امریکی پابندیاں حسن روحانی 179

امریکہ سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں اگر اسے ہماری شکست نہ سمجھا جائے: ایرانی صدر

Spread the love

برطانیہ نے ایران کے قبضے سے برطانوی پرچم بردار آئل ٹینکر چھڑانے کے لیے ایک ثالث کو ایران بھیج دیا

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکہ سے مذاکرات پر مشروط آمادگی کا اظہار کردیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے امریکا سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا جب کہ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات اس صورت ہوں گے جب اسے ہماری شکست نہ سمجھا جائے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ان پر ملک کی بڑی ذمہ داریاں ہیں، وہ مسائل کے حل کے لیے مکمل طور پر صرف قانونی اور مخلصانہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر ایک ہی وقت میں ایران مذاکرات کے نام پر شکست کی کسی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے ایران کے قبضے سے برطانوی پرچم بردار آئل ٹینکر چھڑانے کے لیے ایک ثالث کو ایران بھیج دیا جس کی تصدیق ایران کے سپریم لیڈر آفس کی جانب سے کی گئی ہے۔سپریم لیڈر آفس کی جانب سے برطانوی ثالث کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں البتہ محمد محمدی کا کہنا تھاکہ ایک ایسا ملک جس نے ایک وقت وزرا اور وکلا ایران میں تعینات کیے وہ آج اس نہج پر پہنچ گیا کہ اپنا جہاز چھڑانے کی درخواست کرنے کے لیے ثالت کو بھیجتا ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے چند ہفتے قبل جبرالٹر سے ایران کے آئل ٹینکر کو قبضے میں لیا جس کے بعد ایران نے گذشتہ ہفتے اس کے جواب میں کارروائی کی اور آبنائے ہرمز سے 2 برطانوی آئل ٹینکروں کو قبضے میں لے لیا۔ رواں برس مئی کے آغاز میں امریکہ نے ایرانی تیل کی درآمدات پر دی گئی چھوٹ ختم کردی اور خبردار کیا کہ اب جو بھی ملک ایران سے تیل خریدے گا اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران نے امریکا کے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے معاشی دہشت گردی قرار دیا۔ ساتھ ہی ایران نے 2015 میں ہونے والے عالمی جوہری معاہدے کے اہم حصے سے دستبردار ہونے کا بھی اعلان کردیا جس سے امریکہ گذشتہ برس ہی پیچھے ہٹ چکا ہے۔

بعد ازاں امریکا نے اپنا بحری بیڑہ اور بی 52 بمبار طیارے خلیج فارس کی جانب روانہ کردیے جس نے ایران کو مزید مشتعل کردیا اور تہران نے بیان دیا کہ خلیج فارس میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا ذمہ دار امریکہ ہوگا۔

ایران نے امریکی صف بندی کو نفسیاتی جنگی حربہ قرار دیا جس کا مقصد ان کے ملک کو دھمکانا ہے۔اس حوالے سے پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا لیکن واشنگٹن خطے کے مفاد اور امریکی فوج کے دفاع کے لیے تیار ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ محکمہ دفاع خطے میں ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں