عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی واضح جیت ہوئی : میجر جنرل آصف غفور

Spread the love

کلبھوشن یادیو نیوی کمانڈر ہے ، عدالت نے اسے تسلیم کیا۔ ہم نے کہا وہ دہشتگرد ہے، ہمارا یہ موقف بھی درست ثابت ہوا

ہمارے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں ، اسی لیے ہمیں امید تھی کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا ردعمل

راولپنڈی(مانیٹرنگ،رپورٹر،ایجنسیاں)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے ایک شاندار فیصلہ دیا ہے جس میں پاکستان کی واضح جیت ہوئی ہے۔ کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سب سے پہلے اللہ کا شکر ہے کہ اس نے پاکستان کو ایک ملک کے طور پر سرخرو کیا ہے، اس کامیابی پر پاکستانی قوم عدلیہ کا سسٹم، اٹارنی جنرل اور ان کے وکلا کی ٹیم اور دفتر خارجہ سمیت سب خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی عدالت میں انڈیا نے 5 مطالبات کیے تھے جو مسترد کردیے گئے۔

انڈیا نے مطالبہ کیا کہ ملٹری کورٹ کی سزا کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جائے جسے مسترد کردیا گیا۔ انڈیا کے مطالبے ملٹری کورٹ کی سزا کو ختم کیا جائے کو بھی رد کردیا گیا۔ کلبھوشن کو رہا کیا جائے اور اس کو انڈیا بھیجا جائے پر بھی عالمی عدالت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ انڈیا کے مطالبے اگر کلبھوشن کو رہا نہیں کیا جاتا تو ملٹری کورٹ کی سزا کو ختم کرکے سول کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے پر عالمی عدالت نے اسے رہا نہیں کیا اور نہ ہی ملٹری کورٹ کے فیصلے کو ختم کیا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم نے عالمی عدالت میں کہا کہ کلبھوشن یادیو نیوی کمانڈر ہے ، عدالت نے اسے تسلیم کیا۔ ہم نے کہا وہ دہشتگرد ہے، ہمارا یہ موقف بھی درست ثابت ہوا۔ عالمی عدالت میں ہمارے کلبھوشن کے پاسپورٹ کے حوالے سے موقف کو بھی تسلیم کیا گیا اور پاکستان کی ملٹری کورٹ کی جانب سے دی جانے والی سزا کو بھی قانون کے مطابق قرار دیا ہے۔ یہ بہت ہی شاندار فیصلہ ہے عالمی عدالت نے اس کیس کے ساتھ انصاف کیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ پاکستان کی عدلیہ اور پاکستان کی فتح ہے کیونکہ عالمی عدالت نے کلبھوشن کے کیس میں کہا ہے کہ پاکستان اس کو جس طریقے سے بھی چاہتا ہے اس کو دیکھے۔جب بھی کسی ملزم کو عدالت موت کی سزا دیتی ہے تو اس پر نظر ثانی اسی سسٹم کے اندر ہوتا رہتا ہے۔کیا پاکستان کو ایسا ہی فیصلہ آنے کی امید تھی؟ اس سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب عدالت میں کیس گیا ہوتا ہے تو دونوں پارٹیوں نے سوچا ہوتا ہے کہ کیا کیا ہوسکتا ہے۔ فریقین بہتر سے بہترین اور برے سے برے پہلوں پر غور کر رہے ہوتے ہیں۔

کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان پراعتماد تھا کہ ہمارے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، اسی لیے ہمیں امید تھی کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔

پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی کے اختلافی نوٹ پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہوں نے تکنیکی بنیادوں پر یہ نوٹ لکھا ہے اور انہوں نے آئی سی جے کے دائرہ کار پر اپنا موقف دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی جیت ہوئی ہے، پاکستان بہت ہی تھوڑے عرصے میں عالمی عدالت گیا، ہم وہاں گئے اور عالمی قوانین کی پابندی کی جس کا ہمیں فائدہ ہوا کیونکہ اگر ہم وہاں نہ جاتے تو یہ کیس آج بھی متنازعہ ہوتا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply