134

زلزلہ زدگان کیلئے امدادی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے شہبازشریف خاندان کے اکاونٹ میں منتقل: ڈیلی میل کا دعویٰ

Spread the love

عمران خان اورشہزاد اکبر کیخلاف بھی دعویٰ کرینگے،اپوزیشن لیڈر،خبر کیلئے صحافی کی عمران سے ملاقات کرائی گئی ، مریم اورنگزیب،رقم سکولوں کی تعمیر اور آڈٹ کے بعد دی گئی ، ،ڈی ایف آئی ڈی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) شہبازشریف کیخلاف ایک اور سکینڈل سامنے آ گیا۔ برطانوی اخبار نے شہباز شریف خاندان پر پاکستانی زلزلہ متاثرین کیلئے دی گئی برطانوی امداد میں خوردبرد کا الزام عائدکر دیا جس کے مطابق لاکھوں پاؤنڈ منی لانڈرنگ کے ذریعے پہلے برمنگھم اور پھر شریف خاندان کے اکاؤنٹ میں منتقل کئے گئے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے ایک مضمون میں دعویٰ کیا ہے، برطانیہ نے پنجاب کیلئے 50 کروڑ پاؤنڈز کی امداد دی، جو بعد ازاں شریف خاندان کے اکاونٹ میں منتقل کر دی گئی۔

شہری آفتاب محمود نے مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ مذکورہ الزام پر برطانیہ نے شہبازشریف دور میں امداد کی تحقیقات کا فیصلہ کر لیاجبکہ بی بی سی کا کہنا ہے کہ ڈیلی میل کی خبر میں موجودہ حکومتِ پاکستان کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں بتایا گیا کہ مسلم لیگ نواز کے رہنما شہباز شریف نے برطانوی امداد میں سے پیسے چرا کر برطانیہ میں شریف خاندان کے اکاؤنٹ میں بھیجے۔ تاہم ڈی ایف آئی ڈی اور مسلم لیگ نواز دونوں نے اس خبر کی تردید کی ہے۔ خبر میں زلزلے کے بعد بحالی و تعمیر نو کے لیے ایرا نامی پاکستانی ادارے میں کرپشن کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں تحریکِ انصاف حکومت کی ایک خفیہ تحقیقاتی رپورٹ کے دعوے میں کہا گیا کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت کے دوران شہبار شریف کے داماد نے زلزلہ متاثرین کی امداد میں سے دس لاکھ پونڈ حاصل کئے۔ رپورٹ کے مطابق ایرا کے سابق ڈائریکٹر فائنانس اکرام نوید نے گذشتہ نومبر اپنا جرم قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے برطانیہ سے زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے 15 لاکھ پاؤنڈ وصول کیے جس میں سے 10 لاکھ پاؤنڈ شہباز شریف کے داماد علی عمران کو دیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق یہ رقم پہلے برمنگھم بھجوائی گئی اور اس کے بعد اسے شریف خاندان کے اکاؤنٹس میں ڈالا گیا۔ رپورٹ میں وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا بیان بھی شامل کیا گیا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا ‘ہماری تحقیقاتی ٹیم نے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کے شواہد اکھٹے کر لیے ہیں۔ منی لانڈرنگ زیادہ تر برطانیہ میں کی گئی۔’

ڈیلی میل کی خبر میں وضاحت کرتے ہوئے شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے اسے عمران خان کی سرپرستی میں ہونے والا سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے اپنے خاندان پر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد موجود نہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیلی میل کی خبر میں کہا گیا ہے کہ سال 2003 میں شریف خاندان کے پاس صرف ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ تھے جبکہ سنہ 2018 میں ان کے اثاثے بڑھ کر 20 کروڑ پاؤنڈ ہو گئے پاکستان کے تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک جانب عالمی ترقیاتی منصوبوں کے لیے امداد دینے والا برطانوی محکمہ DFID سابق وزیراعلیٰ پنجاب پر امدادی رقم کی بارش کرتا رہا تو دوسری جانب ان کا خاندان عوامی فنڈ کے ملین پاونڈز منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کرتے رہے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کی جانیوالی رقم میں DFID سے لی گئی امداد کا حصہ شامل ہے۔ دوسری طرف حکومت برطانیہ نے شریف خاندان کی جانب سے زلزلہ زدگان کی رقم چوری کرنے سے متعلق ڈیلی میل کی خبر کی تردید کر دی۔ حکومت برطانیہ کی جانب سے بھی اس حوالے سے وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے جس میں ڈیلی میل کی خبر کی تردید کی گئی ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلمپنٹ (ڈی ایف آئی ڈی) کے ترجمان کا بیان جاری کیا گیا ہے۔ڈی ایف آئی ڈی کے مطابق ڈیلی میل نے اپنی اسٹوری کو سچ ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت ثبوت پیش نہیںکیے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 2005 کے زلزلے کے بعد برطانیہ کی جانب سے حکومت پنجاب کے ارتھ کوئیک ریلیف اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی (ایرا) کو اسکولوں کی تعمیر کے لیے امداد دی گئی جو تعمیر ہوئے اور جن کا آڈٹ بھی کیا گیا۔ ڈی ایف آئی ڈی کے ترجمان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ برطانوی ٹیکس دہندگان کا پیسہ بالکل ٹھیک جگہ پر خرچ ہوا اور اس امدادی رقم کے ذریعے زلزلہ متاثرین کی مدد کی گئی، ہم پراعتماد ہیں کہ برطانوی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو فراڈ سے محفوظ رکھا گیا۔

ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ خبر میں ان کا موقف آخر میں دیا گیا جس میں انھوں نے کہا ‘زلزلہ متاثرین کے لیے برطانیہ کی مالی امداد نتائج پر منحصر ہے۔ اس سے مراد ہے کہ پیسے صرف اسی صورت میں ادا کیے جاتے ہیں کہ جب مکمل کام کا جائزہ اور آڈٹ ہو جائے۔ ‘ان کے مطابق ‘امداد سے زلزلہ متاثرین کی مدد ہوئی’ اور ‘ہمارے مضبوط نظام نے برطانوی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو محفوظ رکھا۔

‘ادارے کے مطابق ان کی امداد سے پاکستان میں مشکل وقت میں لاکھوں لوگوں کی مدد ہوئی۔ڈی ایف آئی ڈی نے ڈیلی میل کی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جبکہ شہزاد اکبر نے اپنے بیان میں زلزلہ متاثرین کی امداد کا ذکر کیے بغیر صرف اتنا کہا کہ ‘ایسا لگ رہا ہے جیسے شاید ترقیاتی منصوبوں اور امداد میں سے کچھ پیسے چرائے گئے۔ اپنی ساکھ کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈی ایف آئی ڈی نے واضع کیا کہ انھوں نے پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا اور برطانیہ اور پاکستان دونوں کے استحکام اور سیکورٹی کو بہتر بنایا جس سے بالآخر برطانیہ کو فائدہ پہنچا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں