نکو (افسانہ) صبا ممتاز بانو

Spread the love

نکو نکو نکو، اس کے ہاتھ میں روٹی تھی اور وہ نکو کو آوازیں دے رہی تھی، تھوڑی دیر بعد ہی ایک چھوٹی سی بغیر بالوں کے کتیا دم ہلاتی ہوئی آئی اور مالکن کے آگے پیچھے پھرنے لگی، اس کتیا کو کوئی بھی پیار نہیں کر سکتا تھا، اس گنجی، سوکھی سڑی اوربد صورت کتیا پر بھلا کسے پیار آتا یا اس کا کوئی خیال رکھے، کیسے ممکن تھا۔ ؟
یہ تو وہ تھی جو سمجھتی تھی کہ اس کی بدصورتی میں اس کا تو کوئی قصور نہیں تھا، بچے انسان کے ہوں یا کتے کے، خالق تو ایک ہی ہے نا، اس نے صرف سب کو پیدا ہی نہیں کیا، ان کے رزق کا بندوبست بھی کیا ہے، اسی لیے سب کو رزق ملتا ہے، وہاں سے جہاں سے اسے خبر بھی نہیں ہوتی ورنہ یہاں لاشیں ہی لا شیں ہوتیں۔

نکو کو کیا پتا تھا کہ وہ بد صورت ہے۔ اس کے تو بال بھی نہیں۔ اس کو پیار کرنا تو دور کی بات اس کی طرف کوئی نظر اٹھا کر دیکھ بھی لے تو بڑی بات ہے۔ اس کو یہ پتا ہوتا تو شائد وہ دم سادھ کر کہیں بیٹھ رہتی۔ اس طرح پیار کروانے کے لئے مالکن کی منت سماجت نہ کرتی۔ کبھی دم ہلانا، کبھی لیٹ جانا، کبھی مالکن کے گرد طواف کرنا، مالکن تو اس کا کعبہ تھی، مالکن کو بھلے اس پر پیار نہیں آتا تھا، مگر اسے تو مالکن پر بہت پیار آتا تھا، اسکا دل کرتا تھا کہ وہ اپنی مالکن کے ہا تھوں کو چوم لے جن سے وہ اسے اور اس کی کالو ماں کو روٹی ڈالتی تھی، اس کے پائوں سے لپٹ جائے، جن سے چل کر وہ بالاخانے سے دھیرے دھیرے اترتی ہوئی آتی اور اس کٹورے میں پانی ڈالتی جو اس کی مالکن نے گھر کے باہر رکھا ہواتھا۔ مالکنیں تو ان کی دو تھیں مگر بڑی مالکن اس گھر کی حقیقی مالک تھی جس کے باہر ان کا رہن بسیرا تھا۔

نکو کی کالو ماں نے تین بچوں کو جنم دیا تھا، جس میںایک اس کی بہن اور ایک بھائی تھا، اس کی بہن بڑی پیاری بچی تھی۔ گھنے بھورے سیاہ بالوں والی ٹمی اور گھنے کالے بالوں والے کٹو میں بڑی اورچھوٹی مالکن کی جان تھی۔ بڑی اور چھوٹی ان کو بہت پیار کرتیں، ان کے سر پر ہاتھ پھیر تیں، ان سے کھیلتیں، شرارتیں کرتیں، وہ یہ سب دیکھتی، محسوس بھی کرتی، تب اس کے حصے میں بھی تھوڑا سا پیار آجاتا، جسے وہ نذرانہ یا کٹو اور ٹمی کے پیار کا صدقہ سمجھ کر قبول کر لیتی۔

اس کی ما ںکو بھی کٹو سے پیا ر تھا۔ نکو کو وہ منہ نہیں لگاتی تھی لیکن اس کے دل میں کبھی بھی ٹمی اور کٹو کے خلاف نفرت نہیں ابھری تھی البتہ اس میں پیار کی بھوک ضرور بڑھتی جا رہی تھی۔ اسے پیار کروانا اور کرنا دونوں اچھا لگتا تھا۔ وہ ان کے سا تھ کھیلتی، ان سے شرارتیں کرتی۔ کٹو سنجیدہ بچہ تھا، وہ اس کو بھی تنگ کرنے سے باز نہ آتی، وہ اس فتنی سے جان چھڑاتا، کئی دفعہ تو وہ گھر سے باہر ہی نہیں نکلتا تھا۔ مٹی کے میدان میں لمبی چوڑی سی سرنگ ان کا گھر تھا، یہاں ان کی ماں نے ا نہیں جنم دیا تھا، نکو اسے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیتی، وہ چار و ناچار اس کے سا تھ کھیلتا، پھر جان چھڑا کر سو جاتا۔ نکو کو دونوں سے پیار تھا، ایک خون تھا، پیار کیسے نہ ہوتا۔

بڑی مالکن کی شادی ہوئی تو انہیں خوب کھانے کو ملا۔ کتنے دن تک وہ گوشت کھاتے رہے۔ کٹو نے تو بالکل پر ہیز نہیں کیا۔ وہ بیمار ہو گیا۔ دو ما ہ کے بچے کی آنتیں گوشت کھانے سے زخمی ہو گئیں۔ بڑی اور چھوٹی مالکن کٹو کو ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔ دونوں بہت پریشان تھیں۔ کٹو کو دونوں نے گھر کے نیچے والے حصے میں رکھ لیا تھا۔ دونوں کی دیکھ بھال سے کٹو ٹھیک ہوگیا۔ نکو کی بھی جان میں جان آئی۔ بھائی تھا، اس کے ساتھ وہ کھیلتی تھی تو وہ کبھی غصے میں نہیں آتا تھااور ٹمی ذ را سا چھیڑ دو تو اسے کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی۔ پل میں آگ بگولہ ہو جاتی۔

پھر ایک دن ٹمی کو ایک آدمی نے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر بٹھا لیا۔ ابھی ٹمی اور نکو کے بھونکنے میں اتنی سکت کہاں تھی کہ وہ ڈر جاتا۔ اس نے نکو کو زور سے ٹھوکر لگا ئی تواس نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے اپنی ماں کی طرف دیکھا جو دور بیٹھی سب دیکھتی رہی مگر ٹس سے مس نہ ہوئی، اس کا دل بھر آیا، جیسی بھی تھی، بہن تھی۔

ایک دن بڑی اور چھوٹی مالکن بازار سے رکشے پر واپس آئیں تو رکشے والے کا دل کٹو پر آ گیا۔ اس نے بڑی مالکن سے کہا کہ’ ’ وہ یہ کالا کتا انہیں دے دے‘ ‘۔ نکو کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اگر مالکن نے ہاں کردی تووہ اکیلی رہ جائے گی، بڑی مالکن کسی کو بھی دینا نہیں چا ہتی تھی، وہ خاموش رہی، اس نے بس اتنا کہا کہ نہیں۔ گویا اس کی طرف سے یہ صاف انکار تھا۔
البتہ چھوٹی مالکن نے کہا کہ’ ’ وہ اسے لے ( نکو کو) جائے‘‘۔

اس آدمی نے اپنا ناک سکوڑا اور کہا کہ’ ’ اسے بس کٹو چا ہیے‘‘۔ کٹو تو دونوں کی آنکھوں کا تارا تھا، یہ کیسے ممکن تھا۔

اب وہ اور کٹو گھومتے تھے، اس کی بڑ ی اور چھوٹی مالکن نے دونوں کو اندر رکھنے کی کو شش کی کہ تیز دھوپ سے وہ دونوں بیمار نہ ہو جائیں یا ٹمی کی طرح انہیں بھی کوئی اٹھا کر نہ لے جائے۔ کٹو کو اپنی مالکنوں سے بہت پیار تھا، وہ مالکن کے گھر میں خوشی سے رہنے لگا۔ نکو کو بھی بڑی اور چھوٹی نے زبردستی باندھنا چاہا مگر وہ بھاگ کر باہر چلی گئی، ۔ نکو تو آوارہ گرد تھی۔ ماں سے اسے عشق تھا۔ اس کی دنیا تو اس کی ما ں تھی۔ اندر رہنا اس کے لئے موت کے برابر تھا۔ اس کے ابھی کھیلنے کودنے کے دن تھے۔

کٹو کبھی کبھی باہر نکلتا، تھوڑا بہت گھومتا، پھر اندر چلا جاتا۔ اسے دوائی مل رہی تھی، اچھی خوراک بھی مل رہی تھی، مگر ابھی کمزوری نہیں گئی تھی، ۔ یک دن وہ چہل قدمی کر رہا تھا کہ نکو اسے اصرار کر کے ساتھ والے سر سبز کھیتوں میں لے گئی۔ فصل کو پانی دیا گیا تھا، کٹو کے پائوں پانی اور مٹی میں دھنس گئے اور نقاہت کی وجہ سے وہ نکل نہیں سکا۔ گھنے کھیتوں میں اس کی لاش بھی چھپ گئی۔ بڑی اور چھوٹی نے بہت تلاش کیا۔ آوازیں دیں مگر کٹو تو گیلی مٹی میں دب کر کھاد کا حصہ بن چکا تھا۔ رو رو کر آنسو بڑی اور چھوٹی کی پلکوں پر جم گئے تھے۔ نکو کوبھی احساسِ جرم تھا۔ کیا ضرورت تھی کٹو کو وہاں لے جانے کی، مگر اس نے تو سو چا تھا کہ اس کی ہوا خوری ہو جائے گی، یہ کیا ہو گیا، کٹو دنیا سے ہی چلا گیا۔

بڑی مالکن صبح چلی جاتی۔ چھوٹی سارا دن گھر پر رہتی۔ بڑی مالکن انہیں جاتے جاتے روٹی ڈال جاتی۔ ان کے کٹورے کو بھی تازہ پانی سے بھر جاتی۔ اگر کبھی وہ بھو ل جاتی تو چھوٹی مالکن ڈال دیتی۔ مٹی کا کٹورا اس کی مالکن نے اس وقت باہر رکھا تھا۔ جب پانی پینے کے لیے انہیں دور جانا پڑتا تھا۔

چھوٹی مالکن کبھی کبھی اس کے بغیر بالوں کے جسم پر ہاتھ پھیرتی، اسے پیار کرتی، اسے سہلاتی۔ بڑی مالکن نے کبھی نکو کو ہاتھ نہیں لگایا تھا کیو نکہ ا سے نکو کو دیکھ کر کراہت آتی۔ کسی کی خوب صورتی یا بدصورتی میں اس کا قصور نہیں ہوتا مگر اس کی سزا پھر بھی اسی کو بھگتنا پڑتی ہے۔ نکو بھی سزا بھگت رہی تھی۔ جب وہ پیدا ہوئی تھی تو اس کے جسم پر ٹمی اورکٹو کی طرح ہی بال تھے۔ شرارتیں کرتے کرتے وہ گندے نالے میں گر گئی۔ کسی طرح وہ گندے نالے سے تو نکل آئی مگر اس کے سارے بال جھڑ گئے، جو دوبارہ نہیں اُگے۔

اس کی چھو ٹی مالکن کو جب غصہ آتا تو وہ چیخ کر کہتیـ’’ آخر یہ گندی سی کتیا مر کیوں نہیں جاتی، وہ جو پیاری تھی۔ اس کو کوئی لے گیا۔ کٹو مر گیا اور اب یہ ر ہہ گئی ہے، جسے دیکھنے کو بھی دل نہیں کرتا۔ کبھی کبھی وہ اس کو پتلی سی لکڑی سے مار بھی دیتی، مگر تب جب نکو اسے بہت تنگ کرتی۔ پیار کروانے کی کو شش میں جب وہ اس کے کپڑوں سے چمٹ جاتی تب اس کا دل چاہتا کہ اسے زہر دے کر مار ڈالے۔

اسے یوں مارتے یا بد دعائیں دیتے دیکھ کربڑی چھوٹی کو کہتی کہ’’ کیوں وہ ایک بے زباں جانور کو بد دعائیں دیتی ہے۔ اسے مارتی ہے۔ اس کی بدصورتی میں اس کا تو کوئی قصور نہیں‘‘۔
چھوٹی چپ کر جاتی۔ بات تو ٹھیک تو تھی۔ چھوٹی کو غصہ بھی آتاتھا اور پیار بھی۔ جب پیار آتا تو اس کے جسم پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرتی۔ نرم نرم ہاتھوں کا لمس نکو کو بہت اچھا لگتا تھا۔ کاش کبھی بڑی مالکن بھی اس کو اس طرح پیار کر ے۔

بڑی نے کبھی ان کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ ہاں ان کے روٹی، پانی کی اسے فکر رہتی تھی۔ وہ محبت سے زیادہ شفقت کی قائل تھی۔ اسے ہمدردی کی خو تھی۔ اسے حقوق العباد نبھانے کی عادت تھی۔ اب اس میں کیا انسان اور کیا حیوان۔ حساب لینے والے نے بھی یہ کھاتا ایک رکھا تھا۔ ایک نہ رکھتا تو انسان اپنے سوا کسی کو زمین پر رہنے نہ دیتا۔ وہ جانوروں کو مار مار کر ثواب اپنے نام کرتا رہتا۔ بڑی کا ظرف بھی بڑا تھا۔ اس کی سو چیں بھی بڑی تھیں، مگر دل بہت چھوٹا۔ چھوٹی کی سو چیں چھوٹی تھیں مگر دل بہت بڑا۔

کٹو اور ٹمی جا چکے تھے، اب بس نکو تھی اور اس کی سڑیل ماں۔ نکو کو نہ نظر لگنے کا ڈر تھا اور نہ کسی کے لے جانے کا۔ شکل تو بدصورت تھی ہی مگر خارش نے اس کے پورے وجود کو کھا لیا تھا۔ اس کی بدصورتی کو اس بیماری نے اور بڑھا دیا تھا، مگراس سارے قصے میں وہ بے قصور تھی اور یہ بات صرف اس کی بڑی مالکن سمجھتی تھی جو بھلے اس کو پیار نہیں کرتی تھی مگر جب بھی وہ کھانے کو روٹی ڈالتی تو سب سے پہلے نکو کو آواز دیتی، کالو کو بہت برا لگتا تھا۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ نکو کو مار ڈالے۔ نکو اس محبت میں شریک گئی تھی جو کبھی بلا شرکت غیرے اس کی تھی۔ اس کی محبت میں ہی نہیں، وہ اس کے کھانے میں بھی حصہ دار بن گئی تھی۔ نکو کو روٹی ڈالنے کی دیر ہوتی کہ وہ نکو پر جھپٹ پڑتی۔ اس کی روٹی چھین لیتی۔ نکو ڈر کر پیچھے ہٹ جاتی۔ ماں سے مقابلہ کیسے کرتی بھلا۔ کہاں پانچ ماہ کی بچی نکو اور کہاں عمر رسیدہ کالو۔ مالکن نے اب دونوں کو اکٹھے روٹی ڈالنا شروع کردی کہ دونوں ایک وقت میں کھائیں اور نکو بھوکی نہ رہ جائے مگر اکثر کالو جلدی جلدی اپنی روٹی کھا کر نکو کی روٹی کھا جاتی تھی۔

کالو کے سینے میں دل نہیں تھا مگر دونوں مالکنوں کے دل میں اس کے لئے ہمدردی تھی۔ اب کبھی بڑی اور کبھی چھوٹی مالکن اسے پاس بیٹھ کر کھانا کھلاتی۔ کبھی سادہ روٹی، کبھی چکن کی بوٹیوں اور شوربے میں بھیگی ہوئی روٹی کے لقمے، کبھی ہڈیاں، کبھی نان، کبھی دودھ میں بھیگی ہوئی روٹیاں، کبھی گھی کا پراٹھا، دونوں مزے سے کھاتیں۔ مالکنوں کی موجودگی میں وہ نکو پر جھپٹ نہیں سکتی تھی، اندر ہی اندر کھولتی رہتی۔
اس سرسبز و شاداب علاقے کے کسی کتے کو ایسا کھانا میسر نہ تھا، کئی دفعہ تو وہ سارا سارا دن کھانے کی تلاش میں بائولے ہو کر پھرتے تھے، تب بھی اگر نہ ملتا تو بھوکے سو جاتے تھے۔ ان کی مالکنوں نے ایک رات بھی انہیں بھوکا سونے نہیں دیا تھا، بلکہ کئی دفعہ تو وافر روٹی ڈال دیتی تھیں، جسے کوے، چڑیا، کبھی کبھی آوارہ کتے کھا لیتے، مگر کالو کی غیر موجودگی میں۔ کالو تو اپنی سگی بیٹی کو کھانے نہیں دیتی تھی، دوسروں کو کیسے کھانے دیتی ؟۔

جب کالو ٹہلنے کے لیے ساتھ والے گائوں ابو الخیر چلی جاتی تو وہ مفت کا مال سمجھ کر روٹی کے ان ٹکروں پر ٹوٹ پڑتے، جو اس گھر کی مالکنیں باہر رکھے ہوئے ایک برتن میں ڈالتی تھیں۔ اس کی ماں کالو نکو کو بھی ابوالخیر ساتھ لے جانے کی کوشش کرتی، نکو کو وہاں جانا پسند نہیں تھا، نکو کا دل تو اپنے علاقے میں لگتا تھا، جہاں کبھی اس کا باپ رہتا تھا۔ اس کا باپ یعنی نکو کا باپ جمی اس گھر کا شہزادہ تھا۔ اس نیم ویران جگہ پر حفاظت کے لیے جمی کو مالکن کا چھوٹا بھائی اپنے دوست سے مانگ کر لایا تھا۔ کالے بھورے بالوں والا کتامالکنوں کو اتنا پسند آیا کہ دونوں نے اسے دیکھتے ہی رکھ لیا۔ پتا نہیں اس کا پچھلا نام کیا تھا مگر ان سب نے اس کا نام جمی رکھ دیا، وکی گھی لگی روٹی کھاتا، پیالہ بھر دودھ پیتا اور مزے سے سو رہتا۔

اس کی زندگی میں تبدیلی اس وقت آئی جب ساتھ والے گائوں کی یہ کالی کتیا اس کی محبوبہ بن گئی۔ چھوٹی مالکن کو ان دونوں کا پیار ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ کہاں اتنا گبرو جوان جمی اور کہاں یہ کالی کلوٹی بڈھی کتیا۔ نہ جانے کتنے کتوں کی بیوی رہ چکی تھی۔ کتنے بچوں کو جنم دے چکی تھی؟۔ جمی کے سر پر عشق سوار تھا۔ عشق تو اندھا ہوتا ہے۔ ویسے بھی عشق جب ضرورت کے کندھوں پر سواری کر لیتا ہے، تو پھر اسے سب ہرا ہرا سو جھتا ہے۔ ضرورتوں کی بستی آباد اور پھربرباد کرنے میںکتے اور مرد کی خصلت ایک جیسی کہی جاتی ہے۔ دونوں نر ہی تو ہیں۔ ۔ ایک انسان، دوسرا حیوان۔ ۔

چھوٹی مالکن نے کالو کو جمی سے دور رکھنے کی بہت کوشش کی مگر کب تک۔ ؟جب بھی جمی گھومنے پھرنے جاتا۔ کالو سے سب سے پہلے ملتا۔ کالو اس کی زندگی بن چکی تھی۔ وہ کالو کے قریب اب کسی کتے کو پھٹکنے بھی نہیں دیتا تھا۔ کالو نے بھی آہستہ آہستہ سب کو چھوڑدیا تھا۔ ایک اچھے گھر کا جوان کتا اب اس پر مرتا تھا، اسے کیا ضرورت تھی آوارہ کتوں کو منہ لگانے کی۔ چھوٹی مالکن ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر کڑھتی مگر کچھ کر نہیں پاتی تھی۔ کالو نے اب اپنا پنڈ ابو الخیر اس کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ بس اس کے لئے اب جمی کا دروازہ ہی اس کا گھر تھا۔ جمی اور کالو کی قربت اب زبان زد عام ہوتی جارہی تھی۔

جمی کو ہر وقت باندھ کر بھی نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ اب لوگ باتیں بنانے لگے تھے۔ بدنامی اور رسوائی سے بچنے کے لئے دل پر پتھر رکھ کر جمی کو انہوں نے بھائی کے گھر بھیج دیا۔ وہاں کالو تو نہیں ہو گی نا۔ ۔ جمی جس کی گود میں بیٹھ کر آیا تھا۔ اسی کی گود میں بیٹھ کر چلا گیا۔

کالو نے جمی کو بہت تلاش کیا اور پھر تھک ہار کر مالکن کے گھر کے سامنے والے میدان میں اپنے گھر کے پاس کھڑے ہو کر خوب روئی جسے جمی نے اپنے بچوں کے لئے مٹی کے اس میدان میں اپنے تیز پنجوں سے بنا یا تھا۔ ہاں اس کے بچے، ٹمی، کٹو اور نکو، جنہیں اسے دیکھنا نصیب نہ ہو سکا۔ کالو کو روتے دیکھ کر چھوٹی اور بڑی مالکن کا دل بھر آیا۔ اس دن سے انہوں نے کالو کو پیار سے دیکھنا اور اس کا خیال رکھناشروع کر دیا۔

’’چھوٹی، جب جمی کے بچے ہو جائیں گے نہ تو ہم اپنے جمی کو واپس لے آئیں گے۔ تمہیں یاد ہے کہ جمی کالو کے پہلے خاوند سے بچوں کو کتنا پیار کرتا تھا۔ کیسے ان کے ساتھ کھیلتا تھا۔ کیسے ان کے ساتھ شرارتیں کرتا تھا‘‘۔ بڑی کو جب جمی کے جانے کا افسوس ہوتا تو وہ کوئی حل تلاش کر ہی لیتی۔

بڑی نے چھوٹی کی بات سن کر سر ہلایا اور بولی’ ’بھائی بتا رہا تھا کہ وہاں بھی ایک کتیا کے چھوٹے بچوں کو منہ میں اٹھا کر کبھی گھر کے اندرلے جاتا ہے اور کبھی گھر کے باہر۔ اس کی شرارتوں کو دیکھ کر پورے محلے کے بچے خوش ہوتے ہیں، سب کا دل لگا رکھا ہے اس نے۔ چلو ٹھیک ہے، اب وہ اپنے بچوں سے کھیلے گا، ہم اسے واپس لے آئیں گے‘‘۔

دونوں نے کالو کا بہت زیادہ خیال رکھنا شروع کر دیا۔ آخر کو وہ ان کے جمی کے بچوں کی ماں بننے والی تھی۔ بڑی مالکن کو آ تے دیکھ کر کالو بھاگی بھاگی آتی تو وہ اسے سمجھاتی کہ اب وہ ماں بننے والی ہے۔ اس کے لئے یوں بھاگنا ٹھیک نہیں، مگر اسے تو اپنی مالکن سے عشق تھا۔ مالکن جو اس کے لئے بسکٹ لاتی تھی۔ اس کے لئے تازہ نرم گرم خستہ روٹیاں لاتی تھی۔ اسے پیار سے بلاتی تھی۔ کالو نے جمی کے بنائے گھر میں ہی اس کے بچوں کو جنم دیا۔ بڑی اور چھوٹی بہت خوش تھیں۔

ٹمی اور کٹو بھی داغ مفارقت دے گئے تو بڑی مالکن نے اس کا زیادہ خیال رکھنا شروع کردیا کہ وکی کی نشانی اب بس نکو تھی۔ ہا ں نکوجو اپنی ماں کی دیوانی تھی۔ نکو سائے کی طرح اپنی ماں کے ساتھ ساتھ رہتی۔ اس کے ساتھ ایسے لپٹنے کی کو شش کرتی جیسے بھاگتی دھوپ کو شام کے اندھیرے اپنے دامن میں لپیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں ماں بیٹھتی اس کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتی۔ کالو کو نکو کا اپنے ساتھ یہ والہانہ پیار ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ اس نے تو کئی اولادوں کو جنم دیا تھا۔ اس کے کئی بچے نہ جانے کہاں چلے گئے۔ کئی بھوک کے ہاتھوں مر گئے۔ کئی کو اس نے مار مار کر ادھ موا کردیا۔ یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ اسے نکو کی کیا پروا۔ جمی جیسے کئی کتوں کی اولادیں اس کی کوکھ میں پلی تھیں۔ نکو کی پروا تو انہیں تھی جن کا جمی لاڈلا تھا۔ انہیںنکو میں جمی نظر آتا تھا، نکو بھلے باپ جیسی حسین نہیں تھی مگر اس کی عادتیں باپ پر تھیں، وہی شرارتیں، وہی ہنسی مذاق، وہی اٹکھیلیاں اور چاہے جانے کی تمنا۔

پہلے مالکن کو آتے دیکھ کر کالو آتی تھی۔ اب نکو بھی قلقاریاں مارتی، گرتی پڑتی ہوئی آتی۔ اس سعی میں وہ اپنی ماں سے کم نہیں تھی۔ مالکن کے قدموں میں لوٹتی تو کبھی اپنی ماں سے لپٹ جاتی۔ چھوٹی تھی، ابھی جسم میں تیز تیز بھاگنے کی طاقت نہیں تھی، آتے آتے لڑکھڑا جاتی، مگر ماں سے مقابلہ ضرور کرتی۔ اس کی پھرتیاں دیکھ کرکالو کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ نکو اس کی مالکن کی وارث بنتی جا رہی تھی۔ مالکن کے گیٹ تک پہنچنے تک نکو مالکن اور ماں کی سو سو بلائیں لیتی۔ ماں کامنہ چومتے چومتے وہ نڈھال ہو جاتی، وہ جتنا ماں سے پیار کرتی، وہ اسے اتنا ہی دھتکارتی۔

کبھی کبھی کالو اس سے نظر بچا کر اپنے عاشقوں سے ملنے چلی جاتی تو نکو کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا۔ وہ پاگلوں کی طرح ماں کو تلاش کرنے نکل جاتی۔ اس کی ماں، اس کی کائنات، اس کی تو ہر سانس ماں ماں پکارتی تھی، اس کو ماں کی خوشبو کی پہچان تھی، مٹی سے آنے والی خوشبو اسے بتا دیتی تھی کہ اس کی ماں یہاں سے گزر کر گئی ہے۔ ہوائوں کے لطیف جھونکے اسے ماں کے ہونے کی خبر دے دیتے تھے۔ ماں کو تلاش کرنے کے بعد وہ یوں خوشی سے نہال ہوتی جیسے اقلیم ہفت مل گئے ہوں۔

شام ہوتے ہی دونوں گھر کو لوٹ آتیں، جہاں گرم گرم روٹی کھا کران کی سارے دن کی تھکن اتر جاتی۔
رات کو نکو ماں کے ساتھ گھر کے محاذ پر حفاظت کے لئے کھڑی ہوجاتی اور ساری رات ایک چوکس پہرے دار کی طرح پہرا دیتی۔ نکو کو بس گھر کی حفاظت کی فکر ہوتی اور کالو رات بھر اس روٹی کے بارے میں سو چ سوچ کر پریشان ہوتی، جو اگر کالو نہ ہوتی تو اس کے حصے میں آتی۔

حصہ تو ہر ذی جان کو اتنا ہی ملتا ہے، جتنا اس کے نصیب میں لکھا ہوتا ہے، مگراس بات کو انساں نہیں سمجھا تو کالو تو پھر حیوان تھی۔ اس کے خیال میں نکو اس کے حق پہ ڈاکہ ڈال رہی تھی۔ یہ صرف اس کا گمان تھا ورنہ کالو کو اب بھی اتنی ہی روٹی ملتی تھی، جتنی پہلے ملتی تھی۔ آٹا تو مالکن کا زیادہ لگنے لگاتھا۔ اب ایک کی جگہ دو روٹیاں پکتی تھیں۔ روٹی بھی ڈبل روٹی جتنی موٹی ہوتی تھی۔ پتلی روٹی سے ان کی بھوک کہاں مٹتی تھی، مالکن تو فرشتہ تھی۔ وہ خیر سوچتی تھی اور خیر ہی کرتی تھی، اسی لئے تو ایک عورت ہوکر بھی فرشتوں کی صف میں کھڑی ہو گئی تھی، ورنہ مقام ِ مرداں اور نصیبِ عورتاں۔

ایک دن بڑی مالکن نے نکو کو پکڑا اور خارش دور کرنے کے لئے شیمپو اور ڈیٹول نکو کے اوپر ڈال دیا۔ کالو کو مالکن کا نکو کے لیے اتنا فکر مند ہونا گراں گزرا، وہ ماں ہو کر بھی اپنے بچوں کو بوجھ سمجھتی تھی۔ ہر وقت کے پہرے دار، اس کے شریک۔ اردگرد کی سب کتیائیں اپنے بچوں کو پیار کرتی تھیں۔ جانور بھی مادرانہ اور پدرانہ شفقت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ بس یہ کالو ہی اپنے بچوں کی بیرن تھی۔ پتا نہیں وہ کیسی ماں تھی، اسے نکو کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، مالکوں سے محبت جتا نا، گھر کی حفاظت کا فرض سر انجام دینا، سب برا لگتا تھا۔ اسے تو یہ بھی پسند نہیں تھا کہ نکو اس کی پوجا کیوں کرتی ہے۔ ایک دو دفعہ اس نے نکو کو مارا تومالکنوں نے اسے ڈانٹا، مجبور ہو کر اس نے نکو کو مارنا چھوڑ دیاتھا مگر جب بھی اس کا دائو لگتا، وہ نکو کو دبوچ لیتی اور اس کی درگت بناتی، کبھی راستے میں اور کبھی گھر کے پاس، خا ص کرجب اسے پتا ہو تا کہ بڑی مالکن گھر پر نہیں اور چھوٹی گھر کے کاموں سے تھک ہار کر سورہی ہوگی۔ وہ احتیاطا ً مارتے وقت نکو کو اپنے پنجوں میں دبوچ لیتی تاکہ اس کی آواز باہر نہ نکلنے پائے۔
وہ نکو کے لئے ظالم تھی مگر مالکوں کے لئے وفادار۔ نکو نے ایک جرم نہیں کیا تھا۔ اس نے تو کئی جرم کیے تھے۔ اسکا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ مالکنوں کی توجہ اور محبت کو مرکز بنتی جارہی تھی۔ مالکنیں اب پہلے نکو کو پکارتیں تھیںاور اسے بعد میں۔ اس نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ نکو چھوٹی ہے مگرمالکن کو تو پتا تھاکہ چھوٹوں کو پہلے بلانا اس کے دین میں ا حسن ہے۔

دوائی لگانے سے نکو کے بال اب اگنے لگے تھے۔ وہ شاخ جسے پیدا ہوتے ہی خزاں نے کھا لیاتھا۔ ذ را سی دیکھ بھال سے پھوٹنے لگی۔ نکو جوں جوں ہری بھری ہو رہی تھی، کالو کے عتاب میں اضافہ ہو رہا تھا۔

نکو خوبصورت ہوگئی تو کیا ہوگا۔ ؟مالکنیں اس کا اور خیال رکھیں گی۔ پھر اس کے سارے عاشق بھی نکو سمیٹ لے گی۔ اس علاقے میں کتے زیادہ تھے اور ان کے مقابلے میں کتیائیں کم۔ کالو تو رانی تھی، رنگ بھلے کالا تھا مگر چہرہ معصوم، نخرے ہزار اور ادائیں بے شمار۔

ایک شام بڑی مالکن نے کیک خریدے۔ دونوں کیک شوق سے کھا تی تھیں۔ نکو کیک کھا کر اتنا خوش ہوئی کہ ماں کا منہ چومنے کو لپکی۔ جونہی اس نے ماں کے چہرے کے ساتھ اپنا منہ لگایا۔ کالو نے نکو کو زمین پر لٹا کر اپنے پنجوں میں دبالیا۔ مالکن نے کالو کو بہت ڈانٹا، مگر آج وہ مالکن کی ایک بھی سننے کو تیار نہیں تھی۔
’’بھاڑ میں جائے مالکن، آج اس کلموہی کو نہیں چھوڑوں گی ‘‘، وہ اسے بے دردی سے مار رہی تھی۔

مالکن نے قریب پڑے ہوئے چھوٹے پتھر کو اٹھایا اور کالو کو دے مارا۔ کالو نے گھبر ا کر نکو کو چھوڑ دیا مگر اس کی آنکھیں بول رہی تھیں کہ وہ بدلہ ضرور لے گی۔ آج اس کی وجہ سے اس کی مالکن نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔

اس نے یہ نہیں سوچا کہ نکو اس گھر کے کتے کی بیٹی تھی، اس کی آخری نشانی، مگر مالکن کو تو پتا تھا کہ نکو ہوتی یا اس کی جگہ کوئی اور، تب بھی وہ کالو کو ظلم کا بازار گرم کرنے سے روکتی۔ اس کا دین توجانوروں پر بھی رحم وکرم کا قائل ہے اور وہ اس کوتاہی کو دلیل کی پرتوں میں لپیٹنے والوں کو عذاب سے ڈراتا ہے، جس کا رب کے ماننے والوں کو سامنا کرنا ہے۔ مالکنوں کو اپنے انجام کا خوف تھا۔ کالو میں نہ پیار تھا اور نہ خوف، ہر آنے والے دن میں اس کے ظلم میں اضافہ ہوتا جا رہاتھا۔ نکو تھی کہ پھر بھی ماں کے پیچھے پیچھے رہتی۔ شام ہوتی توماں کے ساتھ ساتھ، جیسے چاند انسان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے، مگر انسان تو چاند کو پیار سے دیکھتا ہے، شائد وہ دور ہے، اس لئے ورنہ ہر وقت کا ساتھ بھی بوجھ لگنے لگتا ہے، بھلے وہ چاند ہو یا کوئی چاند جیسا۔

نکو تو نہ چاند تھی اور نہ چاند جیسی، وہ تو چھ ماہ کی کتیا تھی جو اپنی مالکنوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے موٹی بھی ہوتی جارہی تھی اور خوبصورت بھی۔ اس کے بالوں نے بھی نشوونما پکڑ لی تھی۔ یہی سب تھا جو کالو کو کھٹک رہا تھا۔

مالکنوں نے نکو کو بہت سمجھایا کہ’ ’ وہ ماں سے دور رہے، اس کے ساتھ نہ جایا کرے، اسکو تلاش نہ کیا کرے، اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے‘ ‘۔

مگر نکوتو ماں کے لئے پاگل تھی، اس کی ماں اس کا محبوب، اس کا مرشد اور اس کا پیر تھی۔ بلکہ اس کا خدا، اس کا بھگوان، وہ کیسے چھوڑ دیتی اسے۔ وہ اپنی ماں کی نفرت نہیں سمجھتی تھی۔ وہ اس کی نفرت میں بھی محبت تلاش کرتی تھی کہ شاید اس کی ماں اس سے ناراض ہے۔ مسلسل پیار سے نفرت بھی محبت میں بدل جاتی ہے مگر کالو تو پتھر دل تھی، اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔

ساون کے بعد کی ملاقاتیں رنگ لے آئیں تھیں۔ اب اس کے وجود میں نئے بچے پل رہے تھے۔ اس دنیا میں نئے بچوں کو لانے سے پہلے وہ نکو کو مار دینا چاہتی تھی۔ شائد اس کے اندر ایک خوف تھا کہ نکو اس کے بچوں کو برداشت نہیں کرسکے گی۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ نکو تو اس باپ کی بیٹی تھی جو دوسرے کتوں کے بچوں سے بھی پیار کرتا تھا، ان سے لاڈ کرتا تھا۔

نئے بچوں کو بچانے کے لیے پہلے بچوں کو مار ڈالنے کی ظالمانہ ریت کی امین کالو نے ایک دن پھر نکو کو بہت مارا۔ اس کی پسلیاں زخمی کر ڈالیں۔ چھوٹی مالکن نے دیکھا تو تڑپ اٹھی، اس نے نکو کو اپنے پاس بٹھا کرکالو کو خوب چھڑیاں لگائیں، مگر کالو نہیں سمجھی، لیکن مالکنیں سمجھ چکی تھیں کہ کالو نکو کو مارڈالے گی۔ کالو کو بھیجنا تو مشکل تھا۔ بہتر تھا کہ نکو کو ہی کہیں بھیج دیا جائے، اس کی جان تو بچ جائے گی۔ مالکن نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ چھٹی والے دن نکو کو چھوڑ آئے گی۔

بڑی مالکن نے آج پھر دفتر سے واپسی پر کیک خریدے، ’’کتنا خوش ہوں گی دونوں، گرم گرم روٹیاں، چکن کے ٹکڑے اور کیک، آج تو دونوں کی عید ہو جائے گی‘‘۔

مالکن کو آتے دیکھ کر کالو چھلانگیں مارتی ہوئی آئی۔ نکو پانی کے سیوریج پائپ کے پاس کھڑی تھی۔ مالکن کو دیکھ کر بھی وہ سر جھکائے کھڑی رہی۔ اس کو یوں گم صم دیکھ کر مالکن گھبرا گئی۔ ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ آئے اور نکو اس کو آتے دیکھ کر گھوڑے کی طرح سر پٹ دوڑتی ہوئی نہ آئے۔

مالکن نے نکو کو آواز دی’’نکو، نکو، نکو ‘‘، وہ آہستہ آہستہ لنگڑاتی اور لڑکھڑاتی ہوئی آنے لگی۔
مار کھا کھا کر اس کے ا ندر زخم ہو چکے تھے۔ کئی دن سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا۔ مالکن نے اسے کیک ڈالا۔ اس نے دیکھا تک نہیں۔ اس کے زخموں سے رسنے والا خون اس پر ہونے والے ظلم کی داستاں سنا رہا تھا۔ اس کا جسم اپنے ساتھ بیتی خونچکاں داستاں سنا رہا تھا۔

