اسلامی مہینوں کے نام کیسے رکھے گئے؟

Spread the love

تحقیق و تدوین: محمد عادل

محرم:
محرم کے لغوی معنی’’حرمت والا‘‘(عزت والا)، ’’حرام کیا گیا ‘‘ اور’’ ممنوع‘‘ کے ہیں۔ اسے ’’حرمت والا‘‘ اس لئے کہتے ہیں کہ اسی ماہ میں حضرت آدم علیہ السلام کے جسم اقدس کو بناکر اس میں روح پھونکی گئی۔ اسی ماہ میں حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تھے اور اسی ماہ میں حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت امام حسینؓ کی شہادت ہوئی۔ ا س کے علاوہ اسے حرمت والا اس لئے بھی کہتے ہیں کہ یہ مہینہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ نے متبرک قرار دیا ہے۔ اس مہینے کو ’’حرام کیا گیا‘‘ یا ’’ممنوع‘‘ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں جنگ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔
صفر:
صفر کے لغوی معنی ’’خالی‘‘ اور ’’زرد‘‘ کے ہیں۔ لفظ صفر ’’صفرا‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ’’زرد رنگ کا مادہ۔‘‘ شروع شروع میں یہ مہینہ موسم خزاں میں آتا تھا جب درختوں کے پتے زرد ہوجاتے تھے اور گرنے لگتے تھے۔ یہ اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔
ربیع الاول:
لفظ ’’ربیع‘‘ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں’’موسم بہار کی پہلی بارش‘‘ اور ’’اول‘‘ کا مطلب بھی’’ پہلا ‘‘ہے۔ اس طرح ربیع الاول کے معنی ہوئے ’’موسم بہار کی پہلی بارش۔‘‘کسی زمانے میں اس ماہ سے موسم بہار شروع ہوجاتا تھا۔ اس لئے اس ماہ کو ربیع الاول کہتے ہیں۔ ربیع موسم بہار کی فصل کو بھی کہتے ہیں۔ یہ اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے۔
ربیع الثانی:
لفظ ربیع کا مطلب تو پہلے بیان کیا جاچکا ہے۔ ’’الثانی‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں’’دو۔‘‘ اس طرح ربیع الثانی کا مطلب ہوا’’موسم بہار کا دوسرا مہینہ‘‘ کیونکہ یہ بہار کا آخری مہینہ ہے۔ اس لئے اسے ربیع الآخر بھی کہتے ہیں۔ یہ اسلامی سال کا چوتھا مہینہ ہے۔
جمادی الاول:
لفظ جماد’’جمود‘‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ٹھوس و سخت، بے جان، بے حس کے ہیں۔ اس کے علاوہ بے آنسو آنکھ کے بھی ہیں۔ ابتداء میں یہ مہینہ چونکہ ایسے موسم میں آتا تھا جب بارش نہ ہونے کی وجہ سے زمین بے جان، سخت اور ٹھوس ہوجاتی تھی اور آسمان بارش نہ برسانے کی وجہ سے ’’بے آنسو آنکھ‘‘ کی مانند ہوجاتا تھا۔ اس لئے اسے خشک سالی کا مہینہ کہتے ہیں۔ یہ اسلامی سال کا پانچواں مہینہ ہے۔

جمادی الثانی:
چونکہ یہ مہینہ جمادی الاول کے بعد آتا ہے۔ اس لئے اسے جمادی الثانی کہتے ہیں۔ یہ خشک سالی کا دوسرا اور آخری مہینہ ہے۔اس لئے اسے جمادی الآخر بھی کہتے ہیں۔ یہ اسلامی سال کا چھٹا مہینہ ہے۔
رجب:
رجب کے لغوی معنی تعظیم، عزت و احترام کے ہیں۔ یہ مہینہ ان چار متبرک مہینوں میں سے ایک ہے جن میں جنگ کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔ عرب اس مہینے میں اپنی خطرناک لڑائیوں کو بھی بند کردیتے تھے اور اس ماہ کا بہت ادب و احترام کرتے تھے۔ اس لئے اس کا نام عزت و تعظیم والا مہینہ رکھا گیا۔ یہ اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ہے۔
شعبان:
شعبان کے لغوی معنی’’علیحدگی‘‘ کے ہیں۔ چونکہ یہ مہینہ بھی چار حرمت والے مہینوں میں شامل ہے۔ اس لئے عرب اس مہینے میں جنگ و جدل اور خون خرابے سے علیحدگی اختیار کرلیتے تھے۔ اس لئے اس کو علیحدگی کا مہینہ یعنی شعبان کہا جاتا ہے۔ یہ اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے۔
رمضان:
رمضان کا لفظ’’رمض‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں’’جلانے والا۔‘‘ چونکہ قدیم ز مانے میں یہ مہینہ موسم گرما میں آتا تھا اور عرب میں موسم گرما کی دھوپ جلانے والی ہوتی تھی۔ اسے اسی مناسبت سے جلانے والا مہینہ یعنی رمضان کہنے لگے۔ یہ اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے۔
شوال:
شوال کا لفظ ’’شائلہ‘‘ سے نکلا ہے اور شائلہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کا دودھ خشک ہوجائے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اکثر اونٹنیوں کا دودھ اٹھ جاتا یعنی خشک ہوجاتا تھا۔اس لئے لوگ اس مہینے کو شوال کہنے لگے۔ یہ اسلامی سال کا دسواں مہینہ ہے۔
ذیقعدہ:
ذیقعدہ کا لفظ ’’قعود‘‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ’’بیٹھنا۔‘‘ یہ مہینہ بھی ان چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن میں جنگ و جدل کو حرام ٹھہرایا گیا ہے۔ عرب لوگ ان مہینوں میں اپنی دشمنیاں ترک کرکے اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ جاتے تھے۔ اس لئے اس مہینے کا نام ذیقعدہ رکھا گیا۔ یہ اسلامی سال کا گیارہواں مہینہ ہے۔
ذوالحجہ:
’’ذو‘‘ کے معنی صاحب یا مالک کے ہیں اور ذوالحج کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت کرنا، یعنی بیت اللہ کا طواف کرنا اور مناسک حج ادا کرنا کے ہیں۔ اس طرح ذوالحجہ کا مطلب ہوا ’’اللہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت کرنے والا مہینہ‘‘اگر’’ ذو‘‘ کا مطلب مالک لیا جاتے تو ذوالحجہ کا مطلب ہوا’’حج کا مالک‘‘ یعنی حج صرف اسی مہینے کی دس تاریخ کو ممکن ہے اور کسی مہینے کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ یہ ہجری سال کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply