112

خرید و فروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط کیا عائد کی پوراملک مخالف ہوگیا ،شبرزیدی

Spread the love

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر) چیئرمین فیڈرل بورڈ ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کا

کہنا ہے ہر شخص کی حقیقی آمدن پر ٹیکس لگانا ضروری ہے اور اگر کسی نے

50 ہزار روپے کی شاپنگ کی ہے تو شناختی کارڈ دکھانا پڑے گا،اسلام آباد میں

پائیدار ترقی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی)کے زیر اہتمام معیشت سے

متعلق سیمینار سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا پاکستان

میں فقیر کے پاس بھی شناختی کارڈ ہے اسلئے شناختی کارڈ دکھانے میں آخر کیا

مسئلہ ہے؟ ٹیکس فری ماحول کے عادی لوگ شناختی کارڈ کی شرط کی مخالفت

کررہے ہیں لیکن معیشت کو دستاویزی بنانے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان ٹیکسز کے معاملے پر بہت کلیئر ہیں ۔ بے نامی اکاؤنٹس

رکھنے والوں کیخلاف بینکوں کو پھر خط لکھا ہے جس میں بے نامی اکاؤنٹ

ہولڈرز کی معلومات طلب کی ہیں۔ ایف بی آر بے نامی بینک اکاؤنٹس یا

ٹرانزیکشن کیخلاف ایکشن لینے کا پابند ہے، بے نامی داروں کیخلاف کریک ڈاؤن

نہیں بلکہ ایکشن لینے جارہے ہیں ۔ بے نامی کا قانون بنا دیا ہے جس پر عمل

کررہے ہیں جبکہ چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای

سی پی) سے ملاقات میں فیصلہ ہوا ہے کہ جو کمپنی ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرے

گی بند ہو جائے گی۔ شناختی کارڈ کی شرط کو ختم کرنے کا مطالبہ نہیں مان

سکتے۔ پاکستان میں سیونگز (بچت) کی شرح میں کمی ہوئی لیکن پاکستانیوں کی

بیرون ملک سیونگز میں کمی نہیں ہوئی۔ گزشتہ 15 روز میں بہت زیادہ دباؤ

برداشت کیا ہے کیونکہ ہر روز 13 یا 14 وفود سے مذاکرات کررہا ہوں اور ہر

کوئی کہہ رہا ہے ٹیکس ختم کر دو۔زکوٰۃ ، صدقہ اور خیرات دینے سے کام نہیں

چلے گا اور اس طرح سے زیادہ دیر تک بیوقوف نہیں بنا سکتے، ہر شخص کو

ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ پاکستان میں ہر کوئی شناختی کارڈ کو این ٹی این قرار

دینے کے حق میں ہے، ہم نے شناختی کارڈ کی چھوٹی سی شرط عائد کی تو پورا

پاکستان مخالف ہوگیا، یہ مائنڈ سیٹ عام آدمی کا نہیں بلکہ ٹیکس فری ماحول میں

رہنے والوں کا ہے۔ شناختی کارڈ کی شرط کیخلاف ہڑتال اور مزاحمت کی جارہی

ہے، امیر کہتے ہیں ہم زکوۃ دیتے ہیں جو کافی ہے لیکن یہ کافی نہیں، ویلتھ ٹیکس

دینا ہوگا۔ پاکستانیوں کو اب ٹیکس کا کلچر اپنانا ہوگا، لاہور میں دکانوں کی یومیہ

سیل ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور ان کا ٹیکس سال میں ایک لاکھ سے کم ہے۔ آسان

طریقہ تھا سیلز ٹیکس 17 سے بڑھا کر 18 فیصد کردیتے لیکن ٹیکس آمدن

بڑھانے کے مشکل کام کو اپنایا گیا،جس سے پوچھو پیسا کہاں سے آیا؟ تو کہتا ہے

انعام نکلا ہے، پوچھیں پیسے کہاں سے آئے تو لوگ کہتے ہیں گفٹ آیا ہے، کہو

گفٹ کس نے دیا ہے؟ تو جواب ملتا ہے جاننے والے نے دیا ہے۔40 ہزار روپے

کے پرائز بانڈز کو ختم کردیا ہے، جس پر ہاتھ ڈالو کہتا ہے میرا پرائز بانڈ نکلا

ہے، میرا تو آج تک انعام نہیں نکلا،شبر زیدی نے عہدے سے ہٹائے جانے کی

خبروں سے متعلق کہا میں اپنے عہدے پر موجود ہوں، کام کررہا ہوں اور

وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے کام کرتا

رہوں گا۔ پاکستان سیمی مینوفیکچرنگ سے ٹریڈ نگ ملک بن چکا ،ہم چاکلیٹ

،منرل واٹر اور جوتوں سمیت ہر چیز درآمد کررہے ہیں ،یہ انتہائی خطرناک بات

ہے اسطرح تو کوئی ملک بھی نہیں چل سکتا۔ گزشتہ برس پاکستان کی درآمدات

51 ارب ڈالرز رہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات محض 21 ارب ڈالرز تک تھیں۔

درآمدات اور برآمدات کے فرق کو کم کرکے برآمد ات بڑھانا ہونگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں