21 جولائی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

356 ق م – معبد آرتمیس افسس میں، سات عجائبات عالم میں سے ایک، آرسن کی آتش زنی کی وجہ سے تباہ ہو گیا۔

1402ء انگورہ (موجودہ انقرہ) کے مقام پر تیموری سلطنت کے بانی امیر تیمور اور سلطنت عثمانیہ کے سلطان بایزید یلدرم کے درمیان میں جنگ ہوئی جو جنگ انقرہ کے نام سے مشہور ہے، تیمور نے فتح حاصل کی

1774ء – سلطنت روس اور سلطنت عثمانیہ کے مابین معاہدۂ کوچک کناری طے پایا۔

1884ء پہلا ٹیسٹ میچ لارڈز میں کھیلا گیا۔

1831ء بیلجئیم کو ہالینڈ سے آزادی حاصل ہوئی۔

1925ء – سکوپ کا مواخذہ: ڈیٹن، ٹینیسی میں، ہائی اس کے استاد جان ٹی سکوپ کو چارلس ڈارون کا نظریۂ ارتقا جماعت کے اندر پڑھانے پر 100 ڈالر جرمانہ کیا گیا۔

1952ء پاکستان آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) کا رکن بنا۔

1954ء – پہلی ہند چین جنگ: جنیوا کانفرنس میں ویت نام کو شمالی ویت نام اور جنوبی ویت نام میں تقسیم کر دیا گیا۔

1965ء پاکستان، ترکی اور ایران نے علاقائی اشتراکی معاہدے پر دستخط کیے۔

1970ء – گیارہ سال تعمیراتی کام کے بعد اسوان بند مصر میں تکمیل کو پہنچا۔

1991ء او جی ڈی سی نے بزدار اور ٹھٹھہ کے علاقوں میں قدرتی گیس کے ذخائر دریافت کیے۔

2003ء لائبریا میں باغیوں اور صدر چارلس ٹیلر کی حامی افواج کے مابین لڑائی میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

1998ء ایران نے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا جس کی حد اسرائیل و عرب تک تھی۔

ولادت

1899ء –ارنسٹ ہیمنگوئے، امریکی ناول نگار، افسانہ نگار اور صحافی، نوبل انعام یافتہ

1923ء – روڈلف اے مارکس، کینیڈی امریکی کیمیا دان، نوبل انعام یافتہ

1926ء – رحیم الدین خان، پاکستانی جنرل و سیاست دان

1957ء – سٹیفن لوون، سویڈنی ٹریڈ یونین رہنما اور سیاست دان، تینتیسویں وزیر اعظم سویڈن

1961ء – امر سنگھ چمکیلا، بھارتی لوک گلوکار

وفات

1967ء – ایلبرٹ لوٹولی، جنوبی افریقی سیاست دان، نوبل انعامیافتہ

2004ء – ایڈوارڈ بی لیوس، امریکی حیاتیات دان، نوبل انعام یافتہ

2016ء – تاموک، کمبوڈیا کا سپاہی اور مونک

2012ء معراج محمد خان، ایک نامور سوشلسٹ، دانشور اور فلسفی تھے۔ انہوں نے پاکستان کی تین سیاسی جماعتیں بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1977 میں پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑنے کے بعد قومی محاذ آزادی بنائی۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے بنیادی پروگرام بنانے میں بھی حصہ لیا۔ وہ ملک میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنے کے حوالے سے بھی جانے جاتے تھے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply