سُرخی مولوی کی بیوی شوہدی کو سجتی بھی تو بہت ہے۔۔۔۔

Spread the love

گلوبل پِنڈ (محمد نوازطاہر) ایک مولوی صاحب مسجد سے باہر، محفل میں تقریر کرتے رہے تھے کہ خواتین کو میک اپ نہیں کرنا چاہئے نیل پالش نہیں لگانا چاہئے ،سرخی(لپ اسٹک) نہیں لگا نا چاہئے، اس پرجوش تقریر کے دوران ایک صاحب بولے’ ’مولوی جی تہاڈی بڈھی وی تے سرخی لاؤندی اے‘‘(آپ کی بیوی بھی تو لپ اسٹک لگاتی ہے) جس پر مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ’’اوس شوہدی نوں سوہنی وی تے بڑی لگدی اے “(اس نازنین کو سجتی بھی تو بہت ہے) ۔۔۔یہ محض لطیفہ بھی ہوسکتا ہے، حقیقت بھی، وعظ کرنے والے امام کی تضحیک کے لئے گھڑی کہانی بھی ہوسکتی ہے اور معاشرے میں ملا کے کردار کی عکاسی بھی۔

جو بھی ہو، یہ منافقت اور قول و فعل میں تضاد ہے جو ہمیں اپنی ذات سے لیکر ہر اس شخص میں دکھائی دیتا ہے جو پسند نہیں یا جس کی توہین مقصود ہو، اور جو ہمارے میرٹ پر پورا نہ اترتا ہو۔حقائق کے مطابق تو ہم آئینے میں عکس پہچاننے کیلئے تیار نہیں، یہ آئینہ ہماری آنکھیں، تصور اور ہماری بدقسمتی ہے، اسلام کا نام لے کر معاشرے کی تشکیل کا خواب دیکھنے اور پرچار کرنے والے بے عمل’ اسلام کے ٹھیکیدار ‘ہی اسلام کی تعلیم، روح اور منشاء کے خلاف سازشیں کرتے اور انارکی و فساد پھیلاتے ہیں اور مذہب سے بددلی کا باعث بنتے ہیں۔

اسلامی جمہویہ پاکستان کے دستور سے لے کر رائج ملکی قوانین اسلامی شعائر اور احکامات سے متصادم ہیں۔ ملک میں لوٹ مار قیامِ پاکستان کے بعد شروع ہوگئی جس نے بتدریج دن دگنی رات چوگنی’’ ترقی‘‘ کی اور پھر یہ لوٹ مار باقاعدہ شناخت بن گئی، اسی شناخت کی بنیاد پر رشتے ناطے طے ہونے لگے، معلم کے مقابلے میں پٹواری، کسٹم، پولیس، انکم ٹیکس کے محکموں کے ملازمین’ ’باعزت‘‘ بنادیے گئے، پھر ’’ترقی‘‘ کا ایک اور زینہ چڑھ کر ہر وہ شخص اور ملازم’ ’باعزت‘‘ قرارپایا جس کی وجہ شہرت مک مکا میں بہتر’ ’کارکردگی‘‘ بنی۔ کرپشن بڑھتے بڑھتے پورے معاشرے کو لپیٹ میں لے چکی ہے اور وہ معاشرہ جس کی اساس بدعنوانی سے پاک، جس میں قراردیا گیا ہو کہ ’’ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں‘‘ جس میںجزا اور سزا بنیادی تعلیم و تربیت کا خاصہ ہونا چاہئے وہاں ملاوٹ سے پاک نہ اشیائے خورو نوش دستیاب ہوں نہ ملاوت سے پاک ادویات ملنے کایقین ہو وہاں تباہی کے سوا کیا ہوگا؟ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے، تدارک کے ذہ دار ان ہی اس لعنت کا شکار ہوں وہاں جزا اور سزا صرف نعرہ اور ایک طرح سے بلیک میلنگ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

پاک سرزمین پر پچھلی پون صدی میں جس تیزی سے جس تیزی سے کرپشن، ملاوٹ اور لوٹ مار بڑھی ہے، اسی انداز سے احتساب کے نعرے بھی مقبول بنانے کی کوشش کی گئی ہے مگر لوٹ مار اور نعروں میں احتساب دب گیا، جمہوری اور عسکری قیادت نے ہمیشہ احتساب کے نعرے کے ساتھ ’’حکمرانی‘‘ کی اور کرپشن کی کہانیوں کی کہانیاں رقم کیں۔

جمہوریت کا جمہوریت کی مدد سے احتساب کا تاحال خواب ہے ،جمہوری حکمران کہلانے والے کمپرومائزڈ سول آمروں نے احتساب پر انتقام کو ترجیح دی۔ اس کی ابتدا سلاخوں میں ’پناہ گزین ‘ میاں نوازشریف نے احتساب بیورو سے کی، بعد میں اس ادارے کو قومی احتساب بیورو کا نام دیا گیا اور اس کا انداز’ انتقامی‘ ہی رکھا گیا البتہ سیاسی مفاہمت نے اس ’کرفیو‘ میں کچھ ’نرمی ‘ ضرور رکھی۔

اسی احتساب بیورو کے ذریعے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو ’قید‘ ہونا پڑا جبکہ جنہیں ان کے ساتھ جن جن کو بھی قید ہونا چاہئے یا ان کی کرپشن کہانیوں پر ان کا ٹرائل ہونا چاہئے، وہ منتخب و غیر منتخب وزارتوں اور ایوانوں میں رونق افروز ہیں اور روزانہ بھاشن دیتے ہیں، بیوو کریٹس کی شان و شاہان پر کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ من مانی اور اہمیت بڑھی ہے، بس انہوں نے وفاداری تبدیل کی ہے، پہلے جو لوگ بذریعہ حسین مہدی پیپلز پارٹی سے مشرف بہ پیٹریاٹ اور ن لیگ سے مشرف بہ ق لیگ یا متحدہ مجلسِ عمل (مخصوص عناصر) ہوئے تھے، سلطان بنے، وہ اب بھی کسرِ سلطانی کے ہی مکیں ہیں۔ یہ’ باکردار‘ لوگ کسی کی نظر سے اوجھل نہیںہیں۔ ان میں سے زیادہ تر باکردار کچھ عرصے بعد نئی صورتحال میں کسی نئی پکوان میں حسبِ ضرورت اور ’حسبِ ذائقہ‘ شامل ہونگے۔ احتساب نہ ہونے کا ایک بڑا موجب ملک کے عوام ہیں جو کرپشن کہانیاں یوں تو بہت مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں، کرپشن کی مذمت بھی کرتے ہیں اور کہانیوں کے کرداروں کی وکالت بھی کرتے ہیں، یہ سیاسی وابستگی کی ’معراج‘ کا اظہار ہوتا ہے حالانکہ خود ہی کسی کو ٹین پرسنٹ کہتے ہیں اور کسی کو سب سے بڑا چور قراردیتے ہیں، کبھی کوئی بھارتی یار ہوتا ہے تو کبھی کوئی، لیکن احتساب (بھلے انتقامی رنگ ہی غالب ہو) کی میرٹ پر سپورٹ نہیں کی جاتی، موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی جو کچھ اب کہہ رہے ہیں اور جو دعوے ماضی میں کرتے ہیں وہ سب کے سب مولوی کی تقریر اور بیوی کی لپ اسٹک والا لطیفہ ہیں۔

ملک چلانے والوں، فرائض میں’ کرپشن‘ کے مرتکبین کی نشاندہی کے ذمہ داران بھی معاشرے میں ماضی کی دیانتدارانہ ساکھ آلودہ کرچکے ہیں اور بکاؤ مال کی حیثیت سے شناخت بنا چکے ہیں، یہاں تک کہان کے نام سن کر باشعور شہری انہیں ان کے بیانئے،تجزیئے اور پشین گوئیوں کے حوالے دیکر جھوٹے، منافق قراردیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کمیونٹی یں بھی سارے لوگ جانتے ہیں، ز کئی لوگوں کے پاس تو ایسے ثبوت بھی ہیں کہ کس نے کہاں سے دولت اکٹھی کی، کس نے کس طرح کوسی کو بچانے، کور دینے، اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی اور سواشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز بھی وائرل ہوگئیں لیکن پھر بھی وہ باعزت اور باکردار ہونے کے دعویدار ہیں، ان سب سے بڑھ کر ان کا رہن سہن، گاڑیاں بنگلے، فلیٹ، اندرون، بیرون ملک اثاثے ہیں جن کی وہ تفصیل ممکن ہے فراہم کرسکتے ہوںلیکن یہ اچانک دا سے شاہ کیسے ہوگئے ،قسمت کی اس دیوی کا نام اسلئے نہیں بتاسکتے کہ معاشرے میں اس دیوی کی پہچان بددیانتی ہے، جب ان لوگوں کے احتساب کی بات کی جاتی ہے تو صحافت کی آزادی کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں، جیسے سیاستدانوں کی کرپشن بات کرنے سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اور ملک کے اہم و محترم ترین اداروں پاک فوج اور عدلیہ میں شامل کالی بھیروں کے بارے میں بات کی جائے تو تو اس سے ملکی سلامتی اور عدلیہ کا وقار مجروح ہوجاتا ہے جبکہ یہ کالی بھیڑیں اپنے اپنے اداروں میں ہر وقت زیربحث رہتی ہیں اور ان کے کرتوتوں پر ملامت بھی کی جارہی ہوتی ہے۔

حال ہی میں محکمہ پٹرولیم کے سابق وزیر اور نوازشریف کی نااہلی کے بعد ان کی خالی جگہ پُر کرنے والے وزیراعظم (سابق) شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں قدرتی مائع گیس (ایل این جی) منصوبے میں مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ الزام ثابت کرنا ان کی ذمہ داری ہے جنہوں نے گرفتار کیا ہے لیکن اس کرپشن کی کہانیاں محکمہ سوئی گیس، ٹھیکیداروں اور محکمے کی فائلوں میں داستانِ ہیر رانجھا کی طرح ہیں، گرفتار کرنے والوں نے کسی پر الزام کیا ثابت کرنا؟ کیاشرجیل میمن پر ابھی تک کوئی جرم ثابت ہوسکا ہے؟ میڈیا انڈسٹری سے وابستہ کون (خاص طور پر صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے) شخص نہیں جانتا کہ وہاں سرکاری اشتہارات کی چالیس سے ساٹھ فیصد کمیشن پیشگی ادا کرنے کا مطالبہ کیا جاتا تھا اور جہاں سودا ہوتا بات طے کرلی جاتی، کسی چیز کا کب کہاں شہد یا کوئی بے ضرر پاؤڈر بن جانا میرا ایشو نہیں، یہ نئی بات نہیں۔

وہ دن بھی نہیں بھولے جب بہت بڑی اکثریت رکھنے والی مسلم لیگ ن کے منتخب اراکین اسمبلی پنجاب اسمبلی کی عمارت میں اپنی قیادت کی مان مانی، بے اعتنائی، خود غرضی، اور لوٹ مار کی باتیں کرتے ہوئے یہاں تک کہہ جایا کرتے تھے کہ ’یار ہم تواسمبلی کے رکن منتخب ہو کر بھی اپنی قیادت( وزیرعظم، وزیراعلیٰ اور ان کے صاحبزادے ) کے لئے بس دُم ہلانے کی حیثیت ہی رکھتے ہیں، سرکاری افسر لفٹ نہیں کراتے اور ویراعلیٰ کا سیکرٹری بھی کئی کئی روز کی دن رات مشقت کے بعد فون اٹھاتا ہے، لیکن جیسے ہی عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنا دیا، ان سب اراکین کو عزت مل گئی جس پر یہ اراکین عمران خان کے شک گزار بھی دکھائی دیے حالانکہ اسمبلی کے اندر اور میڈیا کے سامنے وہ عمران خان کے بارے میں سخت گیر رویے کا اظہار کرتے تھے، عمران خان کا دھرنا ختم ہوا تو تھوڑیسی تبدیلی کے ساتھ ’دُم ہلانے‘ والی پوزیشن پھر بحال کردی گئی۔ پیپلز پارٹی کے کئی اراکین بھی پہلے محترمہ بی نظیر بھٹو کے دور میں ناہید خان اور رخسانہ بنگش سے شاکی دکھائی دیتے پھر محترمہ کی جگہ آصف علی زرداری نے سنبھالی تو بھی شکایت کنندگان کی تعداد بڑھ گئی ،۔۔۔دیگر جماعتوں کا ذکر ہی الگ ہے۔

اصل مسئلہ نیت اور بد نیتی کا، نیک نیت بھی بد نیت اور لوٹ مار کے ساتھ ساتھ پاک سر زمیں کو کو یہاں کے بے بس عوام کو بے حس بنانے اور بنانے کے لئے دن رات کوشاں مافیا کا ہے، یہ وہ انڈر ورلڈ ہے جو سبھی کے سامنے ہے اور اس سے زچ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے لئے روز بروز تنگ ہوتی زمیں پر کڑہنے مگر ایک قدم آگے نہ بڑھنے والے عوام اور ارباب اختیار کا ہے، ان نیک لوگوں کا بھی بنیادی مسئلہ اور اہم کردار ہے جو باکردار تو ہیں لیکن ان کی خاموشی اور مصلحت انہیں منافق قراردے رہی ہے۔

بس یوں سمجھیں کہ ہر شخص وہی مولوی ہے جو دوسروں کی بیویوں کو سرخی (لپ اسٹک) لگانے سے منع کرتاہے لیکن اس کی اپنی بیوی کو یہ سرخی بہت سجتی ہے بھلے ہونٹ کوڑھ زدہ ہوں۔

Please follow and like us:

Leave a Reply