17 جولائی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1821ء اسپین نے فلوریڈا امریکہ کے حوالے کیا۔

1973ء افغانستان میں فوجی بغاوت حکمران محمد ظاہر شاہ ملک بدر ہو گئے

1974ء لندن ٹاور میں بم دھماکا 1 ہلاک اور 14 زخمی

1976ء 25 افریقی ممالک نے اولمپک کا بائیکاٹ کیا۔ اس کے باوجود یہ 21 ویں اولمپک مونٹریال میں شروع ہوئے۔

1979ء بائیں بازو کی طاقتوں نے سموز و خاندان سے نکارا گوا کا آمرانہ اقتدار 46 سال بعد چھین لیا

1990ء پی ٹی وی کے چینل ٹو نے اپنی نشریات کا آغاز کیا

2000ء بشار الاسد اپنے والد کے وفات کے بعد شام کے 16ویں حکمران بنے

2005ء پاکستان سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیر ستان میں سترہ مشتبہ غیر ملکی دہشت گرد ہلاک کیے

2014ء کو ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 17 ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جاتے ہوئے روسی سرحد میں داخل ہونے سے قبل گر کر تباہ ہو گئی تھی۔ اس پر سوار تمام 283 مسافر اور عملے کے 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ولادت

1487ء شہنشاہ ایران، صفوی خاندان کا بانی۔ 1502ء میں تخت نشین ہوا۔ عربوں کے اقتدار کے بعد پہلی بار ایران آزادانہ حیثیت دی اور شیعیت کو ملکی مذہب قرار دیا۔ ترکی زبان کا صاحب دیوان شاعر بھی تھا، خطائی تخلص رکھتا تھا۔

1874ء ایلس موڈ سورابجی پینل ایک ہندوستانی طبیبہ اور مصنفہ تھی۔ وہ مسیحی مشنریوں کی بیٹی اور بیوی تھی اور بیچلر آف سائنس کی سند حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون تھی۔ ایلس موڈ سورابجی بلگام میں پیدا ہوئی اور وہ فرانسینا سورابجی اور سورابجی کھرسیڈجی کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔ اس کی والدہ ماہر تعلیم اور ہندومت چھوڑ کر مسیحی ہوئی تھی اس کے والد پارسی مسیحی مشنری تھے۔ اس کی بہنیں کورنیلیا سورابجی وکیل اور سوسی سورابجی ماہر تعلیم تھیں۔ ایلس سورابجی نے پونہ میں واقع اپنے خاندان کے وکٹوریا ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی اور بمبئی میں واقع ولسن کالج سے بی ایس سی کا امتحان پاس کیا، وہ ہندوستان میں یہ سند حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھی۔ اپنی بڑی بہن کورنیلیا کی حوصلہ افزائی اور کوششوں سے اس نے لندن میں طبیبہ کی تربیت حاصل کی، اس نے تعلیم سنہ 1905ء میں مکمل کی تھی

1914ء طفیل ہوشیارپوری پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو پنجابی زبانکے ممتاز شاعر، فلمی نغمہ نگار اور صحافی تھے۔ طفیل ہوشیارپوری 17 جولائی، 1914ء کو ہوشیارپور، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ہوشیاپور کے اسکول سے بطور استاد ملازمت کی ابتدا کی۔ تحریک پاکستان متحرک کارکن تھے اور تحریک پاکستان کے اجتماعات میں شاعری پڑھتے تھے۔ اسی پاداش میں اسکول کی ملازمت سے نکال دیے گئے۔ مشہور اداکار آغا سلیم رضا نے انہیں فلمی پروڈیوسروں سے متعارف کریا۔ انہوں نے 1946ء میں فلمی نغمہ نگاری کی ابتدا کی۔ تقسیم ہند کے بعد ہوشیارپور سے لاہور منتقل ہو گئے اور صحافت کو ذریعۂ روزگار بنایا۔ لاہور سے روزنامہ محفل اور ہفت روزہ صاف گو نکالا۔ 1952ء میں ریڈیو پاکستان میں ملازمت اختیار کی۔ 1950ء کی دہائی میں ان کا فلمی نغمہ نگاری کے حوالے سے مصروف ترین وقت گزارا۔ انہوں نے جن فلموں کے نغمات تحریر ان میں ریحانہ، چپکے چپکے، پرائے بس میں، گلنار، شمی، دلا بھٹی، بے قرار، چن ماہی، پتن، سرفروش، چنگیز خان، موسیقار، شہری بابو، روحی، وعدہ اور قسمت شامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں ‘رحمت یزداں’ (نعتیہ کلام)، ‘تجدید شکوہ’، ‘شعلہ جام’، ‘ساغر خورشید’، ‘جام مہتاب’ اور ‘میرے محبوب وطن’ شامل ہیں

1939ء آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای 17 جولائی 1939ء کو ایران کے اہم مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے اور موجودہ رہبر معظم (سپریم لیڈر) ہیں۔ اس سے پہلے وہ ایران کے وزیرِ دفاع اور صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ان سے قبل روح اللہ خمینی ایران کے سپریم لیڈر رہ چکے ہیں۔ روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد آیت اللہ خامنہ ای 4 جون 1989ء کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔

1954ء انجیلا میرکل، جرمن خاتون سیاست دان و سائنس دان ہیں جو تین دفعہ ملک کی چانسلر رہ چکی ہیں۔ ان کی ذاتی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) نے 2017ء کے انتخابات جیتے تھے جس کے بعد وہ چوتھی مرتبہ پھر سے چانسلر منتخب ہو گئیں۔

1971ء محمد مدثر بھٹی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اخبار نویس، محقق، مورخ ترجمہ نگار ہیں۔17 جولائی 1971 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ تعلیم گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول موہنی روڈ سے میٹرک کیا پھر یہ سفر ایم اے او کالج سے ہوتا ہوا پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ فارسی میں جا کر اختتام پذیر ہوا، وہ عربی فارسی انگریزی، پنجابی اور ہندی زبان بھی پڑھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں افسانے لکھے اور کچھ مختصر شاعری بھی کی۔ ان کا شمار اردو زبان پر عبور رکھنے والے لوگوں میں ہوتاہے۔ آج کل اردو املا کے موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ روزنامہ جنگ، روزنامہ پاکستان اور دن میں ترجمہ نگاری سمیت متعدد کلیدی عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ روزنامہ پاکستان میں ’’ریمانڈ‘‘ کے عنوان سے طنزیہ اور سنجیدہ کالم لکھتے ہیں۔ 2018ء انہوں نے تاریخ فرشتہ کا ترجمہ کیا جو اس وقت ان کا سب سے بڑا کام ہے۔ یہ کتاب گذشتہ سو سال سے نامکمل شائع ہو رہی تھی انہوں نے اس کو 4 سال سے زائد عرصہ کے بعد 12 مقالوں کے ساتھ مکمل کیا اس کے متن کو آسان اور عام فہم زبان دی اور تاریخ پیدائش کے قطعات کی پڑتال کی اور جہاں کہیں غلطی پائی گئی اس کی نشاندھی کی۔ اس کے علاوہ فارسی کے اشعار بھی درست کئے۔ مورخ قاسم فرشتہ کے بیان کردہ ماخذات کی بھی پڑتال کی اور اصل ماخذات میں فرق کی نشاندھی بھی کی۔ دنیا بھر میں اہل علم نے ان کی کاوش کی بہت سراہا۔

وفات

1790ء ایڈم اسمتھ، برطانوی ماہر معاشیات اور فلسفی

1989ء ـ عاشق حسین بٹالوی (پاکستان کے مورخ، افسانہ نگار ) بمقام لندن

2004ء فلم اور اسٹیج کے مزاحیہ فنکار البیلا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے

تعطیلات و تہوار

سلوواکیہ کا یوم آزادی

جنوبی کوریا کا یوم آئین

عالمی یوم انصاف

Please follow and like us:

Leave a Reply