267

ایک لوٹا پانی(افسانہ)اسلم آزادشمسیؔ

Spread the love

اسلم آزاد شمسی کا شمار میں بھارت کے نامور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ان کا اپنا انداز فکر اور اسلوب ہے ان کے ہاں بہت بڑے بڑے فلسفے کی باتیں نہیں ہوتیں البتہ روزمرہ زندگی سے جڑی عام چیزیں اور واقعات ہی ان کے موضوعات ہیں۔ زیر نظر افسانہ دو دن پہلے موصول ہوا تھا۔ یہ اس سے قبل اردو سٹی نامی ویب سائٹ پر 18 جولائی کی اشاعت میں شامل کیا جا چکا تھا اور پہلے سے شائع شدہ چیزیں ہم شائع نہیں کرتے مگر اس کا موضوع اس قدر اہم تھا کہ آج اس کے لیے خلاف قاعدہ جا کر شائع کیا گیا ہے۔ اس وقت پانی ہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور افسانہ نگار نے اسی جانب ہی توجہ دلائی ہے کہ جہاں پانی مشکل سے دستیاب ہوتا ہے وہاں زندگی کیسی ہے اور ہم شہروں میں پانی کس بےدردی سے ضائع کرتے ہیں صرف صبح برش کرنے کے لیے 20 لیٹر سے زیادہ پانی ضائع کر دیتے ہیں۔ افسانہ نگار کا بھی یہی کہنا ہے کہ پانی کی قدر کریں آنے والی زمانے میں جو جنگیں ہوں گی وہ صرف اور صرف پانی کی وجہ سے ہوں گی

منکو کی آنکھ کھلی تو وہ جلدی سے اٹھا اور لنگی کو کمر میں مضبوطی دیتے ہوئے تیزی سے نیچے اتر آیا، اس نے ماں کو آواز لگاتے ہوئے کہا:
ماں! تم جلدی سے اٹھ کر ہاتھ منہ دھولو میں پانی لیکر ابھی آیا۔ کہتے ہوئے اس نے ایک بالٹی اور تین جار اٹھایا اور تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے ہائی اسکول میدان آ پہنچا جہاں ہر روز کی طرح آج بھی پانی کیلئے لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ یہاں ہر روز برتنوں کی بھیڑ اور لوگوں کا مجمع اکھٹا ہوتا ہے اور یہ مجمع اس وقت تک جمع رہتا ہے جب تک لوگ اپنے لئے چوبیس گھنٹے کا پانی حاصل نہیں کر لیتے کبھی کبھی تو یہا ں مغرب تک میلہ سا لگا رہتا ہے۔

ارے منکو: آج اتنی دیر کیسے؟ تمہارا برتن تو ہمیشہ آگے ہوا کرتا تھا؟

منکو نے عباس کی بات کا بنا کوئی جواب دیئے برتن کو قطار میں رکھا اور جاکر ایک طرف کھڑا ہوگیا، آج وہ بہت پیچھے ہوچکا تھا، منکو من ہی من سوچ رہا تھا کہ پتہ نہیں آج پانی میلگا بھی یا نہیں۔ گھر میں بھی پانی کا ایک چلو نہیں ہے۔ ماں ناشتہ کیسے کریگی؟ اور پھر آج ماں کو نہلانا بھی توہے؟ کئی دن ہوچکے اسے نہلائے ہوئے۔ منکو کے چہرے پر دیر ہوجانے کی بے چینی صاف نظر آرہی تھی گویا کہ وہ دیر تک سونے پر شرمندہ ہورہاتھا نو بج چکے تھے اور دھوپ ابھی سے آگ اگل رہی تھی مانو دھرتی والوں سے کسی کئے کا بدلہ چکتا کر رہاتھا۔ ہر لمحہ اپنی تپش سے لوگوں کو جلا رہاتھا۔

پورے میدان میں محض ایک جامن کا درخت تھا جسکی گھنی چھاوں میں بیٹھ کر لوگ پانی آنے کا باٹ جوہ رہے تھے۔ حمید نے کمر سے بیڑی کا مٹھا نکالا اور ایک بیڑی کو سلگاتے ہوئے کہا: سرکار بھی نا۔ کھالی فالتو کے پیسے خرچ کرتی ہے، اتنے بڑے میدان میں صرف ایک پیڑ، ابھی چار سال قبل میدان کے چاروں طرف چار سو درخت لگوائے پر ابھی ایک نہیں، کیا فائدہ ہوا؟ ایک تو پانی نہیں اوپر سے بیٹھنے کی بھی جگہ نہیں گاؤں میں خراب پڑے چاپاکل ٹھیک نہیں کروا رہے اور بات کر رہے ہیں پانی کیلئے پائپ لائن بچھانے کی۔

سرکار چاول، اندرا آواس، شوچالے اور نہ جانے کیا کیا دے رہی ہے پر پانی کے معاملے میں کچھ نہیں۔ بھلا دو ٹینکر سے اتنی بڑی آبادی کی پیاس بجھتی ہے؟ برتنوں کی لمبی قطار لگ چکی تھی، سخت دھو پ کی وجہ سے لوگ ادھر ادھر منتشر ہونے لگے تھے، کہیں بھی سستانے تک کی جگہ نہ تھی۔ سورج سر پر آگیا تھا پر پانی کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا، منکو کو ماں کی فکر ستا رہی تھی جو پچھلے چھ مہینہ سے بیمار چل رہی تھی۔ بڑی مشکل سے دوچار قدم چلتی تھی۔ منکو کی شادی کچھ دن پہلے طے ہوئی تھی لیکن اچانک ماں کے بیمار پڑجانے کی وجہ سے اس نے شادی نہیں کی۔ اب وہ اپنا زیادہ تر وقت ماں کی دیکھ بھال میں صرف کرتا ہے گاؤ ںمیں سڑک کا کام چل رہاہے اور منکو یہیں مزدوری کر کے ماں کیلئے دوائیاں اور روٹی کا انتظام کر لیتا ہے۔

منکو کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس نے شادی توڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لڑکی والوں کو اس کا یہ فیصلہ کسی قدر منظور نہیں تھا، پنچایت بھی بٹھائی گئی تھی پر منکو کو اسکے گاؤں والوں کا ہر ممکنہ مددملا جس سے وہ اس پریشانی سے بچ نکلا۔ اسکا کہنا تھا کہ شادی کے بعد وہ اپنی بیمار ماں اور بیوی کا خرچ نہیں اٹھا سکتا اسلئے ماں کا علاج کرانے کے بعد ہی شادی کریگا دوپہر کے ایک بج چکے تھے پانی کی گاڑی ابھی تک نہیں آئی تھی لوگ آپس میں بات کر رہے تھے اور ہر معاملے کیلئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرارہے تھے۔، صابر کہہ رہا تھا کہ ہماری پریشانی اور مصیبت سے سرکار کو کوئی فرق نہیں پڑتا جناب! اپنی پریشانی آپ ہی بھگتیں، اور پھر ہم بھی کوئی کم ذمہ دار تھوڑی ہیں اپنی اس حالت کیلئے، سانسد، ودھایک، منتری اور مکھیا کا کیا ہے، وہ تو پہلے پانی کو مشین میں ڈال کر صاف کرتے ہیں اور پھر ٹھنڈا کرتے ہیں سو الگ، انکے بچے تھوڑی مر رہے ہیں پیاسے؟ ان کے لئے پانی کی قلت تھوڑی ہے؟ تو پھر کیوں آئیں گے بھلا ہماری خبر گیری کرنے اتنی چلچلاتی دھوپ میں؟ ہمارے لئے سرکار دو ٹینکر بھیج رہی ہے اور ہمیں اسی میں خوش رہنا ہے بس ……….. منکو خاموش کھڑا سب کی باتیں سن رہاتھا اسے تو بس اپنے بیمار ماں کی چنتا ہورہی تھی ………. وہ گھر جانا چاہتا تھا پر اپنا برتن چھوڑ کر اس لئے بھی نہیں جا رہاتھا کہ اگر اسکی عدم موجودگی میں پانی آگیا تو اس کا برتن خالی رہ جائے گا اور پانی ختم ہوجائے گا۔ منکو چاہ کر بھی کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پا رہاتھا۔ صبح سے بھوکا پیاسا بت بنا کھڑا تھا اب تک اس کے حلق میں پانی کا ایک گھونٹ تلک نہ اترا تھا بھوک اور پیاس کی شدت کے مارے اسکی جان نکلی جارہی تھی۔

تین بج چکے تھے اور لوگ اب بھی پانی کا انتظار کر رہے تھے۔ پرانے جامن کے پیڑ کے نیچے لوگ ایسے ڈیرا ڈالے ہوئے تھے گویا کوئی ہنگامی میٹنگ بلائی گئی ہو۔ کہیں کہیں لوگ اپنی چھتری پھیلائے دھوپ کی تپش سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مولوی بدرالدین صاحب کہہ رہے تھے کہ شولاپور گاوں والوں نے آج تک پانی کی ایسی قلت نہ دیکھی ہوگی۔ خود میری عمر ساٹھ برس ہونے کو آئی اور میں نے آج تک پانی کے لئے ایسا ماراماری نہیں دیکھی ………. لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے اور پانی بچانے کے مختلف طریقوں پر اپنی اپنی رائے دوسروں پر لادنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کہ تبھی پانی سے بھری دوگاڑیاں ہارن بجاتے ہوئے میدان میں داخل ہوئی۔ لوگوں نے تھوڑی راحت کی سانس لی اور پھر سب اپنے اپنے برتن کی طرف دوڑ پڑے۔پانی ملنا شروع ہوگیا۔ لوگ اپنا اپنا اپنا برتن بھر کر الگ ہٹ رہے تھے اور پھر کوئی سائیکل میں ٹانگ کر تو کوئی سر پر اٹھا کر پانی لیکر گھر کی اور جا نے لگے۔

منکو کا نمبر آیا تو اس نے جلدی جلدی اپنے چاروں برتن کو پانی سے لبا لب بھرا اور دو برتن کو بغل میں ڈھک کر رکھتے ہوئے دو برتن لئے تیزی سے گھر کی اور بڑھا۔ اسکو جلدی گھر پہنچنا تھا۔ تیز چلنے کے سبب اسکے برتن سے پانی چھلک رہا تھا پر وہ اسکی پرواہ نہ کرتے ہوئے تیز قدموں سے بڑھا جا رہا تھا۔ گھر پہنچ کر اسنے جلدی سے پانی کا برتن نیچے رکھا اور ماں کو پانی دینے کے لئے لوٹا تلاش کرنے لگا۔ ماں! ماں !ماں لوٹا کہا ںہے؟ گلاس بھی نہیں دکھ رہا کہتے ہوئے وہ ماں کے کمرے میں داخل ہوا تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہورہا تھا منکو کی ماں ہاتھ میں لوٹا لئے چار پائی کے نیچے اوندھے منہ پڑی تھی………….

اپنا تبصرہ بھیجیں