پھر بھی کسی طرح گرتی پڑتی ہوئی وہ مالکن کے ساتھ ساتھ چلتی گھر تک پہنچ گئی۔ بس اب اس کی منزل آگئی تھی۔ اس نے سر نیچے جھکا لیا، پھر وہ ایک دم نیچے گر پڑی۔ یقینا نکو کو آج کالو نے بہت مارا تھا۔ ماں کے خونی پنجوں نے اس کی کھال کو جگہ جگہ سے ادھیڑ دیا تھا۔ وہ اندر سے بھی زخمی تھی اور باہر سے بھی۔ اس کا وقت آخرت قریب آچکا تھا مگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں کراہی۔ بس خاموش آنکھوں سے اپنی مالکن کو دیکھتی رہی۔ بڑی مالکن نکو کو پیار کرنے لگی۔ اس کے نرم گرم ہاتھوں کا لمس بھی نکو کو زندگی نہ بخش سکا۔ مالکن کے آنسو نکو کے جسم پر اور نکو کے آنسو مٹی پر گر رہے تھے۔ آج مالکن نے اسے چھوا تھا۔ اس کے جسم کو اپنے ہاتھوں سے سہلایا تھا۔ اس کی آنکھوں میں شکر گزاری تھی۔ کاش وہ اپنی مالکن کے قدموں میں لوٹ پوٹ ہو سکتی۔

کالو اطمینان وسکون سے کھا پی کر نکو کے پاس کھڑی ہوچکی تھی۔ اس نے قریب کھڑی ہوئی ماں پر حسرت بھری نگاہ ڈالی۔ کاش آج وہ اسے اپنی بیٹی سمجھ کر ماںکی طرح پیار کرے۔ بس اس کے بعد کچھ اور سوچنے کی ہمت نہیں رہی۔ نکو کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا، اس کی ٹانگیں اوپر کو اٹھ گئیں، اس کا جسم اکڑا اور کڑاکے کے ساتھ بڑی تکلیف سے اس کی روح اس کے ناتواں جسم سے نکل گئی۔ وہ اپنی ماں کے پیار کیلیے ترستی مر گئی۔ ماں نے اس دنیا سے جاتے سمے بھی اسے پیا ر نہیں کیا۔ وہ مار کھا کر بھی اپنی ماں پر جان دیتی رہی اور ماں نے اس جان دار کو بے جان ہوتے وقت بھی اس کی طرف پیار بھری نظروں سے نہیں دیکھا۔

اسے تو اپنے ہی بدن کے ٹکڑے کے مر جانے کا افسوس بھی نہیں تھا، ’’مر گئی، اب میں آزاد ہوں، میں اور میری مالکنیںاور میرا گھر‘‘۔

کالو نے سکون کا سانس لیا اور روٹی کے بچے کھچے ٹکڑوں کوکھانا شروع کردیا جو وہ نکو کی موت کا تماشا دیکھنے کے شوق میں چھوڑ آئی تھی۔

بڑی زارو قطار رونے لگی۔ چھوٹی بھی افسردہ تھی۔ بڑی کے شوہرکو بھی بہت دکھ ہوا۔ بڑی کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی، بس آنسو تھے، نکو کی یادیں۔ نکو کی موت کا منظراس کے ذہن پر نقش ہو گیا تھا۔
’’سنو، اب غم سے کیا حاصل، سو جائو‘‘۔ اس نے بیوی کو گم صم دیکھ کر سمجھایا۔

’’ نکو ہمارے جمی کی نشانی تھی۔ اس کا قصور کیاتھا، بس یہ کہ اسے اپنی ماں سے عشق تھا۔ وہ ہر روز مار کھاتی تھی۔ پھر بھی ماں کے پیچھے لپکتی تھی۔ اس کے پیار کے لئے ترستی تھی۔ وہ بچی سمجھتی نہیں تھی کہ یہ ماں نہیں۔ اپنے ہی بچے کھانے والی ڈائن ہے۔ اس چڑیل نے مار مار کر اسے پاگل کر دیا تھا۔ وہ ہوش وحواس کھوتی جارہی تھی پھر بھی بھاگ کر میرا استقبال کرتی۔ رات بھر پہرا دیتی، قاتل کالو ‘‘۔ بڑی کے الفاظ اس کی ذ ہنی کیفیت بتا رہے تھے۔

’’مگر اس جرم میں تم بھی تو برابر کی شریک ہو، تم نے اسے بچانے کی کوشش کی، اسے ڈنڈوں سے مارتی۔
اسے پتھروں سے مارتی، اب بیٹھ کر ساری رات ماتم کرو اور نو حے پڑھو، میں جا رہا ہوں سونے۔ ‘‘
رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی، بڑی کا سرسوچ سوچ کر گھوم رہاتھا، اس کے دماغ میں آندھیاں
چل رہی تھیں۔

صبح شوہر نے نماز ادا کی، بیوی کو جگانے کے لئے سٹڈی روم کا رخ کیا۔ رات وہی تو اس نے صفِ ماتم بچھا رکھی تھی۔

بڑی کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، بال بکھرے ہوئے تھے، شوہر کو دیکھتے ہی وہ نیم پاگلانہ انداز میں بولی۔

’’ہاں، نکو کی قاتل میں ہوں۔ نکو کو میں نے مارا ہے۔ میں نے ایک چھوٹی سی معصوم جان کو مار ڈالا۔ ہاں میں نے مار ڈالا۔ ‘‘۔

باہر شور وغل برپاتھا۔ کتوں کے لڑنے کی آواز سے چھوٹی کی آنکھ کھل گئی۔ چیخوں کی آواز سن کر اس نے باہر جھانکا، بہت سارے کتوں نے کالو کو گھیر رکھاتھا اور وہ ان سے جان بچانے کی کوشش میں تیز تیز بھاگ رہی تھی۔

Please follow and like us:

Leave a Reply