جدید اردو قاعدہ (محمد عادل)

Spread the love

الف: الف سے انسانیت جس کا اس دنیا سے جنازہ نکل چکا ہے۔

ب: ب سے بیوٹی پارلر جس کی زیارت کے بغیر ہر فنکشن بے رنگ سا لگتا ہے۔

پ: پ سے پاپ میوزک جسے آج کل کے شیر خوار بچے بھی شوق سے سنتے ہیں۔

ت: ت سے ترقی جو پاکستان کا مقدر ہے اور دشمن کی پریشانی۔

ٹ: ٹ سے ٹیلی فون جو رحمت سے زیادہ زحمت بن چکا ہے

ث: ث سے ثمر جو آج کل سفارشیوں اور چوروں کو ملتا ہے۔

ج: ج سے جرأت جو سچ بولنے کی تو کیا سچ سننے کی بھی نہیں رہی۔

چ: چ سے چکر جو ہر کوئی ہر کسی کو دینے کے لئے تیار ہے۔

ح: ح سے حسن جس کے لئے لوگ اپنے سر منڈوانے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔

خ: خ سے خواہش جو ہزاروں ایسی ہیں جو کہ دوسروں کے دم نکال دیں۔

د: دسے دل جو روزانہ بیک وقت ڈش انٹینا کے سارے چینلز دیکھنے کے لئے مچلتا ہے۔

ڈ: ڈ سے ڈینگیں مارنا جو سیاستدانوں کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے۔

ذ: ذ سے ذہانت جسے زنگ لگ چکا ہے۔

ر: ر سے رونق جو ہر وقت کالجوں کے سامنے لگی رہتی ہے۔

ز: ز سے زہر جو پاکستانیوں کو اپنے ملک کی ثقافت لگتی ہے۔

ژ: ژ سے ژالہ جو میاں بیوی کی لڑائی کے دوران برتنوں کی صورت میں شروع ہوتا ہے۔

س: س سے سخاوت جسے لوگ اب مشہوری اور نمودونمائش کے لئے اپناتے ہیں۔

ش: ش سے شرم وحیا جس کا اب کوئی بھی حال نہیں رہا۔

ص: ص سے صحت وصفائی جسے فیشن کے لئے پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

ض: ض سے ضرورت جو طالبعلموں کو کتابوں کی بجائے کلاشنکوف اورلڑکیوں کو کاسمیٹکس کی رہتی ہے۔

ط: ط سے طالب علم جو پڑھتے کم اور فلموں، ڈراموں اور اداکاروں کی باتیں زیادہ کرتے ہیں۔

ظ: ظ سے ظلم جو کالج کے طالب علموں پر فیس جمع کرانے کے دوران کلرکوں کا عملہ کرتا ہے۔

ع: ع سے عادت جو طالب علموں کو دوران لیکچر جمائیاں لینے کی پڑچکی ہے۔

غ: غ سے غرور جسے لوگ بطور فیشن اپنائے ہوئے ہیں۔

ف: ف سے فیل جس کی شرح میں روزبروز اضافہ ہورہاہے۔

ق: ق سے قہقہے جو ہر سیدھے انسان کو دیکھ کر لگائے جاتے ہیں۔

ک: ک سے کالج جہاں طالب علم تعلیم حاصل کرنے کے سوا ہر کام کرتے ہیں۔

گ: گ سے گلوب جو اپنی مادی چمک کے باعث قابل قدر ہے۔

ل: ل سے لائبریری جو اونگھنے کے لئے بہترین اور آرام دہ جگہ ہے۔

م: م سے ماڈل گرل جو ہرلڑکی خواہ وہ پچاس سال کی ہو، اپنے آپ کو تصور کرتی ہے۔

ن: ن سے نیند جو ویڈیو اور وی سی آر کے سامنے آنکھوں سے کوسوں دور رہتی ہے۔

و: و سے وہم جو آج کل کے نوجوانوں کو ہے کہ ان کے والدین ان کو ہر بات سے ٹوکتے ہیں۔

ہ: ہ سے ہنسی جو مہنگائی کی وجہ سے اب کسی پر نہیں آتی

ی: ی سے یادداشت جس پر بھارتی فلموں نے اب کافی اثر کیا ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply