119

8لاکھ فحش ویب سائٹس بلاک ،چیئرمین پی ٹی اے

Spread the love

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین نے

انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں پورنوگرافی میٹریل بننے کے حوالے سے شواہد

نہیں ملے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس روبینہ خالد

کی زیر صدارت ہوا جس میں چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی عامر

عظیم باجوہ نے بریفنگ دی۔چیئرمین پی ٹی اے نے ا نکشاف کیا کہ پاکستان میں

پورنوگرافی میٹریل بننے کے حوالے سے شواہد نہیں ملے، وزیراعظم نے بھی

پورنوگرافی کے حوالے سے پی ٹی اے سے بریفنگ لی ہے، چائلڈ پورنوگرافی

میں پی ٹی اے کاکردار مواد بلاک کرنے کی حد تک ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے

کمیٹی کو بتایا کہ انٹرپول کے ساتھ پورنوگرافی کے حوالے سے ڈیٹا شیئر دیتے

اور لیتے ہیں۔چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب تک پورنوگرافی کی 8 لاکھ

ویب سائٹس بلاک کی گئی ہیں جن میں چائلڈ پورنوگرافی کی 2384 ویب سائٹس

بلاک شامل ہیں، اس کے علاوہ 11 ہزار پراکسی ویب سائٹس کو بھی بلاک کردیا

ہے۔عامر عظیم نے مزید بتایا کہ گوگل سے پورنو گرافی ٹرینڈ کی تفصیلات مانگی

تھیں، گوگل رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پورنوگرافی ویب سائٹس کی جانب

رجحان کم ہوا ہے، اجلاس کے دوران چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا

کہ میری بھی ایک شکایت ہے،سوشل میڈیا پر ایک جعلی خبر چلائی جا رہی ہے

کہ میرے گھر سے 14 من سونا بر آمد ہوا ہے ،یہ جعلی خبر سوشل میڈیا پر

پھیلائی جارہی ہے، چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ ہمارے پاس جعلی خبروں کی

شکایات آتی ہیں ،ہم فیس بک اور ٹویٹر کو تو بلاک کر سکتے ہیں لیکن کسی کا

انفرادی اکائونٹ بلاک نہیں کر سکتے ،رکن کمیٹی رحمان ملک نے کہا کہ یہ

چیئرپرسن کمیٹی کے ساتھ ہوا ہے یہ عمران خان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور

دیگر لوگوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے،یہ سیاسی مہم لگتی ہے،سینیٹر کلثوم پروین

نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کی بے عزتی نہیں سارے پارلیمنٹیرینز کی بے

عزتی ہے،اس کی رپورٹ ایک ہفتے میں دی جائے،وفاقی وزیر برائے انفارمیشن

ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ تو پورے معاشرے کا معاملہ ہے ،ہم

سب کو مل کر کام کرنا ہے ،چیئرپرسن کمیٹی نے معاملے پر ذیلی کمیٹی بنا دی ۔



اپنا تبصرہ بھیجیں