حفظان صحت وبا تدابیر 199

چاند اور چندر یان۔2

Spread the love

حکیم محمد شیراز، لکچرر شعبہ معالجات، کشمیر یونیورسٹی، کشمیر

ابن انشا کیا خوب کہہ گئے ہیں، اگر وہ کچھ اور نہ بھی کہتے تب بھی یہ اشعار ان کی شہرت کے لیے کافی تھے

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے

ہم ہنس دیے ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ ترا

یوں تو چاند اور شعرا کا تعلق پرانا ہے یہ الگ بات ہے کہ آج کل کچھ سائنسداں بھی چاند میں دلچسپی لے رہے ہیں۔اس عنوان پر ایک بار پھر اقبا لؔ کے اشعار دیگر شعرا پر سبقت لے جاتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں،نوک قلم کے سپرد کرتا ہوں:

میرے ویرانے سے ہے کوسوں دور تیرا وطن

ہے مگر دریائے دل تیری کشش سے موجزن

قصد کس محفل کا ہے، آتا ہے کس محفل سے تو

زرد رو شاید ہوا رنج رہ منزل سے تو

کہتے ہیں کہ 1969 میں نیل آرمسٹرونگ نامی سائنسداں نے سب سے پہلے چاند پر قدم رکھا واپسی میں وہاں سے کچھ مٹی لے آیا جس کے تجزیہ میں پچاس سال سے بھی زائد گزر چکے ہیں مگر اس عقدہ کا کچھ حل نکل نہ سکا کہ چاند کے وجود کے پیچھے کیا راز چھپا ہوا ہے، اس کی چاندنی کے مزید کیا کیا فوائد ہیں، اس کے اوپر جو داغ ہے اس کا راز کیا ہے؟ کیوں لوگ اپنی محبوباؤں کو چاند سے تشبیہ دے رہے ہیں؟اب کیا کہا جائے کہ شاعر نے اس سے کافی پہلے ہی تخیل کی پرواز کے سہارے چاندسے متعلق مختلف عقدوں کومثلاًاس کی گردش، اس کی چاندنی نیز اس کی منزل وغیرہ حل کر دیے تھے۔ اقبال ؔ سے کچھ اشعار مستعار لیتا ہوں

ایک حلقے پر اگر قائم تری رفتار ہے

میری گردش بھی مثال گردش پر کار ہے

میں رہ منزل میں ہوں، تو بھی رہ منزل میں ہے

تیری محفل میں جو خاموشی ہے، میرے دل میں ہے

تو طلب خو ہے تو میرا بھی یہی دستور ہے

چاندنی ہے نور تیرا، عشق میرا نور ہے

چاند پر موجود حفرہ کا پتہ سب سے پہلے الفرغانی نے دیا تھا۔مگر اس کی وجہ نہ بتا سکا تھا، وہ بھی شاعر مشرق نے بتایا:

یہ داغ سا جو تیرے سینے میں ہے نمایاں

عاشق ہے تو کسی کا ؟ یہ داغ آرزو ہے؟

اس سلسلے میں مولانا آزادؔ کی بات یہاں نقل نہ کی جائے تو بات ادھوری رہے گی۔غبار خاطر کے اخیر مکتوب میں رقم طراز ہیں:
آگرہ کے سفر کا اتفاق ہوا۔ اپریل کا مہینہ تھا اور چاندنی کی ڈھلتی ہوئی راتیں تھیں۔ جب رات کی پچھلی پہر شروع ہونے کو ہوتی، تو چاند پردہ شب ہٹا کر یکا یک جھانکنے لگتا۔ میں نے خاص طور پر کوشش کر کے ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ رات کو ستار لے کر تاج چلا جاتا۔ اور اس کی چھت پر جمنا کے رخ پر بیٹھ جاتا۔ پھر جونہی چاندنی پھیلنے لگتی ستار پر کوئی گت چھیڑ دیتا اور اس میں محو ہو جاتا۔ کیا کہوں اور کس طرح کہوں کہ فریب تخیل کے کیسے کیسے جلوے انہی آنکھوں کے آگے گذر چکے ہیں:

گدائے میکدہ ام، لیک وقت مستی بیں

کہ ناز بر فلک و حکم بر ستارہ کنم!

رات کا سناٹا، ستاروں کی چھاؤں، ڈھلتی ہوئی چاندنی اور اپریل کی بھیگی ہوئی رات، چاروں طرف تاج کے منارے سر اٹھائے کھڑے تھے، بر جیاں دم بخود تھیں۔ بیث میں چاندنی سے دھلا ہوا مرمر یں گنبد اپنی کرسی پر بے حس و حرکت متمکن تھا۔نیچے جمنا کی رو پہلی جدولیں بل کھا کھا کر دوڑ رہی تھیں اور اوپر ستاروں کی ان گنت نگاہیں حیرت کے عالم میں تک رہی تھیں۔نور و ظلمت کی اس ملی جلی فضا میں
ک پردہ ہائے ستار سے نالہ ہائے بے حرف اٹھتے، اور ہوا کی لہروں پر بے روک تیرنے لگتے۔

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چاند سے متعلق کچھ محاورے اور تشبیہات بھی نقل کیے جائیں۔مثلاً ’’ چاند آسمان پر چڑھا سب نے دیکھا‘‘ (یعنی ظاہر بات چھپ نہیں سکتی)،چاند پر خاک پڑنا( نیک انسان پر تہمت لگانا)،چاند تارا (پاکستان اور ترکی کا قومی نشان)،چاند چھپنا(کسی نازنین کا اپنے چہرے کا پردہ کرنا)،چاند سا مکھڑا، چاند کدھر سے نکلا(جب بڑے دنوں بعد کسی سے ملاقات ہو تو کہا جاتا ہے)،چاندنا ہونا(رونق ہونا، کامیاب ہونا)۔معلوم ہوا کہ ادبا اور شعرا کے درمیان چاند کی کافی اہمیت ہے۔آ ئیے چاند سے متعلق سائنسدانوں کے نظریے پر طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں۔

چندریان ۲ جو آج کل بڑے چرچے میں ہے۔ مشاہیر ملک جس کی پذیرائی کرتے تھک نہیں رہے ہیں۔ خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور سنگ میل کو پار کرتے ہوئے ہندوستانی سائنسدانوں نے چاند کے لیے ہندوستان کے دوسرے مشن ’’چندر یان 2‘‘ کو لاکھوں خوابوں کے ساتھ‘‘ پیر کو ٹھیک 2 بج کر43 منٹ پر انتہائی کامیابی کے ساتھ خلا میں داغ دیا۔ داغے جانے کے 16 منٹ اور 14 سکنڈ بعد چندریان پروگرام کے عین مطابق زمین کے مدار میں داخل ہو گیا۔ ہندوستانی خلائی تحقیقی ایجنسی کے سائنسدانوں نے بتایا کہ چندریان ان کے کنٹرول میں ہے جو 23 دنوں تک زمین کا چکر لگائے گا اور آہستہ آہستہ زمین کے دائرہ اثر سے باہر نکلے گا۔ روانگی کے تیسویں دن وہ چاند کے اطراف مدار میں پہنچ جائے گا۔ 7 ستمبر کو چاند پر اترے گا۔ یہ چاند کے لیے دنیا کا پہلا مشن ہو گا جو اس کے جنوبی قطب کو کھنگالے گا۔

بنا بریں ہند کے سائنسدانوں کی یہ کاوش لائق صد و تحسین ہے۔ ہمیں ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔ امید ہے ہے کہ خلائی تحقیق کے معاملے میں ان شا اللہ بہت جلد ہمارا ملک سر فہرست آ جائے گا۔ ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ طب یونانی کے وہ نظریات جن کا تعلق چاند سے ہے، سے متعلق تحقیق و ایجاد کا نیا راستہ کھلے گا۔ یاد رہے کہ بدن انسان کے اخلاط کا تعلق چاند سے اسی طرح ہے جس طرح سمندر کی موجوں کا تعلق چاند سے ہے۔ یعنی جس طرح سمندرمیں چاند کی مختلف ہیتوں کی وجہ سے جوار بھاٹا اٹھتا ہے نیز کبھی سمندر کا پانی اس کے مرکز کی طرف عود کر جاتا ہے جسے مد و جزر کہتے ہیں اسی طرح اخلاط کا جوش و ہیجان بھی چاند کی ہیتوں سے متاثر ہوتا ہے نیز اس بنا پر اصول علاج اور علاج کو مرتب کیا جاتا ہے نیز تدابیر استفراغ کو اختیار کیا جاتا ہے جیسا کہ شیخ الرئیس ابن سینا کے ملفوظات سے واضح ہے۔ غرض یہ ایک راز ہے جو مزید تحقیقات کا طالب ہے۔اسی طرح پھولوں میں مہک اور پھلوں کی مٹھاس کا تعلق بھی چاند کی روشنی سے ہے۔آخر چاندنی میں وہ کیا راز ہے جو پھلوں میں مٹھاس پیدا کرتا ہے، ہنوز تحقیق طلب ہے۔اسی طرح اطباء گلقند، گل چاندنی تیار کرتے ہیں جو ذائقے میں اپنی مثال آپ ہے۔جس کو تیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ گل چاندنی لے کر اسے چاند ہی کی روشنی میں خشک کیا جائے۔

تاہم یہاں کچھ باتیں قابل غور ہیں۔کیا ’چندریان 2 کی مدد سے کوئی ایسی تحقیق سامنے آئے گی جو ہندوستان کی بے روزگاری، ہجومی تشدد، معاشی بحران، غربت، بھک مری اور تعلیمی پسماندگی جیسے مسائل کو حل کرنے میں معاون ہو گی؟ کیونکہ اس پراجیکٹ پر کروڑوں نہیں اربوں روپے لگے ہیں۔ جب 1969 میں چاند پر پہنچنے والے سائنسداں بغرض تحقیق وہاں سے کچھ مٹی اٹھا لائے تھے جو مذکورہ عقدوں کو حل کرنے میں اس کامیابی سے کوئی مدد نہیں ملی تھی۔ یاد رہے کہ اس وقت ہندوستان کی نوے فیصد آبادی غریب ہے۔ کئی علاقے قحط زدہ تو کئی سیلاب زدہ ہیں بلکہ طوفان کے ستائے ہوئے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ تعلیمی پسماندگی کو واضح کرنے کا یہ موقع نہیں کہ مضمون طویل ہو جائے گا۔ روپے کی قیمت دن بدن گھٹ رہی ہے۔ جہلا ہجومی تشدد پر آمادہ ہیں۔

حکومت کی اس کامیابی پر ہم حکومت نیز ان سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جن کی شبانہ روز محنتوں کے نتیجے میں آج اسرو، ناسا کے ہم پلہ نظر آرہا ہے۔ ہم حکومت سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ مذکورہ مسائل پر بھی توجہ دے تاکہ ملک سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشی، اقتصادی اور تعلیمی معاملات میں بھی بہتر سے بہتر ہوتا چلا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں