر تشدد کر کے ٹرین سے ہی اتار

دیا۔دوسری جانب بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر آسنسول میں ظالم ہندوں

نے دو معصوم بچوں کو بھی نہ بخشا،سکول سے واپسی پر انتہاپسندوں نے

دومسلمان بچوں کو روکا اور مذہبی نعرہ لگانے کو کہا ، انکار پر قتل کی دھمکی

دی ۔ علا قے میں خوف وہراس کے باعث مارکیٹ بند کردی گئیں۔بھارتی میڈیا کے

مطابق بھارت میں مسلمانوں اور دلتوں پر موب لنچنگ کے بڑ ھتے واقعات کے

باعث 49 مشہور شخصیات نے بھارتی وزیرعظم مودی کو خط لکھ دیا ہے جس

میں کہا گیا ہے انتہاپسند مسلمانوں سے مذہبی نعرے لگواتے ہیں اور ایسا نہ کرنے

کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے یا گئو رکشک کے نام پر مارا پیٹا جاتا

ہے اور دلت نوجوانوں کی زندگیاں بھی شدت پسندوں نے مشکل کردی ہیں جن کو

بات بات پر تشدد کرکے ہمیشہ کیلئے سلایا جارہا ہے۔مودی سرکار ان واقعات پر

آنکھیں بندرکھنے کے بجائے نوٹس لے اور تدارک کے اقدامات اٹھائے۔



اپنا تبصرہ بھیجیں