آج مہدی حسن کا 92 واں یوم پیدائش ہے

Spread the love
Image result for ‫مہدی حسن‬‎

لاہور(صرف اردو ڈاٹ کام) مہدی حسن خان دنیائے موسیقی کیں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ان کے گارئے ہوئے نغمے آج تک ہر گلوکار گا کر اپنی شان بڑھانے کو خاص اہم سمجھتا ہے۔

مہدی حسن 1927ء میں راجستھان کے ایک گاؤںلُونا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور چچا دُھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔ خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔

1947ء میں بیس سالہ مہدی حسن اہلِ خانہ کے ساتھ نقلِ وطن کر کے پاکستان آ گئے اور پنجاب کے ایک شہر چیچہ وطنی میں محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔

انھوں نے مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر میکینک اور اس کے بعد ٹریکٹر کے میکینک بن گئے، لیکن رہینِ ستم ہائے روزگار رہنے کے باوجود وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ہر حال میں اپنا ریاض جاری رکھا

انہوں نے موسیقی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور اپنے چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کی، جو کلاسیکل موسیقار تھے۔ مہدی حسن نے کلاسیکی موسیقی میں اپنے آپ کو متعارف کروایا، جب آٹھ سال کے تھے۔ اور پچپن سے ہی گلوکاری کے اسرار و رموُز سے آشنا ہیں مگر اس سفر کا باقاعدہ آغاز 1952ء میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا اس وقت سے لیکرآج تک وہ پچیس ہزار سے زیادہ فلمی غیر فلمی گیت اور غزلیں گا چکے ہیں۔ گویا سرُ کے سفر کی داستان کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ فلم کے لیے مہدی حسن نے جو پہلا گیت ریکارڈ کروایا وہ کراچی میں پاکستانی فلم ’’ شکار‘‘ کے لیے تھا۔ شاعر یزدانی جالندھری کے لکھے اس گیت کی دُھن موسیقار اصغر علی، محمد حسین نے ترتیب دی تھی۔ گیت کے بول تھے: ’’ نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچا نہ ہو جائے‘‘۔ اسی فلم کے لیے انہوں نے یزدانی جالندھری کا لکھا ایک اور گیت ’’میرے خیال و خواب کی دنیا لیے ہوئے۔ پھر آگیا کوئی رخِ زیبا لیے ہوئے‘‘ بھی گایا تھا۔

سنہ انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ان کا شمار عوام کے پسندیدہ ترین فلمی گلوکاروں میں ہوتا تھا۔ اور سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لیکر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پر لب ہلائے۔ سنجیدہ حلقوں میں اُن کی حیثیت ایک غزل گائیک کے طور پر مستحکم رہی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے برِصغیر کے ملکوں کا کئی بار دورہ کیا۔

خان صاحب مہدی حسن نے کل 441 فلموں کے لیے گانے گائے اور گیتوں کی تعداد 626 ہے۔ فلموں میں سے اردو فلموں کی تعداد 366 جن میں 541 گیت گائے۔ جب کہ 74 پنجابی فلموں میں 82 گیت گائے۔ انہوں نے 1962 سے 1989 تک 28 تک مسلسل فلموں کے لیے گائیکی کی تھی ۔

فلمی گیتوں میں ان کے سو سے زیادہ گانے اداکار محمد علی پر فلمائے گئے۔ اس کے علاوہ مہدی حسن خان صاحب ایک فلم شریک حیات 1968 میں پردہ سیمیں پر بھی نظر آئے ۔

1956 میں ایک طویل جدو جہد کے بعد مہدی حسن کو فلمی گلوکار بننے کا موقع ملا۔ اس کے لیے انہيں کراچی جانا پڑا تھا جہاں ان کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر کراچی ریڈیو سے بہ طور موسیقار منسلک تھے۔ اور انہی کی سفارش پر انہیں ریڈیو پر غزلیں گانے کا موقع ملا تھا۔ ان کی پہلی غزل جو ریڈیو پر مشہور ہوئی وہ کلاسک شاعر میر تقی میر کی مشہور زمانہ غزل تھی۔ ~ دیکھ تو دل کہ جان سے اٹھتا ہے

اعزازات

بھارت میں اُن کے احترام کا جو عالم تھا وہ لتا منگیشکر کے اس خراجِ تحسین سے ظاہر ہوا کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں۔ نیپال کے شاہ بریندرا اُن کے احترام میں اُٹھ کے کھڑے ہوجاتے تھے اور فخر سے بتاتے تھے کہ انھیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد ہیں۔

حکومت پاکستان ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ امتیازاور تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نواز چکی ہے۔ 1979 میں مہدی حسن کو بھارتی سرکار نے اپنے ہاں کا ایک بڑا ’’کے ایل سہگل ایوراڈ‘‘ دیا ۔ ان کے انتقال کے بعد انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس کے ایک عہدیدار نے اعلان کیا کہ “اگلے ماہ راجستھان کے ان کے آبائی گاؤں میں ان کا کانسی کا مجسمہ نصب کیا جائے گا اور ایک سڑک بھی ان کے نام سے منسوب کی جائے گی۔”

مہدی حسن کو بے شمار ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ چند اعزازات کا ذکر درج ذیل ہے:

سال 1964۔۔۔۔۔۔۔ فلم فرنگی ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ
سال 1968۔۔۔۔۔۔۔ فلم صاعقہ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ
سال 1969۔۔۔۔۔۔۔ فلم زرقا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ
سال 1972۔۔۔۔۔۔۔ فلم میری زندگی ہے نغمہ۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ
سال 1973۔۔۔۔۔۔۔ فلم نیا راستہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ
سال 1974۔۔۔۔۔۔۔ فلم شرافت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ
سال 1975۔۔۔۔۔۔۔ فلم زینت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ
سال 1976۔۔۔۔۔۔۔ فلم شبانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ
سال 1977۔۔۔۔۔۔۔ فلم آئینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ
جنرل ایوب خان نے انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا۔ سال 1979 میں جالندھر (انڈیا) میں سیگل ایوارڈ حاصل کیا۔ سال 1983میں نیپال میں گورکھا دکشینا باہو ایوارڈ حاصل کیا۔ سال 1985 میں جنرل ضیاءالحق نے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ جنرل پرویز مشرف نے ہلال امتیاز سے نوازا۔ مہدی حسن کو پاکستان ٹیلی وژن کراچی سینٹر نے جولائی 2001 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا۔

پاکستان کے صدر ایوب، صدر ضیاءالحق اور صدر پرویز مشرف بھی اُن کے مداح تھے اور انھیں اعلیٰ ترین سِول اعزازات سے نواز چُکے تھے، لیکن مہدی حسن کے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ بے پناہ مقبولیت اور محبت تھی جو انھیں عوام کے دربار سے ملی۔ پاک و ہند سے باہر بھی جہاں جہاں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ آباد ہیں، مہدی حسن کی پزیرائی ہوتی رہی اور سن اسّی کی دہائی میں انھوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور امریکا کے دوروں میں گزارا۔

اُن کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اُستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے اُن کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا
کافی عرصہ علالت میں گزارنے کے بعد بالآخر 13 جون 2012ء کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔

آج مہدی حسن کا 92 واں یوم پیدائش ہے” ایک تبصرہ


Notice: Undefined variable: aria_req in /backup/wwwsirfu/public_html/wp-content/themes/upress/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /backup/wwwsirfu/public_html/wp-content/themes/upress/comments.php on line 89

Leave a Reply